قومی زبان

جبین شوق پر کوئی ہوا ہے مہرباں شاید

جبین شوق پر کوئی ہوا ہے مہرباں شاید پئے سجدہ بلاتا ہے کسی کا آستاں شاید دم نزع وہ آئے اور زیارت ہو گئی ان کی مکمل ہو گئی اب زندگی کی داستاں شاید خزاں کا نام انجام بہاراں کی خبر سن کر گلستاں سے کنارہ کش ہوا ہے باغباں شاید ہنسا کرتے ہیں اکثر لوگ دیوانوں کی باتوں پر جہاں والے نہیں ...

مزید پڑھیے

کارواں عشق کی منزل کے قریں آ پہونچا

کارواں عشق کی منزل کے قریں آ پہونچا خود مرے دل میں مرے دل کا مکیں آ پہونچا میرے ہر سجدے سے لبیک کی آواز آئی آستاں بھی تو مرے نزد جبیں آ پہونچا تیرے دیوانے کو اپنا ہے نہ منزل کا ہے ہوش اپنے مرکز سے چلا اور وہیں آ پہونچا

مزید پڑھیے

حسرت دید رہی دید کا خواہاں ہو کر

حسرت دید رہی دید کا خواہاں ہو کر دل میں رہتے ہیں مگر رہتے ہیں ارماں ہو کر وہ مرے پاس ہیں احساس یہ ہوتا ہے ضرور اس قدر دور ہیں نزدیک رگ جاں ہو کر ہوش میں لانے کی تدبیر نہ کر اے ناصح میں نے پایا ہے انہیں چاک گریباں ہو کر خانۂ دل ہے تمہارا تمہیں رہ سکتے ہو غیر کو حق یہ نہیں ہے رہے ...

مزید پڑھیے

آگے وہ جا بھی چکے لطف نظارہ بھی گیا

آگے وہ جا بھی چکے لطف نظارہ بھی گیا چشم غفلت نہ کھلی صبح کا تارا بھی گیا سرد مہری سے تری گرمئ الفت نہ رہی دل میں اٹھتا تھا جو ہر دم وہ شرارہ بھی گیا دل کے آئینے میں جب آپ کی صورت دیکھی جس کو دھوکا میں سمجھتا تھا وہ دھوکا بھی گیا عشق کو تاب تجلی نہیں کیا دیکھے گا حسن یہ جان کے ...

مزید پڑھیے

سانس کی آنچ ذرا تیز کرو

سانس کی آنچ ذرا تیز کرو کانچ کا جسم پگھل جانے دو لام خالی ہے اسے مت چھیڑو نون کے پیٹ میں نقطہ دیکھو رات کے پردے الٹتے جاؤ چاند کا جسم برہنہ بھی ہو سر اٹھاؤ نہ کنار دریا موج کو سر سے گزر جانے دو خودبخود شاخ لچک جائے گی پھل سے بھرپور تو ہو لینے دو آنکھ کھلتے ہی یہ آواز آئی چور ...

مزید پڑھیے

پہلو کے آر پار گزرتا ہوا سا ہو

پہلو کے آر پار گزرتا ہوا سا ہو اک شخص آئنے میں اترتا ہوا سا ہو جیتا ہوا سا ہو کبھی مرتا ہوا سا ہو اک شہر اپنے آپ سے ڈرتا ہوا سا ہو سارے کبیرہ آپ ہی کرتا ہوا سا ہو الزام دوسرے ہی پہ دھرتا ہوا سا ہو ہر اک نیا خیال جو ٹپکے ہے ذہن سے یوں لگ رہا ہے جیسے کہ برتا ہوا سا ہو قیلولہ کر رہے ...

مزید پڑھیے

دروازہ بند دیکھ کے میرے مکان کا

دروازہ بند دیکھ کے میرے مکان کا جھونکا ہوا کا کھڑکی کے پردے ہلا گیا وہ جان نو بہار جدھر سے گزر گیا پیڑوں نے پھول پتوں سے رستہ چھپا لیا اس کے قریب جانے کا انجام یہ ہوا میں اپنے آپ سے بھی بہت دور جا پڑا انگڑائی لے رہی تھی گلستاں میں جب بہار ہر پھول اپنے رنگ کی آتش میں جل ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی روک سکا خواب کے سفیروں کو

نہ کوئی روک سکا خواب کے سفیروں کو اداس کر گئے نیندوں کے راہگیروں کو وہ موج بن کے اٹھی یاد کے سمندر سے تباہ کر گئی تنہائی کے جزیروں کو لرز کے ٹوٹ گئیں ہفت رنگ دیواریں ہوا چلی تو رہائی ملی اسیروں کو دفینے پاؤں تلے سے گزر گئے کتنے میں دیکھتا ہی رہا ہاتھ میں لکیروں کو

مزید پڑھیے

وسعت دامن صحرا دیکھوں

وسعت دامن صحرا دیکھوں اپنی آواز کو پھیلا دیکھوں ہاتھ میں چاند کو پگھلا دیکھوں خواب دیکھوں کہ خرابہ دیکھوں سطح پر عکس کو بہتا دیکھوں دریا دریا ترا سایہ دیکھوں خود کو دیکھوں ترا چہرہ دیکھوں آئینہ توڑ دوں پھر کیا دیکھوں اپنے سائے کو برہنہ پاؤں ساتھ رسوائی کو ہنستا ...

مزید پڑھیے

بدن پر نئی فصل آنے لگی

بدن پر نئی فصل آنے لگی ہوا دل میں خواہش جگانے لگی کوئی خودکشی کی طرف چل دیا اداسی کی محنت ٹھکانے لگی جو چپ چاپ رہتی تھی دیوار پر وہ تصویر باتیں بنانے لگی خیالوں کے تاریک کھنڈرات میں خموشی غزل گنگنانے لگی ذرا دیر بیٹھے تھے تنہائی میں تری یاد آنکھیں دکھانے لگی

مزید پڑھیے
صفحہ 5691 سے 6203