جگا جنوں کو ذرا نقشۂ مقدر کھینچ
جگا جنوں کو ذرا نقشۂ مقدر کھینچ نئی صدی کو نئی کربلا سے باہر کھینچ میں ذہنی طور پہ آوارہ ہوتا جاتا ہوں مرے شعور مجھے اپنی حد کے اندر کھینچ نئی زمین لہو کا خراج لیتی ہے دیار غیر میں بھی خوش نما سا منظر کھینچ اداس رات میں تارے گواہ بنتے ہیں رگ حباب سے تو قاتلانہ خنجر کھینچ ابھی ...