لکھا ہے مجھ کو بھی لکھنا پڑا ہے
لکھا ہے مجھ کو بھی لکھنا پڑا ہے جہاں سے حاشیہ چھوڑا گیا ہے اگر مانوس ہے تم سے پرندہ تو پھر اڑنے کو پر کیوں تولتا ہے کہیں کچھ ہے کہیں کچھ ہے کہیں کچھ مرا سامان سب بکھرا ہوا ہے میں جا بیٹھوں کسی برگد کے نیچے سکوں کا بس یہی ایک راستہ ہے قیامت دیکھیے میری نظر سے سوا نیزے پہ سورج آ ...