قومی زبان

لکھا ہے مجھ کو بھی لکھنا پڑا ہے

لکھا ہے مجھ کو بھی لکھنا پڑا ہے جہاں سے حاشیہ چھوڑا گیا ہے اگر مانوس ہے تم سے پرندہ تو پھر اڑنے کو پر کیوں تولتا ہے کہیں کچھ ہے کہیں کچھ ہے کہیں کچھ مرا سامان سب بکھرا ہوا ہے میں جا بیٹھوں کسی برگد کے نیچے سکوں کا بس یہی ایک راستہ ہے قیامت دیکھیے میری نظر سے سوا نیزے پہ سورج آ ...

مزید پڑھیے

ترک وفا کی بات کہیں کیا (ردیف .. ے)

ترک وفا کی بات کہیں کیا دل میں ہو تو لب تک آئے دل بیچارہ سیدھا سادا خود روٹھے خود مان بھی جائے چلتے رہیے منزل منزل اس آنچل کے سائے سائے دور نہیں تھا شہر تمنا آپ ہی میرے ساتھ نہ آئے آج کا دن بھی یاد رہے گا آج وہ مجھ کو یاد نہ آئے

مزید پڑھیے

جو بھی مل جاتا ہے گھر بار کو دے دیتا ہوں

جو بھی مل جاتا ہے گھر بار کو دے دیتا ہوں یا کسی اور طلب گار کو دے دیتا ہوں دھوپ کو دیتا ہوں تن اپنا جھلسنے کے لئے اور سایہ کسی دیوار کو دے دیتا ہوں جو دعا اپنے لئے مانگنی ہوتی ہے مجھے وہ دعا بھی کسی غم خوار کو دے دیتا ہوں مطمئن اب بھی اگر کوئی نہیں ہے نہ سہی حق تو میں پہلے ہی حق ...

مزید پڑھیے

مقام دل بہت اونچا بنا ہے

مقام دل بہت اونچا بنا ہے کمند عقل اب تک نارسا ہے فروغ عشق سے بیتاب جلوے حریم ناز میں محشر بپا ہے مزاج حسن میں یہ درد مندی بہ فیض عشق کیا سے کیا ہوا ہے خرد ہے جستجوئے سوز آتش محبت آرزوئے برملا ہے نوازش ان کی محتاج محبت مری کم مائیگی کا آسرا ہے چمن کی نکہت افشانی کا باعث یہ موج ...

مزید پڑھیے

نشتر سے آرزو کے دل زندگی فگار

نشتر سے آرزو کے دل زندگی فگار خود زندگی وجود کے سینہ میں نوک خار اے حسن یار تیری تجلی کو کیا ہوا یہ بے قرار دل مرا اب تک ہے بے قرار جلووں نے تیرے حسرت نظارہ کو مری دیکھا کیا ہے ناز تغافل سے بار بار دل پر نگاہ شوق مزاج جمال پر حالات و واردات پہ کس کو ہے اختیار مجھ پر ہوئی نوازش ...

مزید پڑھیے

جب سے قسطوں میں بٹ گیا ہوں میں

جب سے قسطوں میں بٹ گیا ہوں میں اپنے محور سے ہٹ گیا ہوں میں جب شناسا نہ مل سکا کوئی اپنی جانب پلٹ گیا ہوں میں میرا سایہ بھی بڑھ گیا مجھ سے اس سلیقہ سے گھٹ گیا ہوں میں مل گئے جو بھی مطمئن لمحے ان سے فوراً لپٹ گیا ہوں میں روشنی جب بڑھی مری جانب دو قدم پیچھے ہٹ گیا ہوں میں آرزو ٹیس ...

مزید پڑھیے

سلسلے حادثوں کے دھیان میں رکھ

سلسلے حادثوں کے دھیان میں رکھ عمر بھر خود کو امتحان میں رکھ مانگ بھرتے ہیں جو صلیبوں کی ان فرشتوں کو آسمان میں رکھ جانے کس موڑ سے گزرنا ہو اجنبی راستے گمان میں رکھ زندگی کے بہت قریب نہ جا فاصلہ کچھ تو اپنے دھیان میں رکھ بے حسوں پر بھی جو گراں گزریں ایسے جملوں کو داستان میں ...

مزید پڑھیے

زندگی تیرے عجب ٹھور ٹھکانے نکلے

زندگی تیرے عجب ٹھور ٹھکانے نکلے پتھروں میں تری تقدیر کے دانے نکلے درد ٹیس اور جلن سے ہیں ابھی ناواقف زخم جو بچے ہتھیلی پہ اگانے نکلے میں تو ہر شے کا خریدار ہوں لیکن وہ آج اتنی جرأت کہ مرے دام لگانے نکلے نئی تحقیق نے قطروں سے نکالے دریا ہم نے دیکھا ہے کہ ذروں سے زمانے نکلے تلخ ...

مزید پڑھیے

پڑ گئی جیسے عقل پر مٹی

پڑ گئی جیسے عقل پر مٹی خاک منزل ہے رہ گزر مٹی موڑ سکتے ہیں گیلی ہونے تک ٹوٹ جاتی ہے سوکھ کر مٹی بے ضمیری جفا کشی نفرت نام بدلے ہوئے ہے ہر مٹی پھر بھی ظالم کی پیاس باقی ہے ہو چکی ہے لہو میں تر مٹی آؤ تازہ مصالحت کر لیں پچھلی باتوں پہ ڈال کر مٹی جتنے فرمان تھے بزرگوں کے ہو گئے آج ...

مزید پڑھیے

کوئی سنتا ہی نہیں کس کو سنانے لگ جائیں

کوئی سنتا ہی نہیں کس کو سنانے لگ جائیں درد اگر اٹھے تو کیا شور مچانے لگ جائیں بھید ایسا کہ گرہ جس کی طلب کرتی ہے عمر رمز ایسا کہ سمجھنے میں زمانے لگ جائیں آ گیا وہ تو دل و جان بچھے ہیں ہر سو اور نہیں آئے تو کیا خاک اڑانے لگ جائیں تیری آنکھوں کی قسم ہم کو یہ ممکن ہی نہیں تو نہ ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5366 سے 6203