قومی زبان

کتنے دل ٹوٹے ہیں دنیا کا خبر ہونے تک

کتنے دل ٹوٹے ہیں دنیا کا خبر ہونے تک کتنے سر پھوٹے ہیں دیوار میں در ہونے تک ایک کانٹا جو نکلتا ہے تو سو چبھتے ہیں امن تھا حوصلۂ فکر و نظر ہونے تک ہم نے اپنے سے بھی سو بار محبت کی ہے ہاں مگر دل میں کسی شوخ کا گھر ہونے تک اب کہیں رقص جنوں ہے تو کہیں نغمۂ خوں کتنی سونی تھی فضا زیر و ...

مزید پڑھیے

برہم زن شیرازۂ ایام ہمیں ہیں

برہم زن شیرازۂ ایام ہمیں ہیں اے درد محبت ترا انجام ہمیں ہیں اس قافلۂ شوق میں یہ وہم ہے سب کو آوارہ و سر گشتہ و ناکام ہمیں ہیں ہوں گے کئی گردن زدنی اور بھی لیکن اس شہر نگاراں میں تو بدنام ہمیں ہیں ہم دھوپ میں تپتے تو پنپ جاتے مگر اب دریوزہ گر مہر لب بام ہمیں ہیں کیا آن تھی ...

مزید پڑھیے

ظلمت کدوں میں کل جو شعاع سحر گئی

ظلمت کدوں میں کل جو شعاع سحر گئی تاریکی حیات یکایک ابھر گئی نظارۂ جمال کی فرصت کہاں ملی پہلی نظر نظر کی حدوں سے گزر گئی اظہار التفات کے بعد ان کی بے رخی اک رنگ اور نقش تمنا میں بھر گئی ذوق جنوں و جذبۂ بیباک کیا ملے ویران ہو کے بھی مری دنیا سنور گئی اب دور کارسازی وحشت نہیں ...

مزید پڑھیے

طے کر چکے یہ زندگی جاوداں سے ہم

طے کر چکے یہ زندگی جاوداں سے ہم آگے بڑھیں گے اور اٹھے ہیں جہاں سے ہم کس کو صدا دیں کس سے کہیں ساتھ لے چلو پیچھے رہے غبار رہ کارواں سے ہم دل میں جو درد ہے وہ نگاہوں سے ہے عیاں یہ بات اور ہے نہ کہیں کچھ زباں سے ہم چونکا دیا قفس نے ہمیں گہری نیند سے وابستہ ہو چلے تھے بہت آشیاں سے ...

مزید پڑھیے

ہولی

پہلے زمانہ اور تھا مے اور تھی دور اور تھا وہ بولیاں ہی اور تھیں وہ ٹولیاں ہی اور تھیں، وہ ہولیاں ہی اور تھیں لیکن مرے پیر مغاں کل تو نیا انداز تھا اک دور کا تھا خاتمہ اک دور کا آغاز تھا تیرے وفاداروں نے جب کھیلیں گلابی ہولیاں نکلے بنا کر ٹولیاں ہنستے چلے گاتے چلے اپنے گلابی رنگ سے ...

مزید پڑھیے

بھولتی ہوئی یاد

تمہیں جب یاد کرتا ہوں تو اک مٹتی ہوئی دنیا مری آنکھوں کے آئینے میں پہروں جھلملاتی ہے کہیں دم گھٹ رہا ہے مسکراتے سرخ پھولوں کا کہیں کلیوں کے سینے میں ہوا رک رک کے آتی ہے کہیں کجلا گئے ہیں دن کے چمکائے ہوئے ذرے کہیں راتوں کی ہنستی روشنی غم میں نہاتی ہے وہی دنیا جو کل تک دل کا دامن ...

مزید پڑھیے

جب تجھے ملنے کی تدبیر نئی ہوتی ہے

جب تجھے ملنے کی تدبیر نئی ہوتی ہے صورت گردش تقدیر نئی ہوتی ہے منہدم ہوتا ہوں ہر آن پس حرف کہن تب کہیں شعر کی تعبیر نئی ہوتی ہے کیسے لوٹا میں ترے دست زمانہ گر میں تیرے چھونے سے تو تصویر نئی ہوتی ہے وقت دے جائے جسے یاد پرانی کوئی روز اس حرف کی تاثیر نئی ہوتی ہے اک عجب کیف میں ...

مزید پڑھیے

ترے خیال کا نشہ اترتا جاتا ہے

ترے خیال کا نشہ اترتا جاتا ہے ٹھہر ٹھہر کے کوئی پل گزرتا جاتا ہے بکھرتی ہے مرے چہرے پہ جتنی پیلاہٹ اے زندگی ترا چہرہ نکھرتا جاتا ہے زمیں کو بھوک لگی پھر کسی تمدن کی یہ کون زینۂ عبرت اترتا جاتا ہے بتا رہی ہے تھکن تیرے زرد لہجے کی ترے لہو میں کوئی خواب مرتا جاتا ہے جسے سجانا ...

مزید پڑھیے

دشت روز و شب میں دل بیتاب کو تازہ رکھنا

دشت روز و شب میں دل بیتاب کو تازہ رکھنا آنکھیں بے شک جھڑ جائیں اک خواب کو تازہ رکھنا میں بھی اپنی پیاس نہیں بجھنے دوں گا اور تم بھی اپنے صحرا کے ہر ایک سراب کو تازہ رکھنا جذبوں کی اس جھیل میں سوچ کی کائی نہ جمنے پائے اپنی تمنا کے عکس مہتاب کو تازہ رکھنا شاخ ہنر سے توڑ کے شعر کا ...

مزید پڑھیے

رات کے جنگل میں کوئی راستہ ملتا نہیں

رات کے جنگل میں کوئی راستہ ملتا نہیں ایسا الجھا ہوں کہ اب اپنا سرا ملتا نہیں چپ ہیں اب سارے دریچے بند ہیں سارے کواڑ اور کسی دیوار پر کوئی دیا ملتا نہیں اضطراب آرزو کا ساتھ دیں تو کس طرح دل پرانا ہو چکا ہے اور نیا ملتا نہیں جانے کس دریا سے خوشبو باندھ کر لاتی ہے یہ دیکھیے تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5334 سے 6203