قومی زبان

قسمت میں درد ہے تو دوا ہی نہ لاؤں گا

قسمت میں درد ہے تو دوا ہی نہ لاؤں گا آئینۂ یقیں پہ سیاہی نہ لاؤں گا یا تو مرے بیان پہ منصف یقیں کرے یا پھر سزا لکھے میں گواہی نہ لاؤں گا اس دور نا شناس میں کچھ بھی کہوں مگر اب داستاں میں ذکر وفا ہی نہ لاؤں گا اپنوں سے جنگ ہے تو بھلے ہار جاؤں میں لیکن میں اپنے ساتھ سپاہی نہ لاؤں ...

مزید پڑھیے

لمحہ لمحہ یہی سوچوں یہی دیکھا چاہوں

لمحہ لمحہ یہی سوچوں یہی دیکھا چاہوں تیری آنکھوں میں تو بس اپنا ہی چہرہ چاہوں یہ بھی کیا بات کہ میں تیری انا کی خاطر تیری قامت سے زیادہ ترا سایا چاہوں مجھ سے الفت بھی نہیں ہے تو نہ جانے پھر کیوں تیری محفل میں فقط اپنا ہی چرچا چاہوں وہ تو گونگا ہے مگر مجھ کو یہ ضد ہے کیسی اپنی ...

مزید پڑھیے

سمندر سب کے سب پایاب سے ہیں

سمندر سب کے سب پایاب سے ہیں کناروں پر مگر گرداب سے ہیں ترے خط میں جو اشکوں کے نشاں تھے وہی اب کرمک شب تاب سے ہیں چہک اٹھتا ہے ساز زندگانی ترے الفاظ بھی مضراب سے ہیں دلوں میں کرب بڑھتا جا رہا ہے مگر چہرے ابھی شاداب سے ہیں ہمارے زخم روشن ہو رہے ہیں مسیحا اس لیے بیتاب سے ہیں وہ ...

مزید پڑھیے

جو قطرے میں سمندر دیکھتے ہیں

جو قطرے میں سمندر دیکھتے ہیں تجھے منظر بہ منظر دیکھتے ہیں قبائے درد جب سے زیب تن ہے خوشی کو اپنے اندر دیکھتے ہیں چلو امن و اماں ہے میکدے میں وہیں کچھ پل ٹھہر کر دیکھتے ہیں کبھی تنہائی نے تنہا نہ چھوڑا تماشہ پھر بھی گھس کر دیکھتے ہیں کرم فرمائی ہے سورج کی یہ بھی اسے اپنے برابر ...

مزید پڑھیے

کہاں سے لائیں گے آنسو عزا داری کے موسم میں

کہاں سے لائیں گے آنسو عزا داری کے موسم میں بہت کچھ رو چکے ہم تو اداکاری کے موسم میں اتر آؤں گا میں بھی زینۂ ہستی سے یوں اک دن کہ جیسے رنگ رخ اترے ہے ناداری کے موسم میں تمہارے خط کبھی پڑھنا کبھی ترتیب سے رکھنا عجب مشغولیت رہتی ہے بیکاری کے موسم میں بجز میرے زمانے کی قبا رنگین ...

مزید پڑھیے

جو ذہن و دل کے زہریلے بہت ہیں

جو ذہن و دل کے زہریلے بہت ہیں وہی باتوں کے بھی میٹھے بہت ہیں چلو اہل جنوں کے ساتھ ہو لیں یہاں اہل خرد سستے بہت ہیں مری بے چہرگی پر ہنسنے والو تمہارے آئنے دھندلے بہت ہیں ذرا یادوں کے ہی پتھر اچھالو نواح جاں میں سناٹے بہت ہیں تری بالا قدی بدنام ہوگی یہاں کے بام و در نیچے بہت ...

مزید پڑھیے

جو فقط شوخیٔ تحریر بھی ہو سکتی ہے

جو فقط شوخیٔ تحریر بھی ہو سکتی ہے وہ مرے پاؤں کی زنجیر بھی ہو سکتی ہے صرف ویرانہ ہی غمگینی کا باعث تو نہیں عہد ماضی کی وہ تصویر بھی ہو سکتی ہے چشم حسرت سے جو ٹپکی ہے لہو کی اک بوند صبح امید کی تنویر بھی ہو سکتی ہے رنج و غم ٹھوکریں مایوسی گھٹن بے زاری میرے خوابوں کی یہ تعبیر بھی ...

مزید پڑھیے

جو پلکوں پر مری ٹھہرا ہوا ہے

جو پلکوں پر مری ٹھہرا ہوا ہے وہ آنسو خون میں ڈوبا ہوا ہے فرشتے خوان لے کر آ رہے ہیں صحیفہ طاق میں رکھا ہوا ہے کوئی انہونی شاید ہو گئی پھر غبار کارواں ٹھہرا ہوا ہے کسی کی خواہشیں پابستہ کر کے یہ کب سوچا حرم رسوا ہوا ہے وہ اک لمحہ جو تیرے وصل کا تھا بیاض ہجر پر لکھا ہوا ہے مجھے ...

مزید پڑھیے

ہم شعلہ بدست اتنی محبت سے جلے ہیں

ہم شعلہ بدست اتنی محبت سے جلے ہیں جو دیکھنے والے تھے وہ حسرت سے جلے ہیں خوشبو سے جلے ہیں کبھی صورت سے جلے ہیں بد خواہ حسد کرنے کی عادت سے جلے ہیں جل جائے جہاں خون نہیں کھولتا ان کا ہم برف زدہ لوگوں کی فطرت سے جلے ہیں کب شعلگی لو دینے سے آئی ہے کبھی باز یہ حسن نظر والے عنایت سے ...

مزید پڑھیے

روز اول ہی خطا کار بنایا گیا ہوں

روز اول ہی خطا کار بنایا گیا ہوں اور پھر اشرف مخلوق بتایا گیا ہوں ٹوٹنے اور بکھرنے پہ ہے واویلا کیوں دیکھیے کتنی بلندی سے گرایا گیا ہوں اختیارات سے تقدیر سے کیا لینا ہے وقت کی گرد میں تنکا سا اڑایا گیا ہوں زندگی ایک ڈگر پر ہی کہاں چلتی ہے کبھی دیوار کبھی دل سے لگایا گیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5364 سے 6203