قومی زبان

جان دی کس کے لئے ہم یہ بتائیں کس کو

جان دی کس کے لئے ہم یہ بتائیں کس کو کون کیا بھول گیا یاد دلائیں کس کو جرم کی طرح محبت کو چھپا رکھا ہے ہم گنہ گار نہیں ہیں یہ بتائیں کس کو روٹھ جاتے تو منانا کوئی دشوار نہ تھا وہ تعلق ہی نہ رکھیں تو منائیں کس کو کون دیتا ہے یہاں خواب جنوں کی تعبیر خواب ہم اپنے سنائیں تو سنائیں کس ...

مزید پڑھیے

مآل گردش لیل و نہار کچھ بھی نہیں

مآل گردش لیل و نہار کچھ بھی نہیں ہزار نقش ہیں اور آشکار کچھ بھی نہیں ہر ایک موڑ پہ دنیا کو ہم نے دیکھ لیا سوائے کشمکش روزگار کچھ بھی نہیں نشان راہ ملے بھی یہاں تو کیسے ملے سوائے خاک سر رہ گزار کچھ بھی نہیں بہت قریب رہی ہے یہ زندگی ہم سے بہت عزیز سہی اعتبار کچھ بھی نہیں نہ بن ...

مزید پڑھیے

آج بھی دشت بلا میں نہر پر پہرا رہا

آج بھی دشت بلا میں نہر پر پہرا رہا کتنی صدیوں بعد میں آیا مگر پیاسا رہا کیا فضائے صبح خنداں کیا سواد شام غم جس طرف دیکھا کیا میں دیر تک ہنستا رہا اک سلگتا آشیاں اور بجلیوں کی انجمن پوچھتا کس سے کہ میرے گھر میں کیا تھا کیا رہا زندگی کیا ایک سناٹا تھا پچھلی رات کا شمعیں گل ہوتی ...

مزید پڑھیے

دل کی راہیں ڈھونڈنے جب ہم چلے

دل کی راہیں ڈھونڈنے جب ہم چلے ہم سے آگے دیدۂ پر نم چلے تیز جھونکا بھی ہے دل کو ناگوار تم سے مس ہو کر ہوا کم کم چلے تھی کبھی یوں قدر دل اس بزم میں جیسے ہاتھوں ہاتھ جام جم چلے ہائے وہ عارض اور اس پر چشم نم گل پہ جیسے قطرۂ شبنم چلے آمد سیلاب کا وقفہ تھا وہ جس کو یہ جانا کہ آنسو تھم ...

مزید پڑھیے

بلائے تیرہ شبی کا جواب لے آئے

بلائے تیرہ شبی کا جواب لے آئے بجھے چراغ تو ہم آفتاب لے آئے بکھر گئے جو کبھی چشم انتظار کے رنگ اس انجمن سے ہم اک اور خواب لے آئے ہم اس زمین پہ میزان عدل رکھتے ہیں کہو زمانے سے فرد حساب لے آئے ہر ایک غم سے سلامت گزر گیا ہے دل خدا کرے کہ محبت کی تاب لے آئے گئے تھے ہم بھی ان آنکھوں ...

مزید پڑھیے

اک کرن مہر کی ظلمات پہ بھاری ہوگی

اک کرن مہر کی ظلمات پہ بھاری ہوگی رات ان کی ہے مگر صبح ہماری ہوگی ہم صفیران چمن مل کے پکاریں تو ذرا یہیں خوابیدہ کہیں باد بہاری ہوگی اس طرف بھی کوئی خوشبو سے مہکتا جھونکا اے صبا تو نے تو وہ زلف سنواری ہوگی یہ جو ملتی ہے ترے غم سے غم دہر کی شکل دل نے تصویر سے تصویر اتاری ...

مزید پڑھیے

سر میں سودائے وفا رکھتے ہیں

سر میں سودائے وفا رکھتے ہیں ہم بھی اس عہد میں کیا رکھتے ہیں واسطہ جس کا ترے غم سے نہ ہو ہم وہ ہر کام اٹھا رکھتے ہیں بن کھلی ایک کلی پہلو میں ہم بھی اے باد صبا رکھتے ہیں بت کدہ والو تمہیں کچھ بولو وہ تو چپ ہیں جو خدا رکھتے ہیں غیرت عشق کوئی راہ نکال ظلم وہ سب پہ روا رکھتے ہیں کیا ...

مزید پڑھیے

سفر ہی شرط سفر ہے تو ختم کیا ہوگا

سفر ہی شرط سفر ہے تو ختم کیا ہوگا تمہارے گھر سے ادھر بھی یہ راستہ ہوگا زمانہ سخت گراں خواب ہے مگر اے دل پکار تو سہی کوئی تو جاگتا ہوگا یہ بے سبب نہیں آئے ہیں آنکھ میں آنسو خوشی کا لمحہ کوئی یاد آ گیا ہوگا مرا فسانہ ہر اک دل کا ماجرا تو نہ تھا سنا بھی ہوگا کسی نے تو کیا سنا ...

مزید پڑھیے

کوئی مجھ سے جدا ہوا ہے ابھی

کوئی مجھ سے جدا ہوا ہے ابھی زندگی ایک سانحا ہے ابھی نہیں موقع یہ پرسش غم کا دیکھیے دل دکھا ہوا ہے ابھی کل گزر جائے دل پہ کیا معلوم عشق سادہ سا واقعہ ہے ابھی بات پہنچی ہے اک نظر میں کہاں ہم تو سمجھے تھے ابتدا ہے ابھی کتنے نزدیک آ گئے ہیں وہ کس قدر ان سے فاصلہ ہے ابھی ساری باتیں ...

مزید پڑھیے

چند الجھی ہوئی سانسوں کی عطا ہوں کیا ہوں

چند الجھی ہوئی سانسوں کی عطا ہوں کیا ہوں میں چراغ تہ دامان صبا ہوں کیا ہوں ہر نفس ہے مرا پروردۂ آغوش بلا اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا ہوں کیا ہوں مجھ پہ کھلتا ہی نہیں میرا ستم دیدہ وجود کوئی پتھر ہوں کہ گم کردہ صدا ہوں کیا ہوں دل میں ہوں اور زباں پر کبھی آتا بھی نہیں میں کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5411 سے 6203