قومی زبان

ناگہانی صدمہ

جون1907ء میں ایک معزز خاتون لیڈی نے ایک پارٹی دی ۔ جس میں اقبال بھی مدعو تھے ۔دفعتاً مس سروجنی نائیڈو نہایت پر تکلف لباس اور جھلملاتے ہوئے زیورات پہنے ہوئے جھم جھم کرتی سامنے آن موجود ہوئیں اور آتے ہی اقبال کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا۔’’میں تو صرف آپ سے ملنے یہاں آگئی ہوں ...

مزید پڑھیے

اقبال کی داڑھی اور مولانا کا ہاتھ

علامہ اقبال تمام عمر اسلام کی شان اور مسلمانوں کے بارے میں شاعری کرتے رہے لیکن اسلامی رواج کے مطابق داڑھی نہیں رکھتے تھے۔ ایک مولانا اپنے ایک مقدمے میں مشورے کے لیے ان کے پاس آتے رہتے تھے ۔ وہ اپنی بہن کو جائیداد کے حصے سے محروم کرنا چاہتے تھے ۔ علامہ کو اس مقدمہ میں کوئی دلچسپی ...

مزید پڑھیے

طوائف سے رشتہ

اخبار ’’وطن ‘‘ کے ایڈیٹر مولوی انشاء اللہ خاں علامہ کے ہاں اکثر حاضر ہوتے تھے ۔ ان دنوں علامہ انار کلی بازار میں رہتے تھے اور وہیں طوائفیں آباد تھیں ۔ میونسپل کمیٹی نے ان کے لئے دوسری جگہ تجویز کی ۔ چنانچہ انہیں وہاں سے اٹھا دیا گیا ۔ اس زمانے میں مولوی انشاء اللہ خاں کئی ...

مزید پڑھیے

روغن فاسفورس کا احسان

خواجہ حسن نظامی نے ایک مرتبہ اپنے اخبار’’منادی‘‘ میں لکھا کہ میں ڈاکٹر اقبال کو ہندوستان کا عظیم شاعر نہیں سمجھتا۔ انہیں دنوں ڈاکٹر اقبال کے گھٹنوں میں درد ہوگیا خواجہ صاحب نے انہیں اپنا روغن فاسفورس بھیجا جس سے انہیں افاقہ ہوگیا ۔ انہوں نے خواجہ صاحب کو خط لکھا کہ’’مجھے ...

مزید پڑھیے

موٹر میں کتے

فقیر سید وحیدالدین کے ایک عزیز کو کتے پالنے کا بے حد شوق تھا۔ ایک روز وہ لوگ کتوں کے ہمراہ علامہ سے ملنے چلے آئے یہ لوگ ا تر اتر کر اندر جا بیٹھے اور کتے موٹر ہی میں رہے ۔ اتنے میں علامہ کی ننھی بچی منیر ہ بھاگتی ہوئی آئی اور باپ سے کہنے لگی ’’ابا ابا موٹر میں کتے آئے ہیں ۔‘‘ ...

مزید پڑھیے

ڈگری پر ڈگری

علامہ اقبال نے جب کیمبرج یونیورسٹی سے بی۔ اے کرلیا تو ان کے بڑے بھائی نے انہیں لکھا کہ’’اب بیرسٹری کا کورس پورا کرکے واپس آجاؤ۔‘‘ لیکن علامہ کا اراداہ پی ایچ ڈی کرنے کا تھا ۔ اس لیے انہوں نے بھائی کو لکھا کہ ’’کچھ رقم بھیجئے تاکہ جرمنی جاکر ڈاکٹری کی سند لے لوں۔‘‘ انہیں ...

مزید پڑھیے

چودھری صاحب کا صابن!

علامہ اقبالؔ چودھری شہاب الدین سے ہمیشہ مذاق کرتے تھے ۔چودھری صاحب بہت کالے تھے۔ایک دن علامہ چودھری صاحب سے ملنے ان کے گھر گئے ۔ بتایا گیا کہ چودھری جی غسل خانے میں ہیں ۔ اقبال کچھ دیر انتظار میں بیٹھے رہے ۔ جب چودھری صاحب باہر آئے تو اقبالؔ نے کہا ’’پہلے آپ ایک بات بتائیے۔ آپ ...

مزید پڑھیے

اقبال ہمیشہ دیر ہی سے آتا ہے

علامہ اقبال بچپن ہی سے بذلہ سنج اور شوخ طبیعت واقع ہوئے تھے ۔ ایک روز (جب ان کی عمر گیارہ سال کی تھی ) انہیں اسکول پہنچنے میں دیر ہوگئی ۔ماسٹر صاحب نے پوچھا’’اقبال تم دیر سے آئے ہو۔‘‘ اقبال نے بے ساختہ جواب دیا۔’’جی ہاں! اقبال ہمیشہ دیر ہی سے آتا ہے ۔‘‘

مزید پڑھیے

انوکھی تصنیف

علامہ اقبال کو حکومت کی طرف سے ’’سر‘‘ کا خطاب ملا تو انہوں نے اسے قبول کرنے کی یہ شرط رکھی کہ ان کے استاد مولانا میر حسن کو بھی ’’شمس العلماء ‘‘ کے خطاب سے نوازا جائے ۔حکام نے یہ سوال اٹھایا کہ ان کی کوئی تصنیف نہیں، انہیں کیسے خطاب دیا جاسکتا ہے ! علامہ نے فرمایا۔’’ان کی ...

مزید پڑھیے

ایک مکڑا اور مکھی

اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمہارا لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت بھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا غیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہے اپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا آؤ جو مرے گھر میں تو عزت ہے یہ میری وہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5288 سے 6203