قومی زبان

کوئی ہنر تو مری چشم اشکبار میں ہے

کوئی ہنر تو مری چشم اشکبار میں ہے کہ آج بھی وہ کسی خواب کے خمار میں ہے کسی بہار کا منظر ہے چشم ویراں میں کسی گلاب کی خوشبو دل فگار میں ہے عجب تقاضا ہے مجھ سے جدا نہ ہونے کا کہ جیسے کون و مکاں میرے اختیار میں ہے نشان راہ بھی ٹھہرے گا بارشوں کے بعد ابھی یہ نقش کسی راہ کے غبار میں ...

مزید پڑھیے

یوں ہی رکھوگے امتحاں میں کیا

یوں ہی رکھوگے امتحاں میں کیا نہیں آئے گی جان جاں میں کیا کیوں صدا کا نہیں جواب آتا کوئی رہتا نہیں مکاں میں کیا اک زمانہ ہے روبرو میرے تم نہ آؤ گے درمیاں میں کیا وہ جو قصے دلوں کے اندر ہیں وہ بھی لاؤ گے درمیاں میں کیا کس قدر تلخیاں ہیں لہجے میں زہر بوتے ہو تم زباں میں کیا دل کو ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں خواب تازہ ہے دل میں نیا خیال بھی

آنکھوں میں خواب تازہ ہے دل میں نیا خیال بھی اور جو مہرباں رہے گردش ماہ و سال بھی ملنے کی اہتمام تک ہم ترے منتظر رہے اب تو نہیں رہا مگر ملنے کا احتمال بھی وقت کہاں رکا بھلا پر یہ کسے گمان تھا عمر کی زد میں آئے گا تجھ سا پری جمال بھی اس نے دیئے تھے پھول جو اب اسے کیا دکھائیے رکھتا ...

مزید پڑھیے

اب دل بھی دکھاؤ تو اذیت نہیں ہوتی

اب دل بھی دکھاؤ تو اذیت نہیں ہوتی حیرت ہے کسی بات پہ حیرت نہیں ہوتی اب درد بھی اک حد سے گزرنے نہیں پاتا اب ہجر میں وہ پہلی سی وحشت نہیں ہوتی ہوتا ہے تو بس ایک ترے ہجر کا شکوہ ورنہ تو ہمیں کوئی شکایت نہیں ہوتی کر دیتا ہے بے ساختہ بانہوں کو کشادہ جب بچ کے نکل جانے کی صورت نہیں ...

مزید پڑھیے

اگر ہر چیز میں اس نے اثر رکھا ہوا ہے

اگر ہر چیز میں اس نے اثر رکھا ہوا ہے تو پھر اب تک مجھے کیوں بے ہنر رکھا ہوا ہے تعلق زندگی سے مختصر رکھا ہوا ہے کہ شانوں پر نہیں نیزے پہ سر رکھا ہوا ہے زمانے سے ابھی تک پوچھتے ہیں اس کی باتیں اسے ہم نے ابھی تک بے خبر رکھا ہوا ہے اب ایسی بے ثمر ساعت میں اس کی یاد کیسی یہ دکھ اچھے ...

مزید پڑھیے

ستارہ آنکھ میں دل میں گلاب کیا رکھنا

ستارہ آنکھ میں دل میں گلاب کیا رکھنا کہ ڈھلتی عمر میں رنگ شباب کیا رکھنا جو ریگزار بدن میں غبار اڑتا ہو تو چشم خاک رسیدہ میں خواب کیا رکھنا سفر نصیب ہی ٹھہرا جو دشت غربت کا تو پھر گماں میں فریب سحاب کیا رکھنا جو ڈوب جانا ہے اک دن جزیرۂ دل بھی تو کوئی نقش سر سطح آب کیا رکھنا الٹ ...

مزید پڑھیے

اردی و دے سے پرے سود و زیاں سے آگے

اردی و دے سے پرے سود و زیاں سے آگے آؤ چل نکلیں کہیں قید زماں سے آگے اس خرابے میں عبث ہیں غم و شادی دونوں میری تسکین کا مسکن ہے مکاں سے آگے آہ و نالہ ہی سہی اہل وفا کا مسلک اک مقام اور بھی آتا ہے فغاں سے آگے دار تک صاف نظر آتا ہے رشتہ دیکھیں پھر کدھر جاتے ہیں عشاق وہاں سے آگے خون ...

مزید پڑھیے

دل کے رہنے کے لیے شہر خیالات نہیں

دل کے رہنے کے لیے شہر خیالات نہیں سر بہ سر ہے نفی اس میں کہیں اثبات نہیں رنج گر واں سے تو راحت بھی وہیں سے آوے کون کہتا ہے یہاں وحدت آیات نہیں مجھ سے کہتے ہیں حوائج سے سروکار نہ رکھ میری تعریف بجز قصۂ حاجات نہیں کوئی بتلاؤ شب و روز پہ کیا گزری ہے رات خاموش نہیں دن میں کوئی بات ...

مزید پڑھیے

خود سے کتنا کیا دغا میں نے

خود سے کتنا کیا دغا میں نے ابھی سیکھی نہیں وفا میں نے نکلا چوہا پہاڑ کو کھودا جو کیا جو کہا سنا میں نے کھولیے کیوں دکھوں کے دفتر کو سوچنا بند کر دیا میں نے ہاں لگایا ہے ذکر عظمت پر زور سے ایک قہقہہ میں نے حاصل زیست ہے کہ دیکھا ہے سنبل و سبزہ و صبا میں نے زندگی زہر تھا اسے ...

مزید پڑھیے

خالی ہے ذہن طاقت گفتار کیا کرے

خالی ہے ذہن طاقت گفتار کیا کرے ہے آنکھ بند روزن دیوار کیا کرے ہم عقل دل کے سامنے رکھتے رہے ولے دریا کے آگے ریت کی دیوار کیا کرے جی میرا اب تو میری بھی صحبت سے تنگ ہے ہر رشتہ یاں ہے باعث آزار کیا کرے ہر سو ہے کائنات میں اپنے لہو کا رنگ ہو چشم دل سے دور تو دیدار کیا کرے کہتا ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5391 سے 6203