خودی کی خلوتوں میں گم رہا میں
خودی کی خلوتوں میں گم رہا میں خدا کے سامنے گویا نہ تھا میں! نہ دیکھا آنکھ اٹھا کر جلوۂ دوست قیامت میں تماشا بن گیا میں!
خودی کی خلوتوں میں گم رہا میں خدا کے سامنے گویا نہ تھا میں! نہ دیکھا آنکھ اٹھا کر جلوۂ دوست قیامت میں تماشا بن گیا میں!
مکانی ہوں کہ آزاد مکاں ہوں جہاں میں ہوں کہ خود سارا جہاں ہوں وہ اپنی لا مکانی میں رہیں مست مجھے اتنا بتا دیں میں کہاں ہوں
ترا تن روح سے نا آشنا ہے عجب کیا آہ تیری نارسا ہے تن بے روح سے بے زار ہے حق خدائے زندہ زندوں کا خدا ہے
کوئی دیکھے تو میری نے نوازی نفس ہندی مقام نغمہ تازی! نگہ آلودۂ انداز افرنگ! طبیعت غزنوی قسمت ایازی!
تری دنیا جہان مرغ و ماہی مری دنیا فغان صبح گاہی تری دنیا میں میں محکوم و مجبور مری دنیا میں تیری پادشاہی!
عطا اسلاف کا جذب دروں کر شریک زمرۂ لا یحزنوں،کر خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر
پنجاب کے مشہور قانون داں چودھری شہاب الدین علامہ کے بے تکلف دوستوں میں سے تھے ۔ ان کا رنگ کالا اور ڈیل ڈول بہت زیادہ تھا ۔ ایک روز وہ سیاہ سوٹ پہنے ہوئے اور سیاہ ٹائی لگائے کورٹ میں آئےتو اقبال نے انہیں سرتاپا سیاہ دیکھ کر کہا: ’’اے چودھری صاحب! آج آپ ننگے ہی چلے آئے ۔‘‘
خلافت تحریک کے زمانے میں مولانا محمد علی ،اقبال کے پاس آئے اور لعنت ملامت کرتے ہوئے بولے۔’’ظالم تم نے لوگوں کو گرما کر ان کی زندگی میں ہیجان برپا کردیا ہے ۔ خود کسی کا م میں حصہ نہیں لیتے۔‘‘ اس پر اقبال نے جواب دیا تم بالکل بے سمجھ ہو ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئےپ کہ میں تو قوم کا ...
ایک دفعہ علامہ سے سوال کیا گیا کہ عقل کی انتہا کیا ہے ۔ جواب دیا ’’حیرت ‘‘ پھر سوال ہوا۔ ’’عشق کی انتہا کیا ہے ۔‘‘ فرمایا۔’’عشق کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔‘‘ سوال کرنے والے نے پھر پوچھا۔ ’’تو آپ نے یہ کیسے لکھا۔ ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں۔ ‘‘ علامہ نے مسکراکر جواب دیا ۔ ...
ماہ رمضان میں ایک بار پروفیسر حمید احمد خاں،ڈاکٹر سعید اللہ اور پروفیسر عبدالواحد ، علامہ اقبال کے گھر پر حاضر ہوئے ۔ کچھ دیر بعد مولاناعبدالمجید سالک اور مولانا غلام رسول مہربھی تشریف لے آئے ۔ افطاری کے وقت علامہ نے گھنٹی بجاکر نوکر کو بلایا اور اس سے کہا : ’’افطاری کے لئے ...