کوئی الزام میرے نام میرے سر نہیں آیا
کوئی الزام میرے نام میرے سر نہیں آیا وہ جو طوفان اندر تھا مرے باہر نہیں آیا یہ کس کی دید نے آنکھوں کو بھر ڈالا خلا سے یوں کہ پھر آنکھوں میں کوئی دوسرا منظر نہیں آیا جنوں بردار کوئی روئے صحرا پر نہیں دیکھا کنار آب جو پیاسا کوئی لشکر نہیں آیا ہوئی بارش درختوں نے بدن سے گرد سب ...