قومی زبان

یاران تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب

یاران تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب منزل پہ جا پہنچنے کی خواہش کہاں ہے اب زنداں میں دن بھی رات ہی جیسا گزر گیا اہل جنوں وہ پہلی سی شورش کہاں ہے اب جام شراب اب تو مرے سامنے نہ رکھ آنکھوں میں نور ہاتھ میں جنبش کہاں ہے اب حلقہ بگوش کوئی نہ اب یار ہے یہاں وہ روز و شب کی داد و ستائش کہاں ...

مزید پڑھیے

چاند تاروں میں جی نہیں لگتا

چاند تاروں میں جی نہیں لگتا خوش نظاروں میں جی نہیں لگتا دل بجھا ہے کچھ اس طرح میرا اب بہاروں میں جی نہیں لگتا ناخدا مجھ کو ڈوب جانے دے اب کناروں میں جی نہیں لگتا مطربہ چھیڑ اب نہ ساز طرب نغمہ زاروں میں جی نہیں لگتا دل بہلتا ہے دل نگاروں میں غم گساروں میں جی نہیں لگتا یہ حسیں ...

مزید پڑھیے

خود کو بدلنا مشکل ہوگا

خود کو بدلنا مشکل ہوگا راستہ چلنا مشکل ہوگا باہر باہر پہرے ہوں گے گھر سے نکلنا مشکل ہوگا گرنا تو آسان ہے لیکن گر کے سنبھلنا مشکل ہوگا مظلوموں کی آہ نہ لینا پھولنا پھلنا مشکل ہوگا آگ پہ چلنے کی لت ڈالو پھول پہ چلنا مشکل ہوگا کالی روٹی کھانے والو اس کا نگلنا مشکل ہوگا دل کو ...

مزید پڑھیے

مجھے دن رات فکر آشیاں معلوم ہوتی ہے

مجھے دن رات فکر آشیاں معلوم ہوتی ہے کہ برگشتہ نگاہ باغباں معلوم ہوتی ہے جو دل آزاد ہو تو ہر جگہ حاصل ہے آزادی قفس میں بھی بہار گلستاں معلوم ہوتی ہے پئے گلگشت شاید آج وہ جان بہار آیا چمن کی پتی پتی گلستاں معلوم ہوتی ہے اجڑتی آ رہی ہے مدتوں سے دیکھیے پھر بھی بہار باغ عالم بے خزاں ...

مزید پڑھیے

ہے اگر لانا انقلاب نیا

ہے اگر لانا انقلاب نیا پہلے جینے کا ہو حساب نیا میں نے دیکھا تھا ایک خواب نیا آئے دن اب ہے اضطراب نیا پیش لفظ انتساب باب نیا میں ہوں اک صاحب کتاب نیا میں اگاتا تھا نور کی فصلیں خواب تھا میرا اکتساب نیا رو بہ رو چہرہ تھا پرانا سا آئنہ دیتا کیا جواب نیا گم تھی بے خوابیوں میں ...

مزید پڑھیے

آہ لب تک دل ناکام نہ آنے پائے

آہ لب تک دل ناکام نہ آنے پائے عظمت عشق پہ الزام نہ آنے پائے ہم سے قائم ترے میخانے کی عظمت ساقی اور ہم تک ہی کوئی جام نہ آنے پائے زیر ترتیب ہے تاریخ روایات وطن حکم ہے اس میں مرا نام نہ آنے پائے تیری آنکھوں کے اگر ہوں نہ اشارے ساقی جام میں بادۂ گلفام نہ آنے پائے مژدہ اے اہل چمن آ ...

مزید پڑھیے

کمان چھوڑ گئے بے نظیر جتنے تھے

کمان چھوڑ گئے بے نظیر جتنے تھے لگے ہیں ٹھیک نشانے پہ تیر جتنے تھے فساد روکنے کم ظرف لوگ پہنچے ہیں گھروں میں رہ گئے روشن ضمیر جتنے تھے انہیں جلا دیا سنجیدگی کے سورج نے ہمارے عہد کے بچے شریر جتنے تھے تھکن اتار رہے تھے نئے سفر کے لئے سفر سے آئے ہوئے راہگیر جتنے تھے مرے بیان پہ ...

مزید پڑھیے

پیار عشق ہمدردی اور دوستی سازش

پیار عشق ہمدردی اور دوستی سازش میرے ساتھ ہوتی ہے روز اک نئی سازش آنے والے لمحوں کے ہم مزاج داں ٹھہرے کیسے کر سکے گی پھر ہم سے زندگی سازش وہ خود اعتمادی کا آئنہ رہا ہوگا ورنہ ایک مدت تک منتظر رہی سازش لے چلی ہیں ساحل پر مجھ کو سرپھری موجیں جیسے یہ بھی طوفاں کی ہو کوئی نئی ...

مزید پڑھیے

ہجر کی شام سے زخموں کے دوشالے مانگوں

ہجر کی شام سے زخموں کے دوشالے مانگوں میں سیاہی کے سمندر سے اجالے مانگوں جب نئی نسل نئی طرز سے جینا چاہے کیوں نہ اس عہد سے دستور نرالے مانگوں اپنے احساس کے صحرا میں تقدس چاہوں اپنے جذبات کی گھاٹی میں شوالے مانگوں اپنی آنکھوں کے لئے درد کے آنسو ڈھونڈوں اپنے قدموں کے لئے پھول سے ...

مزید پڑھیے

گزرتے دوڑتے لمحے حساب میں لکھیے

گزرتے دوڑتے لمحے حساب میں لکھیے حقیقتوں کی تمنا بھی خواب میں لکھیے اذیتیں ہی نہ اپنی کتاب میں لکھیے سکوں کا پل بھی تو سانسوں کے باب میں لکھیے ہر ایک حرف سے جینے کا فن نمایاں ہو کچھ اس طرح کی عبارت نصاب میں لکھیے ہر ایک جنبش لب اور دل کی ہر دھڑکن سدا یقین بنی انقلاب میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5369 سے 6203