قومی زبان

محنت سے مل گیا جو سفینے کے بیچ تھا

محنت سے مل گیا جو سفینے کے بیچ تھا دریائے عطر میرے پسینے کے بیچ تھا آزاد ہو گیا ہوں زمان و مکان سے میں اک غلام تھا جو مدینے کے بیچ تھا اصل سخن میں نام کو پیچیدگی نہ تھی ابہام جس قدر تھا قرینے کے بیچ تھا جو میرے ہم سنوں سے بڑا کر گیا مجھے احساس کا وہ دن بھی مہینے کے بیچ تھا کم ...

مزید پڑھیے

سائیکل

اک روز جا رہے تھے کہیں سائیکل سے ہم پہنچے جو ایک موڑ پہ نازل ہوا ستم پیڈل سے سائیکل کے جو پاؤں اکھڑ گئے ہم جا کے ایک شوخ حسینہ سے لڑ گئے سنبھلی جو وہ تو ہتھے سے فوراً اکھڑ گئی گویا ہوئی تو جیسے ہواؤں سے لڑ گئی کہنے لگی کہ اندھے ہیں آتا نہیں نظر یہ حرکتیں جناب کی یہ ریش معتبر پھرتے ...

مزید پڑھیے

جب تمہارے عشق میں میں نے جلائیں انگلیاں

جب تمہارے عشق میں میں نے جلائیں انگلیاں میرے پاگل پن پہ تم نے بھی اٹھائیں انگلیاں چاہتوں کے دائرے جب بے نشاں ہونے لگے پھر مرے خون تمنا میں نہائیں انگلیاں رات پھر ایسا ہوا کہ پیڑ کے سائے تلے یاد آئے تم تمہاری یاد آئیں انگلیاں چاہتوں کے سلسلے جب درمیاں بڑھنے لگے اس نے بالوں میں ...

مزید پڑھیے

محبت مر گئی میری

محبت کے بلند و باگ دعوے سب ہی کرتے ہیں محبت کی اصلی معراج کو کب کوئی سمجھا ہے محبت دل کے اندر جاگزیں نازک سا اک احساس ہوتی ہے محبت کانچ ہوتی ہیں ذرا سی ٹھیس لگنے سے یہ چکنا چور ہوتی ہے محبت ریت ہے ساحل کی کہ ننگے پاؤں جس پر دور تک چلنا بہت تسکین دیتا ہے محبت ٹھنڈے میٹھے پانیوں کا ...

مزید پڑھیے

تلاش

مسجد میں اور مندر میں گرجا گھر کی خاموشی سے حمد و ثنا کے گیتوں تک گردوارے کی بیٹھک میں ڈھولک کی ہر تھاپ سے لے کر لاٹ صاحب کے پاٹ تلک مولویوں کے وعظ سے لے کر پنڈت کے بھجن کے اندر صحراؤں میں دریاؤں میں اس کونے سے اس کونے تک کائنات کے ہر گوشے میں فرش سے لے کر عرش کے منظر نامے تک دیوار ...

مزید پڑھیے

ضمیر خاک شہہ دو سرا میں روشن ہے

ضمیر خاک شہہ دو سرا میں روشن ہے مرا خدا مرے حرف دعا میں روشن ہے وہ آندھیاں تھیں کہ میں کب کا بجھ گیا ہوتا چراغ ذات بھی حمد و ثنا میں روشن ہے میں اپنی ماں کے وسیلے سے زندہ تر ٹھہروں کہ وہ لہو مرے صبر و رضا میں روشن ہے میں بڑھ رہا ہوں ادھر یا وہ آ رہا ہے ادھر وہی خوشی وہی خوشبو ہوا ...

مزید پڑھیے

کبھی وہ خوش بھی رہا ہے کبھی خفا ہوا ہے

کبھی وہ خوش بھی رہا ہے کبھی خفا ہوا ہے کہ سارا مرحلہ طے مجھ سے برملا ہوا ہے نشستیں پر ہیں چراغ و ایاغ روشن ہیں بس ایک میرے نہ ہونے سے آج کیا ہوا ہے اٹھا کے رکھ دو کتاب فراق کو دل میں کہ یہ فسانہ ازل سے مرا سنا ہوا ہے کبھی نہ خالی ملا بوئے ہم نفس سے دماغ تمام باغ میں جیسے کوئی چھپا ...

مزید پڑھیے

وہ اب نمائش سیر و سفر سے باہر ہے

وہ اب نمائش سیر و سفر سے باہر ہے یہ میرے ساتھ مگر رہ گزر سے باہر ہے وہی مقیم ہے جو اپنے گھر سے باہر ہے کہ جتنا سایہ ہے سارا شجر سے باہر ہے مرے خدا یہ تب و تاب صفحہ کیسی ہے جو لکھ رہا ہوں وہ کلک ہنر سے باہر ہے ضمیر خاک کو اب زہر ہی لکھو یعنی علاج اس کا کف چارہ گر سے باہر ہے چلو نماز ...

مزید پڑھیے

سکوت کب سے لب شوق پر ہے کیا کہئے

سکوت کب سے لب شوق پر ہے کیا کہئے کہ دشمن اپنا ہی ذوق نظر ہے کیا کہئے یہ کس کے غم میں رواں چشم تر ہے کیا کہئے ہر اشک دولت برق و شرر ہے کیا کہئے غم مآل محبت ارے معاذ اللہ چراغ شام کو خوف‌ سحر ہے کیا کہئے سنور تو جائیں زمانے کے پیچ و خم لیکن پھری پھری سی تمہاری نظر ہے کیا کہئے دیا ...

مزید پڑھیے

بزم ہستی کو بصد حسرت تعمیر نہ دیکھ

بزم ہستی کو بصد حسرت تعمیر نہ دیکھ شمع سے ربط بڑھا شمع کی تنویر نہ دیکھ سوز فطرت کہیں کاغذ پہ اتر سکتا ہے میرا دل دیکھنے والے مری تصویر نہ دیکھ تیری شرمندہ نگاہی کی قسم ہے تجھ کو کس کے سینے میں اترتی ہے یہ شمشیر نہ دیکھ توڑ سکتا ہے طلسم سحر و شام جنوں طوق گردن پہ نہ جا پاؤں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5677 سے 6203