قومی زبان

ظلمات

جس طرح کسی مفلس کی تقدیر کا ستارہ بہت دور کہیں تاریک راہوں میں بھٹک کر دم توڑ رہا ہو شام ہوتے ہی اس دیار کا چپہ چپہ گھپ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے ایسے میں سماعت سے سرگوشیاں کرتے ہوئے سناٹے اندھیروں کو کوستے ہوئے لمحات دور سے آتی ہوئی کسی بے بس کی پکار جب احساس سے ٹکراتی ہے تو ...

مزید پڑھیے

خود کلامی

میرے رخسار پہ جو ہلکی ہلکی جھریاں آ گئی ہیں یقیناً اس کو بھی آ گئی ہوگی زندگی کے سفر میں عمر کے جس ڈھلان پر میں کھڑا ہوں یقیناً وہ بھی وہیں آ گیا ہوگا روز و شب کے مد و جزر رنج و غم آنسو و خوشی سرد گرم صبح و شام سے الجھتے ہوئے چڑھتی عمر کا وہ چلبلا پن جو اب سنجیدگی میں ڈھل چکا ہے عین ...

مزید پڑھیے

تلاش

یوں لگتا ہے پچھلے کچھ سالوں سے شب کی سیاہی گہری ہو گئی ہے شاید ایک لمحے کو دوسرا لمحہ بھی نہیں سوجھتا ذی فہم دانشور اپنے احساس پہ لگے زخموں کو ماہ و انجم بنائے کسی جدید سورج کے طلوع ہونے کے منظر معصوم جیالے اپنے زخموں کو سنبھالے نئے وار سے بچنے کی تلاش میں کوئی کسی کے دوستی ...

مزید پڑھیے

تخلیق

کئی دنوں سے کسی بہانے دل بہلتا ہی نہیں یوں لگتا ہے جیسے ذہن کے گوشے میں پھر ہلچل ہونے والی ہے کوئی پرندہ توڑ کے پنجرہ دور پہنچنے والا ہے شاید کسی سیارے پر اک دنیا بسنے والی ہے

مزید پڑھیے

سیروگیٹ مدر

رفتہ رفتہ معاف کرنے کا چلن مدھم پڑتا جا رہا ہے کیا تمہیں یقیں نہیں کہ بدلتے ہوئے لمحوں کی چکی میں اخلاقیات روایات اور قدریں پس رہی ہیں آج ہمارا معاشرہ بے غیرتی کے اس سنگم پر کھڑا ہے جہاں عورت کی پاکیزہ کوکھ کرائے پر لینے کے لئے سودے بازی ہو رہی ہے ہماری بے حسی نے ہمارے لبوں پر ...

مزید پڑھیے

کیا یہ ممکن ہے

سرخ ہونٹوں کے اثر سے اداس راتوں کے بے قرار لمحوں میں جب کبھی یادوں کے آسیب ذہن پہ اپنے وجود کے مہر لگاتے ہیں تو دل کسی اجنبی مستقبل کے امکان سے گھبرانے لگتا ہے سوچوں کی بلندی سے سرگوشیوں کی صدائیں خیال کو تھپتھپا کر سوال کرتی ہیں کیا پیکر اپنے سائے کی حد سے نکل کر کسی نئے جہاں کی ...

مزید پڑھیے

ہر شاخ پہ تھی وفا کی قندیل (ردیف .. ے)

ہر شاخ پہ تھی وفا کی قندیل اے شہر بتا کہاں وہ بن ہے بجتی ہوئی خون کی روانی خواہش کی گرفت میں بدن ہے لڑتے لڑتے بکھر گئے ہیں اب جو بھی جہاں ہے نعرہ زن ہے ہر جہت مجھے پکارتی ہے ہر سمت وہ رنگ پیرہن ہے لیتا ہے وجود گرم سانسیں ایک شعلۂ شوق وہ بدن ہے یہ کون دھنک نہا کے نکلی گل بوٹا چمن ...

مزید پڑھیے

میری آہوں سے جلا چاہتا ہے

میری آہوں سے جلا چاہتا ہے آسماں رد بلا چاہتا ہے مجھ کو تو مرضیٔ مولا اولیٰ اور دل سب کا بھلا چاہتا ہے برش تیغ نہ میلی ہو جائے با صفا ہوں وہ گلا چاہتا ہے آئنہ ہو گیا آئینہ سرشت یعنی وہ مجھ میں ڈھلا چاہتا ہے موج در موج گلستاں سارا میرے دامن پہ کھلا چاہتا ہے بوریے کو کہا سامان ...

مزید پڑھیے

یہ اک اور ہم نے قرینہ کیا

یہ اک اور ہم نے قرینہ کیا در یار تک دل کو زینہ کیا بدل دی ہے سب صورت آب و خاک مگر جب لہو کو پسینہ کیا وہ کشتی سے دیتے تھے منظر کی داد سو ہم نے بھی گھر کا سفینہ کیا کہاں ہم تک آیا کوئی راز جو کہاں ہم نے دل کو دفینہ کیا فقیروں کا یہ بھی طلسمات ہے لہو رنگ کو آبگینہ کیا چمکنے لگا پھر ...

مزید پڑھیے

نقش یقیں ترا وجود وہم بجھا گماں بجھا

نقش یقیں ترا وجود وہم بجھا گماں بجھا کار حبیب کے طفیل روزن رائیگاں بجھا فرد سیاہ کو مری نوک سناں پہ لائے تھے ان کی نگاہ پڑ گئی عرصۂ امتحاں بجھا مست روی کے درمیاں کون قدم قدم گنے مشعل دل کہاں جلی شعلۂ جاں کہاں بجھا میرے جنوں کا سلسلہ مرحلہ وار ہو گیا پہلے زمین بجھ گئی بعد میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5674 سے 6203