قومی زبان

رک دیکھ یار کھینچ لے تصویر وقت پر

رک دیکھ یار کھینچ لے تصویر وقت پر اخروٹ توڑتی ہے گلہری درخت پر شاید کہیں سے ابر کرم کا ظہور ہو دریا پہ ایک آنکھ لگا ایک دشت پر کھڑکی میں صبح وادیٔ کیلاش کا ظہور اترے اودھ کی شام کسی روز تخت پر رتھ سے ہتھیلیوں پہ اترتی ارے غضب مخمل گھسیٹتی ہے زمین کرخت پر گل سرخ رنگ گھاس ہری ...

مزید پڑھیے

تو زبان دہلی و لاہور کا پروردگار

تو زبان دہلی و لاہور کا پروردگار میں سکوت گلگت و اسکر دو پارہ چنار بکریاں روز ازل سے کوہ کی رستہ شناس اے سنہری زین والے نقرئی رتھ کے سوار گلشن اظہار کے دو خسرو و سرمست پھول رنگ سے روشن زمین ہند از تا کوہسار یار ہم دو مختلف دنیاؤں کے تشریح گر تو کسی فرقے کا شاعر میں لسان ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہیں امکان کے مینارے پر

اس سے پہلے کہیں امکان کے مینارے پر ہم ملے ہوں گے کسی دوسرے سیارے پر یار لبریز نگاہوں سے زیارت تیری روشنی آئے گرے چشم کے اندھیارے پر آ تحیر کے کسی باغ اتر جاتے ہیں اور ملتے ہیں کمالات کے فوارے پر منظر مصر میں یعقوب کو یوسف دیکھے یوں رہے آنکھ ترے حسن کے نظارے پر ہاتھ آ جائے تبسم ...

مزید پڑھیے

خلق سے پہلے بتا دے کیا ترا موضوع ہے

خلق سے پہلے بتا دے کیا ترا موضوع ہے چترکارا سن یہاں تازہ کشی ممنوع ہے پھول نظارے سے آگے روشنی کرنے کی شے رنگ کی کاری گری میں آگ بھی مجموع ہے دشت میں اے شہہ تری ہرگز عمل داری نہیں یہ عزا خانہ دیار حکم سے مرفوع ہے زائچہ سازا ہمارے خواب کی تقطیع کر فال گیرا یہ بتا کیا اب دعا مسموع ...

مزید پڑھیے

زنجیروں سے بندھا ہوا ہر ایک یہودی تکتا تھا

زنجیروں سے بندھا ہوا ہر ایک یہودی تکتا تھا کوسوں دور سے بابل کا روشن مینار چمکتا تھا غار کی رنگیں تصویروں کو اور زمانے دیکھیں گے ہم نے بس وہ نقش کیا جو اس لمحے بن سکتا تھا اک شفاف دریچے میں کچھ رنگ برنگے منظر تھے گل دانوں میں پھول فروزاں آتش دان بھڑکتا تھا میں جس مسند پر تھا وہ ...

مزید پڑھیے

سوکھے پھولوں کو بھی گلدان میں رکھا ہوا ہے

سوکھے پھولوں کو بھی گلدان میں رکھا ہوا ہے شاہزادی نے ہمیں دھیان میں رکھا ہوا ہے حالت ہجر پے تہمت نہ لگا اے دنیا میں نے اس شخص کو امکان میں رکھا ہوا ہے کافی تاخیر سے جاگی ہے محبت تیری اب کوئی اور مری جان میں رکھا ہوا ہے غور سے سوچیں تو ہر شخص ہے صیاد یہاں سب نے ہی روح کو زندان میں ...

مزید پڑھیے

حسن پری ہو ساتھ اور بے موسم کی بارش ہو جائے

حسن پری ہو ساتھ اور بے موسم کی بارش ہو جائے چھتری کون خریدے گا پھر جتنی بارش ہو جائے ایسی پیاس کی شدت ہے کہ میں یہ دعائیں کرتا ہوں جتنے سمندر ہیں دنیا میں سب کی بارش ہو جائے میری غزلیں اس کے ساتھ بتائے وقت کا حاصل ہیں ویسی فصلیں اگ آتی ہیں جیسی بارش ہو جائے چھوٹے چھوٹے تالابوں ...

مزید پڑھیے

وہ تو شکر کرو تم میٹھا لہجہ ہے شہزادی کا

وہ تو شکر کرو تم میٹھا لہجہ ہے شہزادی کا جس کو پیار سمجھتے ہو وہ غصہ ہے شہزادی کا میں نے ساری دنیا میں بس ایک حسینہ دیکھی ہے باقی کوئی حسن نہیں ہے چربہ ہے شہزادی کا دیکھنے والے سوچ رہے ہیں میرے منہ میں سگریٹ ہے میں کہنے میں شرماتا ہوں بوسہ ہے شہزادی کا جب میں اس کا ہوں تو پوچھتے ...

مزید پڑھیے

سفارشوں کے بجائے ہنر سے جانا گیا

سفارشوں کے بجائے ہنر سے جانا گیا پرندہ پیڑ نہیں بال و پر سے جانا گیا کسی کا ہونا کسی کی نظر سے جانا گیا مرا مکان تری رہ گزر سے جانا گیا مجھے ملایا تھا اک روز تم نے مٹی میں نتیجہ یہ ہوا میں پھر شجر سے جانا گیا جہاں پہ بولتے رہنا دلیل علم کی تھی وہاں میں گفتگوئے مختصر سے جانا ...

مزید پڑھیے

باندھے اگر جو دنیا کسی ڈور سے مجھے

باندھے اگر جو دنیا کسی ڈور سے مجھے تو کھینچ لینا اپنی طرف زور سے مجھے کچھ بول اور کاٹ دے خاموشیوں کا جال وحشت ہے یار اتنے گھنے شور سے مجھے داخل ہوں تیرے دل میں دبے پاؤں کس طرح یہ کام سیکھنا ہے کسی چور سے مجھے وے پوچھے میری خواہشیں تو میں اسے کہوں اک وعدہ چاہیئے تھا تری اور سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5536 سے 6203