قسمت میں درد ہے تو دوا ہی نہ لاؤں گا
قسمت میں درد ہے تو دوا ہی نہ لاؤں گا آئینۂ یقیں پہ سیاہی نہ لاؤں گا یا تو مرے بیان پہ منصف یقیں کرے یا پھر سزا لکھے میں گواہی نہ لاؤں گا اس دور نا شناس میں کچھ بھی کہوں مگر اب داستاں میں ذکر وفا ہی نہ لاؤں گا اپنوں سے جنگ ہے تو بھلے ہار جاؤں میں لیکن میں اپنے ساتھ سپاہی نہ لاؤں ...