دل یہ کہتا ہے کہ اک عالم مضطر دیکھوں
دل یہ کہتا ہے کہ اک عالم مضطر دیکھوں بارش سنگ میں لوگوں کو کھلے سر دیکھوں پھر وہ موسی کا عصا نیل کا شق ہو جانا فوج فرعون کا میں ڈوبتا منظر دیکھوں آئنے توڑ کے دوڑوں میں کسی جنگل کو اپنی صورت کو کسی جھیل کے اندر دیکھوں میرا سب لے لو مجھے ایک محبت دے دو شہر میں ایسی بھی آواز لگا کر ...