قومی زبان

ویرانی کے بادل چھانے لگ گئے ہیں

ویرانی کے بادل چھانے لگ گئے ہیں پنچھی اب اس گاؤں سے جانے لگ گئے ہیں اس کو جب سے دیکھا مجھ کو ہوش نہیں یارو میرے ہوش ٹھکانے لگ گئے ہیں شہر سے آئے مجنوں نے اک بات کہی اور دیوانے خاک اڑانے لگ گئے ہیں ساقی تیرے ایک اشارہ کرنے پر مے کش بھی اذان سنانے لگ گئے ہیں ہم نے اب اک اور محبت ...

مزید پڑھیے

تیرا خیال جاں کے برابر لگا مجھے

تیرا خیال جاں کے برابر لگا مجھے تو میری زندگی ہے یہ اکثر لگا مجھے دریا ترے جمال کے ہیں کتنے اس میں گم سوچا تو اپنا دل بھی سمندر لگا مجھے لوٹا جو اس نے مجھ کو تو آباد بھی کیا اک شخص رہزنی میں بھی رہبر لگا مجھے کیا بات تھی کہ قصۂ فرہاد کوہ کن اپنی ہی داستان‌‌ سراسر لگا مجھے آمد ...

مزید پڑھیے

خوش رنگ کس قدر خس و خاشاک تھے کبھی

خوش رنگ کس قدر خس و خاشاک تھے کبھی ذرے بھی زیب و زینت افلاک تھے کبھی اب ڈھونڈتے ہیں راہ تخاطب کے سلسلے کیا ہم وہی ہیں تم سے جو بے باک تھے کبھی گو دے سکے نہ سوز دروں کا ہمارے ساتھ یہ دیدہ ہائے خشک بھی نمناک تھے کبھی کچھ اور بھی عزیز ہوئی ہیں نشانیاں دامن وہ تار تار ہیں جو چاک تھے ...

مزید پڑھیے

حسن ہی کے دم سے ہیں یہ کہانیاں ساری

حسن ہی کے دم سے ہیں یہ کہانیاں ساری عشق ہی سکھاتا ہے خوش بیانیاں ساری خواب اور خوشبو کو چاہتوں کے جادو کو قید کر کے دکھلائیں پاسبانیاں ساری دل کی دھڑکنوں پر ہے انحصار افسانہ ایک سی نہیں ہوتیں نوجوانیاں ساری اک تبسم پنہاں اک نگاہ دزدیدہ اور پھر کہانی تھیں سر گرانیاں ساری یاد ...

مزید پڑھیے

سزا ہے کس کے لیے اور جزا ہے کس کے لیے

سزا ہے کس کے لیے اور جزا ہے کس کے لیے پتا نہیں در زنداں کھلا ہے کس کے لیے صراحئ مئے ناب و سفینہ ہائے غزل یہ حرف‌ حسن مقدر لکھا ہے کس کے لیے فقط شنید ہے اب تک جو دید ہو تو بتائیں بہار سبزہ و رقص صبا ہے کس کے لیے نہیں جو اپنے لیے باوجود ذوق نظر صحیفۂ رخ و رنگ حنا ہے کس کے لیے مٹا ...

مزید پڑھیے

مرے خوابوں میں خیالوں میں مرے پاس رہو

مرے خوابوں میں خیالوں میں مرے پاس رہو تم مرے سارے سوالوں میں مرے پاس رہو میرے قاتل مرے دل دار مسیحا میرے زخم و مرہم کے حوالوں میں مرے پاس رہو شمع رخسار لیے گیسوئے خم دار لیے سب اندھیروں میں اجالوں میں مرے پاس رہو کبھی خوشبو کبھی سایہ کبھی پیکر بن کر سبھی ہجروں میں وصالوں میں ...

مزید پڑھیے

تمہارے دل کی طرح یہ زمین تنگ نہیں

تمہارے دل کی طرح یہ زمین تنگ نہیں خدا کا شکر کہ پاؤں میں اپنے لنگ نہیں عجیب اس سے تعلق ہے کیا کہا جائے کچھ ایسی صلح نہیں ہے کچھ ایسی جنگ نہیں کوئی بتاؤ کہ اس آئنہ کا مول ہے کیا جس آئنہ پہ نشان غبار و زنگ نہیں مرا جنون ہے کوتاہ یا یہ شہر تباہ جو زخم سر کے لیے یاں تلاش سنگ نہیں ہیں ...

مزید پڑھیے

سکھا سکی نہ جو آداب مے وہ خو کیا تھی

سکھا سکی نہ جو آداب مے وہ خو کیا تھی جو یہ نہ تھا تو پھر اس درجہ ہاو ہو کیا تھی جو بار دوش رہا سر وہ کب تھا شوریدہ بہا نہ جس سے لہو وہ رگ گلو کیا تھی پھر ایک زخم کشادہ جو دل کو یاد آ جائے وہ لذت‌ و خلش سوزن و رفو کیا تھی جو اذن عام نہ تھا والیان مے خانہ یہ سب نمائش پیمانہ و سبو کیا ...

مزید پڑھیے

وہی گماں ہے جو اس مہرباں سے پہلے تھا

وہی گماں ہے جو اس مہرباں سے پہلے تھا وہیں سے پھر یہ سفر ہے جہاں سے پہلے تھا ہے اس نگہ کا کرشمہ کہ میرے دل کا ہنر میں اس کے غم کا شناسا بیاں سے پہلے تھا وہ ایک لمحہ مجھے کیوں ستا رہا ہے کہ جو نہیں کے بعد مگر اس کی ہاں سے پہلے تھا میں خوش ہوں ہم سفروں نے کہ مجھ سے چھین لیا غرور رہروی ...

مزید پڑھیے

جب دعائیں ہی بے اثر جائیں

جب دعائیں ہی بے اثر جائیں جینے والے بتا کدھر جائیں اپنی مرضی کا جب نہ ہو جینا ایسے جینے سے کیوں نہ مر جائیں یہ مناسب نظر نہیں آتا بے خبر آئیں بے خبر جائیں زندگی غم سہی مگر اس کا یہ تو مطلب نہیں کہ مر جائیں زندگی ہے ادھر ادھر جنت تیرے بندے کدھر کدھر جائیں

مزید پڑھیے
صفحہ 5457 سے 6203