کتنے دل ٹوٹے ہیں دنیا کا خبر ہونے تک
کتنے دل ٹوٹے ہیں دنیا کا خبر ہونے تک کتنے سر پھوٹے ہیں دیوار میں در ہونے تک ایک کانٹا جو نکلتا ہے تو سو چبھتے ہیں امن تھا حوصلۂ فکر و نظر ہونے تک ہم نے اپنے سے بھی سو بار محبت کی ہے ہاں مگر دل میں کسی شوخ کا گھر ہونے تک اب کہیں رقص جنوں ہے تو کہیں نغمۂ خوں کتنی سونی تھی فضا زیر و ...