میں نے اے دل تجھے سینے سے لگایا ہوا ہے
میں نے اے دل تجھے سینے سے لگایا ہوا ہے اور تو ہے کہ مری جان کو آیا ہوا ہے بس اسی بوجھ سے دوہری ہوئی جاتی ہے کمر زندگی کا جو یہ احسان اٹھایا ہوا ہے کیا ہوا گر نہیں بادل یہ برسنے والا یہ بھی کچھ کم تو نہیں ہے جو یہ آیا ہوا ہے راہ چلتی ہوئی اس راہ گزر پر اجملؔ ہم سمجھتے ہیں قدم ہم نے ...