قومی زبان

دل یہ کہتا ہے کہ اک عالم مضطر دیکھوں

دل یہ کہتا ہے کہ اک عالم مضطر دیکھوں بارش سنگ میں لوگوں کو کھلے سر دیکھوں پھر وہ موسی کا عصا نیل کا شق ہو جانا فوج فرعون کا میں ڈوبتا منظر دیکھوں آئنے توڑ کے دوڑوں میں کسی جنگل کو اپنی صورت کو کسی جھیل کے اندر دیکھوں میرا سب لے لو مجھے ایک محبت دے دو شہر میں ایسی بھی آواز لگا کر ...

مزید پڑھیے

ورق انتخاب دل میں ہے

ورق انتخاب دل میں ہے ایک تازہ کتاب دل میں ہے کس کو دکھلاؤں اپنے جی کا حال روشن اک آفتاب دل میں ہے روشنی ہے اسی کے چہرے کی وہ جو اک ماہتاب دل میں ہے بند آنکھوں میں ایک عالم ہے کسی منظر کا خواب دل میں ہے سب ہی سینے میں ہو رہا ہے ظہیرؔ درد کی کائنات دل میں ہے

مزید پڑھیے

نہ آسماں کی کہانی نہ واں کا قصہ لکھ

نہ آسماں کی کہانی نہ واں کا قصہ لکھ اٹھا دوات و قلم آدمی کا چہرہ لکھ ہزار شور سمیٹے ہوئے ہے میرا وجود مرے وجود کے صحرا کو چشم دریا لکھ بنائے موسم غم ہائے ذات ہے دنیا اسے تو رشک ارم لکھ کہ شاخ طوبیٰ لکھ وہ نور پھیلا وہ پھوٹی کوئی کرن تازہ تمام عمر اندھیرا ہی تھا نہ ایسا لکھ جو ...

مزید پڑھیے

اٹھیں گے موت سے پہلے

اٹھیں گے موت سے پہلے اسی سفر کے لیے جسے حیات کے صدموں نے ملتوی نہ کیا وہ ہم کہ پھول کی لو کو فریب دیتے تھے قریب شام ستاروں کی رہ گزر پہ چلے وہ ہم کہ تازہ جہاں کے نقیب زن تھے نئے صبا کی چال سے آگے ہماری چال رہی مگر گمان کے قدموں نے اس کو طے نہ کیا وہی سفر جو ہمارے اور اس کے بیچ رہا جسے ...

مزید پڑھیے

مرے چراغ بجھ گئے

مرے چراغ بجھ گئے میں تیرگی سے روشنی کی بھیک مانگتا رہا ہوائیں ساز باز کر رہی تھیں جن دنوں سیاہ رات سے انہی سیاہ ساعتوں میں سانحہ ہوا تمام آئینے غبار سے بے نور ہو گئے سرا کے چار سمت ہول ناک شب کی خامشی چمکتی آنکھ والے بھیڑیوں کے غول لے کے آ گئی قبائے زندگی وہ پھاڑ لے گئے نکیلے ...

مزید پڑھیے

چرواہے کا جواب

آگ برابر پھینک رہا تھا سورج دھرتی والوں پر تپتی زمیں پر لو کے بگولے خاک اڑاتے پھرتے تھے نہر کنارے اجڑے اجڑے پیڑ کھڑے تھے کیکر کے جن پر دھوپ ہنسا کرتی ہے ویسے ان کے سائے تھے اک چرواہا بھیڑیں لے کر جن کے نیچے بیٹھا تھا سر پر میلا صافا تھا اور کلہاڑی تھی ہاتھوں میں چلتے چلتے چرواہے ...

مزید پڑھیے

مصیبت کی خبریں

مصیبت کی خبریں سنو شام والو مصیبت کی خبریں گریبان دامن تلک چاک کر دو سروں پر سواروں کی روندی ہوئی خاک ڈالو ابو قیس کو موت نے کھا لیا ہے امیر دمشق ان دنوں سوگواری میں ہیں غموں کے اندھیروں میں جکڑے ہوئے حزن کی آگ سے ان کا دل جل گیا آہ بو قیس کی موت کے بار سے جھک گئے ہیں خلیفہ کے ...

مزید پڑھیے

رہزنی خوب نہیں خواجہ سراؤں کے لیے

رہزنی خوب نہیں خواجہ سراؤں کے لیے شور پائل کا سر راہ نہ رسوا کر دے ہاتھ اٹھیں گے تو کنگن کی صدا آئے گی تیرگی فتنۂ شہوت کو ہوا دیتی ہے چاندنی رقص پہ مجبور کیا کرتی ہے نرم ریشم سے بنے شوخ دوپٹوں کی قسم لوگ لٹنے کو سر راہ چلے آئیں گے اس قدر آئیں گے بھر جائے گا پھر رات کا دل سخت لہجہ ...

مزید پڑھیے

بے یقین بستیاں

وہ اک مسافر تھا جا چکا ہے بتا گیا تھا کہ بے یقینوں کی بستیوں میں کبھی نہ رہنا کبھی نہ رہنا کہ ان پہ اتنے عذاب اتریں گے جن کی گنتی عدد سے باہر وہ اپنے مردے تمہارے کاندھوں پہ رکھ کے تم کو جدا کریں گے تم ان جنازوں کو قریہ قریہ لیے پھروگے فلک بھی جن سے نا آشنا ہے جنہیں زمینیں بھی رد ...

مزید پڑھیے

پیاسا اونٹ

جس وقت مہار اٹھائی تھی میرا اونٹ بھی پیاسا تھا مشکیزے میں خون بھرا تھا آنکھ میں صحرا پھیلا تھا خشک ببولوں کی شاخوں پر سانپ نے حلقے ڈالے تھے جن کی سرخ زبانوں سے پتوں نے زہر کشید کیا کالی گردن پیلی آنکھوں والی بن کی ایک چڑیل نیلے پنجوں والے ناخن جن کے اندر چکنا میل ایک کٹورا خشک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5335 سے 6203