قومی زبان

محبت کیا محبت کا صلا کیا

محبت کیا محبت کا صلا کیا غم بربادئ جنس وفا کیا دل بے مدعا کا مدعا کیا ہمارا حال ہم سے پوچھنا کیا ہمیں دنیا میں اپنے غم سے مطلب زمانے کی خوشی سے واسطا کیا ستم ہائے فراواں چاہتا ہوں کرم کی آرزو کیا التجا کیا ہم اس کے اور اس کا غم ہمارا اس انداز کرم کا پوچھنا کیا رہا دل کو نہ اب ...

مزید پڑھیے

باجرے کی روٹیاں

خوب صورت خوب صورت چھوٹی چھوٹی روٹیاں کتنی پیاری کتنی سندر کیسی اچھی روٹیاں میری خاطر اس بڑھاپے میں بھی اپنے ہاتھ سے دادی اماں نے پکائیں باجرے کی روٹیاں

مزید پڑھیے

چھین جھپٹ

روتے ہوئے منے میاں بولے کہ امی دیکھنا بھیا نے مجھ سے چھین کر باجی کا حصہ کھا لیا

مزید پڑھیے

چاند

اجل اجل کومل کومل چمکیلا چمکیلا چاند نئی نویلی دلہن جیسا شرمیلا شرمیلا چاند وہ دیکھو وہ مسکاتا بل کھاتا لے کر انگڑائی اک بادل کی اوٹ سے نکلا چنچل شوخ سجیلا چاند اجلی رنگت گورا مکھڑا اس پہ روپہلی ہے پوشاک تاروں کے جھرمٹ میں کیسا لگتا ہے بھڑکیلا چاند روپ انوپ کی ناؤ پہ بیٹھا ...

مزید پڑھیے

اب جام نگاہوں کے نشہ کیوں نہیں دیتے

اب جام نگاہوں کے نشہ کیوں نہیں دیتے اب بول محبت کے مزا کیوں نہیں دیتے تم کھول کے زلفوں کو اڑا کیوں نہیں دیتے تم شان گھٹاؤں کی گھٹا کیوں نہیں دیتے اک گھونٹ کی امید سمندر سے نہیں جب پھر آگ سمندر میں لگا کیوں نہیں دیتے ہے منتظر حشر بہت دیر سے دنیا گھنگھرو ترے پیروں کے صدا کیوں ...

مزید پڑھیے

میں پیٹ سے اپنے خود ہی کپڑا اٹھا رہا ہوں بتا رہا ہوں

میں پیٹ سے اپنے خود ہی کپڑا اٹھا رہا ہوں بتا رہا ہوں میں اپنے بچوں کو آج بھوکا سلا رہا ہوں بتا رہا ہوں بساط سے بڑھ کے خرچ خود کو کیا ہے میں نے مری خطا ہے اور اب میں چادر سے پاؤں اپنے چھپا رہا ہوں بتا رہا ہوں انا کو اپنی میں اپنے ہاتھوں سے ہار دوں گا یا مار دوں گا غرور کو اپنے خاک ...

مزید پڑھیے

کبھی صدیوں کو لمحہ مارتا ہے

کبھی صدیوں کو لمحہ مارتا ہے کبھی دریا کو قطرہ مارتا ہے کہیں پر ایک کو مجمعے نے مارا کہیں مجمعے کو تنہا مارتا ہے میں یہ فہم و فراست بیچ تو دوں مجھے دل کا کٹہرا مارتا ہے حوالے جب سے تیرے دل کیا ہے اسے تیرا حوالہ مارتا ہے تجھے گھر سے بھگا سکتا ہوں تیرے مگر بہنوں کا چہرہ مارتا ...

مزید پڑھیے

بھلا کشکول کے آگے یہ کاسہ کون کرتا ہے

بھلا کشکول کے آگے یہ کاسہ کون کرتا ہے ہو دل اپنا تو پھر دوجے کی آشا کون کرتا ہے یہاں ہم ہیں بھرے بیٹھے وہاں ان کو بھی غصہ ہے چلو پھر دیکھتے ہیں اب تماشا کون کرتا ہے تمہارا پیار ہے نہ جو سنو رتی برابر ہے یہ خود ہی دیکھ لو تولے کو ماشا کون کرتا ہے سنا ہے دونوں ہی اک دوسرے سے پیار ...

مزید پڑھیے

چلے تھے بھر کے ریت جب سفر کی جسم و جاں میں ہم

چلے تھے بھر کے ریت جب سفر کی جسم و جاں میں ہم تو ساحلوں کا عکس دیکھتے تھے بادباں میں ہم طیور تھے جو گھونسلوں میں پیکروں کے اڑ گئے اکیلے رہ گئے ہیں اپنے خواب کے مکاں میں ہم ہماری جستجو بھی اب تو ہو گئی ہے گرد گرد کہ نقش پا کو ڈھونڈتے ہیں رہ کے ہر نشاں میں ہم اشاریت تھی بے زباں تھا ...

مزید پڑھیے

بن کے ساحل کی نگاہوں میں تماشا ہم لوگ

بن کے ساحل کی نگاہوں میں تماشا ہم لوگ نقش پا ڈھونڈ رہے ہیں سر دریا ہم لوگ سائے چھوٹے تو پگھلنے لگے پھر دھوپ میں جسم کاش ہوتے نہ کبھی خود سے شناسا ہم لوگ ہم کو نفرت ہے اندھیروں سے مگر کیا کیجے کہ اجالوں سے بھی رکھتے نہیں رشتہ ہم لوگ کچھ نظر آتا نہیں جن میں دھندلکوں کے سوا کرتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5346 سے 6203