قومی زبان

رفاقتوں کا بھرم توڑ جانے والا نہیں

رفاقتوں کا بھرم توڑ جانے والا نہیں مقابلے میں اگر آیا تر نوالہ نہیں پڑی ہوئی ہے نسب قیس سے ملانے کی کسی نے دشت مکمل مگر کھنگالا نہیں یہاں بلند صدائیں لگا غبار اڑا دیار عشق ہے تہذیب کا حوالہ نہیں ہمارے عہد کے سقراط مصلحت بیں ہیں کسی کے ہاتھ میں بھی زہر کا پیالا نہیں سفر میں ...

مزید پڑھیے

اپنے الفاظ و معانی سے نکل آیا ہے

اپنے الفاظ و معانی سے نکل آیا ہے وہ کہانی کی روانی سے نکل آیا ہے کھینچ لائی ہے ہمیں چاندنی شب میں خوشبو سانپ بھی رات کی رانی سے نکل آیا ہے خود کو روپوش کیا کتنے ہی کرداروں میں پھر بھی فن کار کہانی سے نکل آیا ہے جاگ اٹھی ہے تڑپ دور چلے جانے سے راستہ نقل مکانی سے نکل آیا ہے پھوٹ ...

مزید پڑھیے

بیٹھا ہوں اپنی ذات کا نقشہ نکال کے

بیٹھا ہوں اپنی ذات کا نقشہ نکال کے اک بے زمین ہاری ہوں صحرا نکال کے ڈھونڈا بہت مگر کوئی رستہ نہیں ملا اس زندگی سے تیرا حوالہ نکال کے الماری سے ملے مجھے پہلے پہل کے خط بیٹھا ہوا ہوں آپ کا وعدہ نکال کے ویرانیوں پہ آنکھ چھما چھم برس پڑی لایا ہوں میں تو دشت سے دریا نکال کے آسانیاں ...

مزید پڑھیے

رگ جاں میں اتر کر بولتا ہے

رگ جاں میں اتر کر بولتا ہے حقیقت جب سخنور بولتا ہے کسی سے کب وہ ڈر کر بولتا ہے زبان حق قلندر بولتا ہے عطا ہوتی ہے جس کو چشم بینا تو قطرے میں سمندر بولتا ہے نہیں ہیرا چمکتا بے تراشے ترش جائے تو پتھر بولتا ہے وہ جھوٹا ہے جو بے تحقیق باتیں کسی سے سن کے اکثر بولتا ہے وہی ہے معتبر ...

مزید پڑھیے

تیرا ہر راز چھپائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی

تیرا ہر راز چھپائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی خود کو دیوانہ بنائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی ساقیٔ بزم کے مخصوص اشاروں کی قسم جام ہونٹوں سے لگائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی اس نمائش گہہ عالم میں کمی ہے اب تک اشک آنکھوں میں چھپائے ہوئے بیٹھا ہے کوئی شب کی دیوی کا سکوت اور ہی کچھ کہتا ہے پھر بھی دو ...

مزید پڑھیے

کب لوگوں نے الفاظ کے پتھر نہیں پھینکے

کب لوگوں نے الفاظ کے پتھر نہیں پھینکے وہ خط بھی مگر میں نے جلا کر نہیں پھینکے ٹھہرے ہوئے پانی نے اشارہ تو کیا تھا کچھ سوچ کے خود میں نے ہی پتھر نہیں پھینکے اک طنز ہے کلیوں کا تبسم بھی مگر کیوں میں نے تو کبھی پھول مسل کر نہیں پھینکے ویسے تو ارادہ نہیں توبہ شکنی کا لیکن ابھی ٹوٹے ...

مزید پڑھیے

خیال اسی کی طرف بار بار جاتا ہے

خیال اسی کی طرف بار بار جاتا ہے مرے سفر کی تھکن کون اتار جاتا ہے یہ اس کا اپنا طریقہ ہے دان کرنے کا وہ جس سے شرط لگاتا ہے ہار جاتا ہے یہ کھیل میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا میں جیت جاتا ہوں بازی وہ مار جاتا ہے میں اپنی نیند دواؤں سے قرض لیتا ہوں یہ قرض خواب میں کوئی اتار جاتا ...

مزید پڑھیے

سلسلہ زخم زخم جاری ہے

سلسلہ زخم زخم جاری ہے یہ زمیں دور تک ہماری ہے اس زمیں سے عجب تعلق ہے ذرے ذرے سے رشتہ داری ہے میں بہت کم کسی سے ملتا ہوں جس سے یاری ہے اس سے یاری ہے ناؤ کاغذ کی چھوڑ دی میں نے اب سمندر کی ذمہ داری ہے بیچ ڈالا ہے دن کا ہر لمحہ رات تھوڑی بہت ہماری ہے ریت کے گھر تو بہہ گئے ...

مزید پڑھیے

یہ آنے والا زمانہ ہمیں بتائے گا

یہ آنے والا زمانہ ہمیں بتائے گا وہ گھر بنائے گا اپنا کہ گھر بسائے گا میں سارے شہر میں بدنام ہوں خبر ہے مجھے وہ میرے نام سے کیا فائدہ اٹھائے گا پھر اس کے بعد اجالے خریدنے ہوں گے ذرا سی دیر میں سورج تو ڈوب جائے گا ہے سیرگاہ یہ کچی منڈیر سانپوں کی یہاں سے کیسے کوئی راستہ بنائے ...

مزید پڑھیے

اب نہیں لوٹ کے آنے والا

اب نہیں لوٹ کے آنے والا گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا ہو گئیں کچھ ادھر ایسی باتیں رک گیا روز کا آنے والا عکس آنکھوں سے چرا لیتا ہے ایک تصویر بنانے والا لاکھ ہونٹوں پہ ہنسی ہو لیکن خوش نہیں خوش نظر آنے والا زد میں طوفان کی آیا کیسے پیاس ساحل پہ بجھانے والا رہ گیا ہے مرا سایہ بن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5365 سے 6203