نہیں آسماں تری چال میں نہیں آؤں گا
نہیں آسماں تری چال میں نہیں آؤں گا میں پلٹ کے اب کسی حال میں نہیں آؤں گا مری ابتدا مری انتہا کہیں اور ہے میں شمارۂ مہ و سال میں نہیں آؤں گا ابھی اک عذاب سے ہے سفر اک عذاب تک ابھی رنگ شام زوال میں نہیں آؤں گا وہی حالتیں وہی صورتیں ہیں نگاہ میں کسی اور صورت حال میں نہیں آؤں ...