وہ مر گئی تھی
اس کے زہری ہونٹ کالے پڑ گئے تھے اس کی آنکھوں میں ادھوری خواہشوں کے دیوتاؤں کے جنازے گڑ گئے تھے اس کے چہرے کی شفق کا رنگ گھائل ہو چکا تھا اس کے جلتے جسم کی خوشبو کا سورج پربتوں کی چوٹیوں سے نیچے گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا تھا اس کی چھاتی پر سلگتے چاند کے سایوں کے پتھر راستہ روکے کھڑے ...