گزرنا ہے جی سے گزر جائیے
گزرنا ہے جی سے گزر جائیے لیے دیدۂ تر کدھر جائیے کھلے دل سے ملتا نہیں اب کوئی اسے بھولنے کس کے گھر جائیے سبک رو ہے موج غم دل ابھی ابھی وقت ہے پار اتر جائیے الٹ تو دیا پردۂ شب مگر نہیں سوجھتا اب کدھر جائیے علاج غم دل نہ صحرا نہ گھر وہی ہو کا عالم جدھر جائیے اسی موڑ پر ہم ہوئے تھے ...