قومی زبان

نہیں آسماں تری چال میں نہیں آؤں گا

نہیں آسماں تری چال میں نہیں آؤں گا میں پلٹ کے اب کسی حال میں نہیں آؤں گا مری ابتدا مری انتہا کہیں اور ہے میں شمارۂ مہ و سال میں نہیں آؤں گا ابھی اک عذاب سے ہے سفر اک عذاب تک ابھی رنگ شام زوال میں نہیں آؤں گا وہی حالتیں وہی صورتیں ہیں نگاہ میں کسی اور صورت حال میں نہیں آؤں ...

مزید پڑھیے

سر بسر پیکر اظہار میں لاتا ہے مجھے

سر بسر پیکر اظہار میں لاتا ہے مجھے اور پھر خود ہی تہ خاک چھپاتا ہے مجھے کب سے سنتا ہوں وہی ایک صدائے خاموش کوئی تو ہے جو بلندی سے بلاتا ہے مجھے رات آنکھوں میں مری گرد سیہ ڈال کے وہ فرش بے خوابئ وحشت پہ سلاتا ہے مجھے گم شدہ میں ہوں تو ہر سمت بھی گم ہے مجھ میں دیکھتا ہوں وہ کدھر ...

مزید پڑھیے

فیروزی تسبیح کا گھیرا ہاتھ میں جلوہ افگن تھا

فیروزی تسبیح کا گھیرا ہاتھ میں جلوہ افگن تھا نارنجی شمعوں سے حجرہ خیر کی شب میں روشن تھا راہ رووں نے دشت سفر میں ہر امید سنواری تھی رنج کی راہ پہ چلنے والوں کا ہر خواب مزین تھا رات ہوئی ہے خیمہ تو ناقہ سے اتارا جائے گا دیپ کہاں رکھا ہے جس میں کچھ زیتون کا روغن تھا رنگوں کی یہ ...

مزید پڑھیے

جشن مناؤ رونے والے گریہ بھول کے مست رہیں

جشن مناؤ رونے والے گریہ بھول کے مست رہیں سارنگی کے تیر سماعت میں امشب پیوست رہیں ایرانی غالیچے کے چو گرد نشستیں قائم ہوں کافوری شمعوں سے روشن پیہم اہل ہست رہیں کسوایا جائے گھوڑوں سے لکڑی کے پہیوں کا رتھ طبل علم اسوار پیادے سارے بندوبست رہیں رنگ سپید و سیاہ سنہری سب شکلوں میں ...

مزید پڑھیے

شیراز کی مے مرو کے یاقوت سنبھالے

شیراز کی مے مرو کے یاقوت سنبھالے میں کوہ دماوند سے آ پہنچا ہمالے ہووے تو رہے شیشہ و آہن کی حکومت کانسی کی مری تیغ ہے مٹی کے پیالے ہر شخص بہ انداز دگر واصل شک تھا اٹھا میں تری بزم سے ایقان سنبھالے اب عشق نوردی ہی ٹھکانے سے لگائے شعلہ نہ جلائے مجھے گرداب اچھالے ہونے کی خبر بھی ...

مزید پڑھیے

گاتھا پڑھ کر آتش دھونکی گنگا سے اشنان

گاتھا پڑھ کر آتش دھونکی گنگا سے اشنان میں نے ہر یگ نذر گزاری ہر پیڑھی میں دان دھیان لگا کر آنکھیں موندیں بیٹھا گھٹنے ٹیک میٹھا لفظ بھجن بن اترا سچا شعر گنان ماں دھرتی کو پیش‌‌‌ سخن کے رنگ برنگے پھول بھاگ بھری کو بھینٹ سنہرے مصرعے کا لوبان سایہ سچل شاہ کی اجرک روشن میر ...

مزید پڑھیے

وجد کرتی اک دعا کچے مکانوں سے اٹھی

وجد کرتی اک دعا کچے مکانوں سے اٹھی روشنی تسبیح کے رنگین دانوں سے اٹھی سرخ آفت سے مزین تختۂ گل کی سحر شب کو نارنجی قیامت شمع دانوں سے اٹھی سبزہ و گل سب اچانک نیلگوں ہونے لگے یک بہ یک جب زرد ماٹی آسمانوں سے اٹھی لاد لانے کے لئے سرسبز انگوروں کا رس حکم آتے ہی مگس چھتے کے خانوں سے ...

مزید پڑھیے

گیروے کپڑے بدن پر ہاتھ لوہے کے کڑے

گیروے کپڑے بدن پر ہاتھ لوہے کے کڑے لے ملامت دار صوفی در پہ تیرے آ پڑے اختیارات دیار دہر حاصل ہوں مجھے مہر سے سونا کشیدوں ماہ سے چاندی جھڑے بھیج دے مجھ کو جہان حسیات و لمس میں شور سے الجھے سماعت آنکھ سے منظر لڑے سرخ اینٹوں کی گلی تک جائیں ہم دیوانہ وار دفعتاً اپنی نگہ اس کے ...

مزید پڑھیے

حکم دے قرطاس پر رنگیں نظارہ پھونک دوں

حکم دے قرطاس پر رنگیں نظارہ پھونک دوں مصرع تر میں سنہرا استعارہ پھونک دوں رمز کی بارہ دری میں ضبط واجب گر نہ ہو میں تیقن سے تعجب کا منارہ پھونک دوں مشتری کا تاج پہنے زحل پر اسوار ہوں گاہ سیارہ جلاؤں گاہ تارا پھونک دوں ہاں اسی دریا تلے آئندگاں کا شہر ہے آتشیں لب سے اگر پانی کا ...

مزید پڑھیے

خشک روٹی توڑنی ہے سرد پانی چاہیے

خشک روٹی توڑنی ہے سرد پانی چاہیے کیا کسی گرجے کی کنڈی کھٹکھٹانی چاہیے اے سماعت اس فضا میں آج بھی موجود ہے ہاں نواے نغمۂ کن تجھ کو آنی چاہیے کاہنا ہم سے روایت کا مکمل متن سن بطن میں جلتی ہوئی شمع‌ معانی چاہیے سابقہ نقشے پہ تازہ سلطنت ایجاد ہو آسماں نیلا بنانا گھاس دھانی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5535 سے 6203