اور تو خیر کیا رہ گیا
اور تو خیر کیا رہ گیا ہاں مگر اک خلا رہ گیا غم سبھی دل سے رخصت ہوئے درد بے انتہا رہ گیا زخم سب مندمل ہو گئے اک دریچہ کھلا رہ گیا رنگ جانے کہاں اڑ گئے صرف اک داغ سا رہ گیا آرزوؤں کا مرکز تھا دل حسرتوں میں گھرا رہ گیا رہ گیا دل میں اک درد سا دل میں اک درد سا رہ گیا زندگی سے تعلق ...