قومی زبان

کوئی الزام میرے نام میرے سر نہیں آیا

کوئی الزام میرے نام میرے سر نہیں آیا وہ جو طوفان اندر تھا مرے باہر نہیں آیا یہ کس کی دید نے آنکھوں کو بھر ڈالا خلا سے یوں کہ پھر آنکھوں میں کوئی دوسرا منظر نہیں آیا جنوں بردار کوئی روئے صحرا پر نہیں دیکھا کنار آب جو پیاسا کوئی لشکر نہیں آیا ہوئی بارش درختوں نے بدن سے گرد سب ...

مزید پڑھیے

اے ابر التفات ترا اعتبار پھر

اے ابر التفات ترا اعتبار پھر آنکھوں میں پھر وہ پیاس وہی انتظار پھر رکھوں کہاں پہ پاؤں بڑھاؤں کدھر قدم رخش خیال آج ہے بے اختیار پھر دست جنوں و پنجۂ وحشت چہار سمت بے برگ و بار ہونے لگی ہے بہار پھر پسپائیوں نے گاڑ دیئے دانت پشت پر یوں دامن غرور ہوا تار تار پھر نشتر تری زباں ہی ...

مزید پڑھیے

ٹوٹی ہوئی شبیہ کی تسخیر کیا کریں

ٹوٹی ہوئی شبیہ کی تسخیر کیا کریں بجھتے ہوئے خیال کو زنجیر کیا کریں اندھا سفر ہے زیست کسے چھوڑ دے کہاں الجھا ہوا سا خواب ہے تعبیر کیا کریں سینے میں جذب کتنے سمندر ہوئے مگر آنکھوں پہ اختیار کی تدبیر کیا کریں بس یہ ہوا کہ راستہ چپ چاپ کٹ گیا اتنی سی واردات کی تشہیر کیا کریں ساعت ...

مزید پڑھیے

دشت کو ڈھونڈنے نکلوں تو جزیرہ نکلے

دشت کو ڈھونڈنے نکلوں تو جزیرہ نکلے پاؤں رکھوں جو میں ویرانے میں دنیا نکلے ایک بپھرا ہوا دریا ہے مرے چار طرف تو جو چاہے اسی طوفاں سے کنارہ نکلے ایک موسم ہے دل و جاں پہ فقط دن ہو کہ رات آسماں کوئی ہو دل پر وہی تارا نکلے دیکھتا ہوں میں تری راہ میں دام حیرت روشنی رات سے اور دھوپ سے ...

مزید پڑھیے

بہ رنگ خواب میں بکھرا رہوں گا

بہ رنگ خواب میں بکھرا رہوں گا ترے انکار جب چنتا رہوں گا کبھی سوچا نہیں تھا میں ترے بن یوں زیر آسماں تنہا رہوں گا تو کوئی عکس مجھ میں ڈھونڈنا مت میں شیشہ ہوں فقط شیشہ رہوں گا تعفن زار ہوتی محفلوں میں خیال یار سے مہکا رہوں گا جیوں گا میں تری سانسوں میں جب تک خود اپنی سانس میں ...

مزید پڑھیے

راہ وفا میں کوئی ہمیں جانتا نہ تھا

راہ وفا میں کوئی ہمیں جانتا نہ تھا جب تک دیا ہمارے لہو کا جلا نہ تھا یہ معجزہ ہمارے ہی طرز بیاں کا تھا اس نے وہ سن لیا تھا جو ہم نے کہا نہ تھا جب آشیانے جل گئے تب ہم نوا ہوئے گلشن میں اس سے پہلے کوئی بولتا نہ تھا تو خود ہی قطرہ قطرہ پگھلتا تھا روز و شب شامل ترے زوال میں دست دعا نہ ...

مزید پڑھیے

جب مخالف مرا رازداں ہو گیا

جب مخالف مرا رازداں ہو گیا راز سر بستہ سب پر عیاں ہو گیا مجھ کو احساس شرمندگی ہے بہت قصۂ درد کیسے بیاں ہو گیا کتنی حسرت سے تکتی رہی ہر خوشی اور دامن مرا دھجیاں ہو گیا مسئلہ بن گئی فکر تفہیم کا لفظ کا حسن بھی رائیگاں ہو گیا لوگ یہ سوچ کے ہی پریشان ہیں میں زمیں تھا تو کیوں آسماں ...

مزید پڑھیے

دل بہلنے کے وسیلے دے گیا وہ

دل بہلنے کے وسیلے دے گیا وہ اپنی یادوں کے کھلونے دے گیا وہ ہم سخن تنہائیوں میں کوئی تو ہو سونے سونے سے دریچے دے گیا وہ لے گیا میری خودی میری انا بھی اے جبین شوق سجدے دے گیا وہ رنج و غم سہنے کی عادت ہو گئی ہے زندہ رہنے کے سلیقے دے گیا وہ میری ہمت جانتا تھا اس لیے بھی ڈوبنے والے ...

مزید پڑھیے

اک عمر بھٹکتے رہے گھر ہی نہیں آیا

اک عمر بھٹکتے رہے گھر ہی نہیں آیا ساحل کی تمنا تھی نظر ہی نہیں آیا روشن ہیں جہاں شمع محبت کی قطاریں وہ کنج کم آثار نظر ہی نہیں آیا میں جھوٹ کو سچائی کے پیکر میں سجاتا کیا کیجیے مجھ کو یہ ہنر ہی نہیں آیا وہ گنبد بے در تھا کہ دیوار انا تھی منظر کوئی باہر کا نظر ہی نہیں آیا اک ایسا ...

مزید پڑھیے

اگر بلندی کا میری وہ اعتراف کرے

اگر بلندی کا میری وہ اعتراف کرے تو پھر ضروری ہے آ کر یہاں طواف کرے دلوں میں خواہش دیدار ہو تو لازم ہے جو آئنہ بھی میسر ہو اس کو صاف کرے رہوں گا میں تو ہمیشہ قصیدہ خواں اس کا زمیں فلک سے بھلا کیسے اختلاف کرے حصار ذات سے باہر نکلنا ہو جس کو انا کی آہنی دیوار میں شگاف کرے جہاں بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5368 سے 6203