رفاقتوں کا بھرم توڑ جانے والا نہیں
رفاقتوں کا بھرم توڑ جانے والا نہیں مقابلے میں اگر آیا تر نوالہ نہیں پڑی ہوئی ہے نسب قیس سے ملانے کی کسی نے دشت مکمل مگر کھنگالا نہیں یہاں بلند صدائیں لگا غبار اڑا دیار عشق ہے تہذیب کا حوالہ نہیں ہمارے عہد کے سقراط مصلحت بیں ہیں کسی کے ہاتھ میں بھی زہر کا پیالا نہیں سفر میں ...