ہاتھوں سے میرے چھین کر دل کا مآل لے گئی
ہاتھوں سے میرے چھین کر دل کا مآل لے گئی جانے کہاں کہاں مجھے گردش حال لے گئی کام نہ کوئی آ سکا لیکن یہ آنکھ کی نمی سلسلۂ غبار سے مجھ کو نکال لے گئی موج ہوس کے دوش پر کوہ سیاہ تک گیا مجھ کو ہوائے شوق پھر تا بہ زوال لے گئی انگلیاں توڑے کوئی کر لے زبان سنگ کی دیکھیے سبقت شرف صوت ...