قومی زبان

یہ جو سورج ہے یہ سورج بھی کہاں تھا پہلے

یہ جو سورج ہے یہ سورج بھی کہاں تھا پہلے برف سے اٹھتا ہوا ایک دھواں تھا پہلے مجھ سے آباد ہوئی ہے تری دنیا ورنہ اس خرابے میں کوئی اور کہاں تھا پہلے ایک ہی دائرے میں قید ہیں ہم لوگ یہاں اب جہاں تم ہو کوئی اور وہاں تھا پہلے اس کو ہم جیسے کئی مل گئے مجنوں ورنہ عشق لوگوں کے لیے کار ...

مزید پڑھیے

چپ چاپ نکل آئے تھے صحرا کی طرف ہم

چپ چاپ نکل آئے تھے صحرا کی طرف ہم چلتے ہوئے کیا دیکھتے دنیا کی طرف ہم پامال کئے جاتی ہے اس واسطے دنیا بیٹھے ہیں ترے نقش کف پا کی طرف ہم کس پیاس سے خالی ہوا مشکیزہ ہمارا دریا سے جو اٹھ آئے ہیں صحرا کی طرف ہم کیا چاہتی ہے نیت بازار زمانہ کھنچتے چلے جاتے ہیں جو اشیا کی طرف ہم یہ ...

مزید پڑھیے

تیری دنیا سے یہ دل اس لیے گھبراتا ہے

تیری دنیا سے یہ دل اس لیے گھبراتا ہے اس سرائے میں کوئی آتا کوئی جاتا ہے تو نے کیا دل کی جگہ رکھا ہے پتھر مجھ میں غم سے بھر جاؤں بھی تو رونا نہیں آتا ہے وہ مرے عشق کی گہرائی سمجھتا ہی نہیں راستہ دور تلک جائے تو بل کھاتا ہے پھر بھلا کس کے لیے اتنی چمکتی ہے یہ ریت کوئی دریا بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

مثال برگ کسی شاخ سے جھڑے ہوئے ہیں

مثال برگ کسی شاخ سے جھڑے ہوئے ہیں اسی لیے تو ترے پاؤں میں پڑے ہوئے ہیں زمیں نے اونچا اٹھایا ہوا ہے ورنہ دوست ہوا میں گھاس کے تنکے کہاں پڑے ہوئے ہیں کسی نے میری زمیں چھان کر نہیں دیکھی وگرنہ کتنے ستارے یہاں پڑے ہوئے ہیں یہاں سروں پہ یوں ہی برف آ پڑی ورنہ بڑے بھی عمر سے اپنی کہاں ...

مزید پڑھیے

ساتھ تھا اتنا بس اور بس

ساتھ تھا اتنا بس اور بس ایک یا دو برس اور بس چاہتیں ہیں یہ کیا آج کل کالس کیں آٹھ دس اور بس تو منانا ہے اس کو تجھے پیار کی تھام نس اور بس عصمتیں لٹ رہی ہیں یہ کیوں اک ذرا سی ہوس اور بس تھا ملا وہ مجھے اس طرح چرسی کو جوں چرس اور بس ڈر کسی کو نہیں ہوگا کیا چند روزہ قفس اور بس

مزید پڑھیے

کون ہے بچ گیا جو الفت سے

کون ہے بچ گیا جو الفت سے اب خدا ہی بچائے تہمت سے ہو گئی ہے ہوا بھی زہریلی لے نہیں سکتے سانس راحت سے تم مرے سامنے رہو کچھ وقت آنکھ بھر دیکھ لوں محبت سے تو مری دلبری بھی دیکھے گا آ کبھی مجھ کو ملنے فرصت سے مدتوں ساتھ وہ رہا میرے کچھ بدلتا نہیں ہے صحبت سے بانٹتے ہیں محبتیں ہر ...

مزید پڑھیے

زخم سیتے ہوئے مسکراتے ہوئے

زخم سیتے ہوئے مسکراتے ہوئے سال گزرا ہے ضبط آزماتے ہوئے اس نے روکا مجھے شہر سے آتے وقت میں بھی رویا بہت گاؤں جاتے ہوئے عکس تیرا ہی دیکھا ہے میں نے صنم آج بھی بال اپنے بناتے ہوئے اشک بہنے لگے تیز دھڑکن ہوئی اک غزل میرؔ کی گنگناتے ہوئے شہر پیارا ہے تم کو کہ تم نے کبھی کھیت دیکھے ...

مزید پڑھیے

ہے خواہش مری یہ پکارو کبھی تم

ہے خواہش مری یہ پکارو کبھی تم سنو تو کہو بھی ارے تم اجی تم بھٹکتا رہا میں یہاں واں ہمیشہ مرا دل گیا واں جہاں بھی گئی تم جہاں بھی میں جاؤں ترا ساتھ چاہوں مجھے ہو گئی ہر جگہ لازمی تم میسر نہیں اک کھڑی چین مجھ کو مجھے یاد آتی رہی ہر کھڑی تم کرایہ تو دو کچھ محبت کا مجھ کو جو مدت سے ...

مزید پڑھیے

وفا کم ہے نظر آتی بہت ہے

وفا کم ہے نظر آتی بہت ہے بڑے شہروں میں دانائی بہت ہے ہمارے پاؤں میں پتھر بندھے ہیں تری آنکھوں میں گہرائی بہت ہے بنانے کو ہمالہ نفرتوں کے غلط فہمی کی اک رائی بہت ہے نظر میں کس کی ہے پاکیزگی اب کہ اس تالاب میں کائی بہت ہے ہمارا ساتھ رہنا بھی ہے مشکل بچھڑنے میں بھی رسوائی بہت ...

مزید پڑھیے

نقصان ہو رہا ہے بہت کاروبار میں

نقصان ہو رہا ہے بہت کاروبار میں ابا پڑے ہیں جب سے پڑوسن کے پیار میں سو کوششوں سے آئے تھے چندیا پہ چار بال دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں نا اہل ہی ملی مجھے ہر ایک اہلیہ میں نے کیے نکاح سب یارو ادھار میں بنتی نہ سرمہ پسلیاں اور پھوٹتا نہ سر ہوتی اگر زبان مرے اختیار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5612 سے 6203