قومی زبان

نیند آئی نہ کھلا رات کا بستر مجھ سے

نیند آئی نہ کھلا رات کا بستر مجھ سے گفتگو کرتا رہا چاند برابر مجھ سے اپنا سایہ اسے خیرات میں دے آیا ہوں دھوپ کے ڈر سے جو لپٹا رہا دن بھر مجھ سے کون سی ایسی کمی میرے خد و خال میں ہے آئنہ خوش نہیں ہوتا کبھی مل کر مجھ سے کیا مصیبت ہے کہ ہر دن کی مشقت کے عوض باندھ جاتا ہے کوئی رات کا ...

مزید پڑھیے

میں خود کو اس لیے منظر پہ لانے والا نہیں

میں خود کو اس لیے منظر پہ لانے والا نہیں کہ آئنہ مری صورت دکھانے والا نہیں ترے فلک کا اگر چاند بجھ گیا ہے تو کیا دیا زمیں پہ بھی کوئی جلانے والا نہیں سمندروں کی طرف جا رہا ہوں جلتا ہوا کہ میری آگ کو بادل بجھانے والا نہیں یہ کون نیند میں آکر سرہانے بیٹھ گیا میں اپنا خواب کسی کو ...

مزید پڑھیے

سب کو بتا رہا ہوں یہی صاف صاف میں

سب کو بتا رہا ہوں یہی صاف صاف میں جلتے دیے سے کیسے کروں انحراف میں میں نے تو آسمان کے رنگوں کی بات کی کہنے لگی زمین بدل دوں غلاف میں گمراہ کب کیا ہے کسی راہ نے مجھے چلنے لگا ہوں آپ ہی اپنے خلاف میں ملتا نہیں ہے پھر بھی سرا آسمان کا کر کر کے تھک چکا ہوں زمیں کا طواف میں اب تو بھی ...

مزید پڑھیے

میں سن رہا ہوں جو دنیا سنا رہی ہے مجھے

میں سن رہا ہوں جو دنیا سنا رہی ہے مجھے ہنسی تو اپنی خموشی پہ آ رہی ہے مجھے مرے وجود کی مٹی میں زر نہیں کوئی یہ اک چراغ کی لو جگمگا رہی ہے مجھے یہ کیسے خواب کی خواہش میں گھر سے نکلا ہوں کہ دن میں چلتے ہوئے نیند آ رہی ہے مجھے کوئی سہارا مجھے کب سنبھال سکتا ہے مری زمین اگر ڈگمگا رہی ...

مزید پڑھیے

آئی تھی اس طرف جو ہوا کون لے گیا

آئی تھی اس طرف جو ہوا کون لے گیا خالی پڑا ہے طاق دیا کون لے گیا اس شہر میں تو کوئی سلیمان بھی نہیں میں کیا بتاؤں تخت سبا کون لے گیا دشمن عقب میں آ بھی گیا اور ابھی تلک تم کو خبر نہیں ہے عصا کون لے گیا اپنے بدن سے لپٹا ہوا آدمی تھا میں مجھ سے چھڑا کے مجھ کو بتا کون لے گیا گوہرؔ یہ ...

مزید پڑھیے

شکست کھا کے بھی کب حوصلے ہیں کم میرے

شکست کھا کے بھی کب حوصلے ہیں کم میرے مرے کٹے ہوئے ہاتھوں میں ہیں علم میرے پناہ گاہ مجھے بھی تو ثور جیسی دے مری تلاش میں دشمن ہیں تازہ دم میرے تجھے میں کیسے بتاؤں کہاں سے کیسا ہوں الجھ رہے ہیں بدستور پیچ و خم میرے کس آسمان کی وسعت تلاش کرتے ہوئے زمیں سے دور نکل آئے ہیں قدم ...

مزید پڑھیے

اسی لیے بھی نئے سفر سے بندھے ہوئے ہیں

اسی لیے بھی نئے سفر سے بندھے ہوئے ہیں کہ ہم پرندے تو بال و پر سے بندھے ہوئے ہیں تمہیں ہی صحرا سنبھالنے کی پڑی ہوئی ہے نکل کے گھر سے بھی ہم تو گھر سے بندھے ہوئے ہیں کسی نے دن میں تمام چھاؤں اتار لی ہے یہ برگ و گل تو یوں ہی شجر سے بندھے ہوئے ہیں یہاں بھلا کون اپنی مرضی سے جی رہا ...

مزید پڑھیے

زمیں سے آگے بھلا جانا تھا کہاں میں نے

زمیں سے آگے بھلا جانا تھا کہاں میں نے اٹھائے رکھا یوں ہی سر پہ آسماں میں نے کسی کے ہجر میں شب سے کلام کرتے ہوئے دیے کی لو کو بنایا تھا ہم زباں میں نے شجر کو آگ کسی اور نے لگائی تھی نہ جانے سانس میں کیوں بھر لیا دھواں میں نے کبھی تو آئیں گے اس سمت سے گلاب و چراغ یہ نہر یوں ہی نکالی ...

مزید پڑھیے

دیر تک کوئی کسی سے بدگماں رہتا نہیں

دیر تک کوئی کسی سے بدگماں رہتا نہیں وہ وہاں آتا تو ہوگا میں جہاں رہتا نہیں ایک میں ہوں دھوپ میں کتنا سفر طے کر لیا ایک تو ہے جو کبھی بے سائباں رہتا نہیں تم کو کیوں پیڑوں پہ لکھے نام مٹنے کا ہے دکھ اس بدلتی رت میں پتھر پر نشاں رہتا نہیں وہ بنا لیتا ہے اپنا گھونسلہ دیوار میں جس ...

مزید پڑھیے

ہر آئنے میں ترا ہی دھواں دکھائی دیا

ہر آئنے میں ترا ہی دھواں دکھائی دیا مرا وجود ہی مجھ کو کہاں دکھائی دیا یہ کیسی دھوپ کے موسم میں گھر سے نکلا ہوں کہ ہر پرندہ مجھے سائباں دکھائی دیا میں اپنی لہر میں لپٹا ہوا سمندر ہوں میں کیا کروں جو ترا بادباں دکھائی دیا کہا ہی تھا کہ سلام اے امام عالی مقام ہماری پیاس کو آب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5611 سے 6203