قومی زبان

’’اے چودھری صاحب! آج آپ ننگے ہی چلے آئے ۔‘‘

پنجاب کے مشہور قانون داں چودھری شہاب الدین علامہ کے بے تکلف دوستوں میں سے تھے ۔ ان کا رنگ کالا اور ڈیل ڈول بہت زیادہ تھا ۔ ایک روز وہ سیاہ سوٹ پہنے ہوئے اور سیاہ ٹائی لگائے کورٹ میں آئےتو اقبال نے انہیں سرتاپا سیاہ دیکھ کر کہا: ’’اے چودھری صاحب! آج آپ ننگے ہی چلے آئے ۔‘‘

مزید پڑھیے

قوال کا وجد

خلافت تحریک کے زمانے میں مولانا محمد علی ،اقبال کے پاس آئے اور لعنت ملامت کرتے ہوئے بولے۔’’ظالم تم نے لوگوں کو گرما کر ان کی زندگی میں ہیجان برپا کردیا ہے ۔ خود کسی کا م میں حصہ نہیں لیتے۔‘‘ اس پر اقبال نے جواب دیا تم بالکل بے سمجھ ہو ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئےپ کہ میں تو قوم کا ...

مزید پڑھیے

حماقت کا اعتراف

ایک دفعہ علامہ سے سوال کیا گیا کہ عقل کی انتہا کیا ہے ۔ جواب دیا ’’حیرت ‘‘ پھر سوال ہوا۔ ’’عشق کی انتہا کیا ہے ۔‘‘ فرمایا۔’’عشق کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔‘‘ سوال کرنے والے نے پھر پوچھا۔ ’’تو آپ نے یہ کیسے لکھا۔ ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں۔ ‘‘ علامہ نے مسکراکر جواب دیا ۔ ...

مزید پڑھیے

افطاری کا انتظام

ماہ رمضان میں ایک بار پروفیسر حمید احمد خاں،ڈاکٹر سعید اللہ اور پروفیسر عبدالواحد ، علامہ اقبال کے گھر پر حاضر ہوئے ۔ کچھ دیر بعد مولاناعبدالمجید سالک اور مولانا غلام رسول مہربھی تشریف لے آئے ۔ افطاری کے وقت علامہ نے گھنٹی بجاکر نوکر کو بلایا اور اس سے کہا : ’’افطاری کے لئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5287 سے 6203