نیند آئی نہ کھلا رات کا بستر مجھ سے
نیند آئی نہ کھلا رات کا بستر مجھ سے گفتگو کرتا رہا چاند برابر مجھ سے اپنا سایہ اسے خیرات میں دے آیا ہوں دھوپ کے ڈر سے جو لپٹا رہا دن بھر مجھ سے کون سی ایسی کمی میرے خد و خال میں ہے آئنہ خوش نہیں ہوتا کبھی مل کر مجھ سے کیا مصیبت ہے کہ ہر دن کی مشقت کے عوض باندھ جاتا ہے کوئی رات کا ...