قومی زبان

بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق

بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق بے زروں کو لعل و زر دیتا ہے عشق کم نہاد و بے ثبات انسان میں جانے کیا کیا جمع کر دیتا ہے عشق کون جانے اس کی الٹی منطقیں ٹوٹے ہاتھوں میں سپر دیتا ہے عشق پہلے کر دیتا ہے سب عالم سیاہ اور پھر اپنی خبر دیتا ہے عشق جان دینا کھیلتے ہنستے ہوئے قتل ہونے کا ہنر ...

مزید پڑھیے

جانے ان آنکھوں نے اس دشت میں دیکھا کیا کیا

جانے ان آنکھوں نے اس دشت میں دیکھا کیا کیا میرے سینے میں کوئی شور اٹھا تھا کیا کیا آج تک پردۂ تعبیر سے باہر نہ ملا اور ہوتا ہے شب و روز تماشا کیا کیا شبنم آثار بھلا چین سے بیٹھا کب ہوں خود کو پھیلاتا رہا آنکھ میں صحرا کیا کیا ہاں وہی رنگ جو ترتیب نہ پایا مجھ میں اپنی آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

نمو تو پہلے بھی تھا اضطراب میں نے دیا

نمو تو پہلے بھی تھا اضطراب میں نے دیا پھر اس کے ظلم و ستم کا جواب میں نے دیا وہ ایک ڈوبتی آواز باز گشت کہ آ سوال میں نے کیا تھا جواب میں نے دیا وہ آ رہا تھا مگر میں نکل گیا کہیں اور سو زخم ہجر سے بڑھ کر عذاب میں نے دیا اگرچہ ہونٹوں پہ پانی کی بوند بھی نہیں تھی سلگتے لمحوں کو ایک ...

مزید پڑھیے

بلند و پست کا ہر دم خیال رکھنا ہے

بلند و پست کا ہر دم خیال رکھنا ہے ہمیشہ ہاتھ میں کار محال رکھنا ہے وہ مجھ سے طالب بیعت ہوا ہے اور مجھے جنوں کے ہاتھ پہ دست سوال رکھنا ہے کوئی تو آ کے گنے گا جراحتیں دل کی ہرا بھرا ہمیں طاق ملال رکھنا ہے مرے چراغ کی لو سے مسابقت کیسی مجھے اسی پہ عروج و زوال رکھنا ہے کہیں تو ختم ...

مزید پڑھیے

تمام ہجر اسی کا وصال ہے اس کا

تمام ہجر اسی کا وصال ہے اس کا میں جی رہا ہوں مگر جان و مال ہے اس کا وہ زینہ زینہ اترنے لگے تو سب بجھ جائے وہ بام پر ہے تو سب ماہ و سال ہے اس کا میں قتل ہو کے بھی شرمندہ اپنے آپ سے ہوں کہ اس کے بعد تو سارا زوال ہے اس کا اگل رہی ہیں خزانے کھلی ہوئی آنکھیں خبر کرو کہ یہ سر پائمال ہے اس ...

مزید پڑھیے

کس کی خلوت سے نکھر کر صبح دم آتی ہے دھوپ

کس کی خلوت سے نکھر کر صبح دم آتی ہے دھوپ کون وہ خوش بخت ہے جس کی ملاقاتی ہے دھوپ دیدنی ہوتا ہے دو رنگوں کا اس دم امتزاج بوندیوں کے ہم جلو ہم رقص جب آتی ہے دھوپ تم تو پیارے چڑھتے سورج کے پرستاروں میں تھے کیوں ہو شکوہ سنج اگر تن کو جلا جاتی ہے دھوپ خوشبوۓ محبوس کو آزاد کرنے کے ...

مزید پڑھیے

تشنگی باقی رہے دیوانگی باقی رہے

تشنگی باقی رہے دیوانگی باقی رہے رنج و غم ہے اس لیے تاکہ خوشی باقی رہے زخم اگر بھر جائے گا تو بھول جاؤں گا اسے یہ دعا دو زخم دل کی تازگی باقی رہے قربتیں بھی دوریوں کا بن گئیں اکثر سبب اس لیے بہتر ہے ان کی بے رخی باقی رہے ٹھہر جانا موت ہے اور چلتے رہنا زندگی زندگی باقی رہے آوارگی ...

مزید پڑھیے

ذکر گاندھی

ایک آدھ سال سے ہے فضا ملک کی کچھ اور غالب صدی کے بعد ہے گاندھی صدی کا دور گاندھی کو کون ایسا ہے جو جانتا نہ ہو عزت کے ساتھ ان کو بڑا مانتا نہ ہو باپو تو ان کو پیار سے کہتے ہیں آج بھی ہر دل پہ سچ جو پوچھئے ہے ان کا راج بھی دم سے انہیں کے دور غلامی ہوا تمام آسانی میں بدل گیا دشوار تھا جو ...

مزید پڑھیے

ابا کی عینک

کیا کر رہی ہیں آپ یہاں جلد آئیے امی کہاں ہے ابا کی عینک بتائیے رکھ کر یہیں کہیں اسے بھولے ہیں دیکھیے جھولے میں اتفاق کے جھولے ہیں دیکھیے کیجے جو کوئی بات تو جھنجھلا رہے ہیں وہ کالج کا وقت ہو گیا جھلا رہے ہیں وہ ان کی نظر میں اپنی ہی ہر چیز غیر ہے تکیہ ہے اپنی جا پہ نہ چادر بخیر ...

مزید پڑھیے

چھبیس جنوری

آج پھر ہے ہمیں خوشی اے دوست آئی چھبیس جنوری اے دوست یعنی تاریخ وہ کہ جب بھارت پا گیا اپنی گم شدہ دولت ہم زمانہ میں باریاب ہوئے اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے آخر ہم نے بدل لیں تقدیریں توڑ کر بندگی کی زنجیریں اپنی کوشش سے بہرہ مند ہوئے ساری دنیا میں سر بلند ہوئے خوش ہوئے شاد کہے جانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5676 سے 6203