قومی زبان

خامشی

در حقیقت خامشی معراج ہے گفتار کی اس سے بہتر کوئی بھی صورت نہیں اظہار کی ہو گئی ہے نطق کی ہر ہر ادا جب بے اثر میں نے دیکھا ہے طلسم خامشی کو کارگر خامشی ایسے بھی لمحوں کی کہانی کہہ گئی جن میں گویائی پشیمانی اٹھا کر رہ گئی

مزید پڑھیے

سوچتا ہوں کہ

لاکھ شاداب ہو آباد ہو دنیا کا چمن دل کی قسمت میں ہے تنہائی کے کانٹے کی چبھن بے سہارا یہ ہمیشہ سے رہا ہے یارو اس نے ہر درد اکیلے ہی سہا ہے یارو صرف اک راز جو سینے میں چھپا بیٹھا ہے دوست بن کر اسے تسکین دیا کرتا ہے سوچتا ہوں کہ میں وہ راز بھی افشا کر دوں دل کو اب دہر میں بالکل ہی اکیلا ...

مزید پڑھیے

گیان کی چتا

احساس کے ساحل پہ بہت دیر سے گم صم میں گیان کی ارتھی کو لیے بیٹھا ہوں یارو طے کر کے یہ آیا تھا کہ پھونکوں گا اسے آج اور اب بھی یہی عزم کئے بیٹھا ہوں یارو لیکن کوئی تدبیر سمجھ ہی نہیں آتی کس چیز پہ رکھ کر میں بھلا اس کو جلاؤں کہتی ہیں تمنائیں کہ چھوڑیں گی نہ دل کو پھر اس کے لیے دل کی ...

مزید پڑھیے

چہروں کی بے چہرگی

جدھر نظریں اٹھاتا ہوں ادھر چہرے ہی چہرے ہیں مگر ان سب میں اک بے چہرگی سی دیکھتا ہوں میں کوئی صورت بنا کرتی ہے جس سے شکل انسانی ہر اک چہرے کو اس خوبی سے عاری دیکھتا ہوں میں لقب چہرے کا زیبا ہے انہیں کے واسطے یارو جو احساسات اور جذبات کی تفسیر ہوتے ہیں نہ مانو فیصلہ میرا خود اپنے ...

مزید پڑھیے

مقصد حیات

بے ثباتی زیست کی تسلیم کرتا ہوں مگر کیا ضروری ہے کہ بے مقصد بھی ہو جائے حیات کوئی نسب العین ہو گر آدمی کے سامنے ہستیٔ ناچیز بھی ثابت ہو روح کائنات اک حقیقت مجھ پہ روشن ہے جو کرتا ہوں بیاں جبکہ میں اے دوستو مرد جہاں دیدہ نہیں بے ارادہ کیوں پھرے انسان دشت دہر میں زندگی جو کچھ بھی ہو ...

مزید پڑھیے

سمندر کی پیاس

مرکوز کس لئے ہے تمہاری نظر بھلا آشفتگان دل کے دریدہ لباس پر دیکھو تو اہل حکمت و دانش کا اضطراب تسخیر کائنات کی ناکام آس پر صحرا کی تشنگی کے نظارے میں کیوں ہو گم ڈالو ذرا نگاہ سمندر کی پیاس پر

مزید پڑھیے

مجبوری

سوچنے سے فائدہ کچھ بھی نہیں اس حقیقت سے ہوں میں بھی باخبر جانتا ہوں سوچنا ہے اک عذاب زندگی ہوتی ہے اس سے تلخ تر میں مگر مجبور ہوں لاچار ہوں اس سے ممکن ہی نہیں مجھ کو فراغ لاکھ میں کوشش کروں لیکن کبھی رہ نہیں سکتا ہے بے سوچے دماغ

مزید پڑھیے

آنکھ کھلنے پہ بھی ہوتا ہوں اسی خواب میں گم

آنکھ کھلنے پہ بھی ہوتا ہوں اسی خواب میں گم دیر تک رہتا ہوں اک لذت نایاب میں گم سوچ ہی سوچ میں طوفان اٹھا دیتا ہوں اور ہو جاتا ہوں اک موجۂ گرداب میں گم اک ستارہ جو چمکتا ہے لب بام کہیں دیکھتے دیکھتے ہو جاتا ہے مہتاب میں گم بچ رہے سانس تو جانا ہے انہیں گلیوں میں اور ہونا ہے اسی ...

مزید پڑھیے

خاک سے خواب تلک ایک سی ویرانی ہے

خاک سے خواب تلک ایک سی ویرانی ہے میرے اندر مرے باہر کی بیابانی ہے کوئی منظر کہیں موجود ہے پس منظر میں ورنہ کیا چیز ہے جو باعث حیرانی ہے کہہ کے دیکھیں گے بہ ہر طور مگر پہلے بھی دل خود سر نے کوئی بات کہاں مانی ہے کسے معلوم ہے رکنا کہ گزر جانا ہے شام ہے ٹھہری ہوئی بہتا ہوا پانی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5390 سے 6203