قومی زبان

کر کے بیمار دی دوا تو نے

کر کے بیمار دی دوا تو نے جان سے پہلے دل لیا تو نے رہرو تشنہ لب نہ گھبرانا اب لیا چشمۂ بقا تو نے شیخ جب دل ہی دیر میں نہ لگا آ کے مسجد سے کیا لیا تو نے دور ہو اے دل مآل اندیش کھو دیا عمر کا مزا تو نے ایک بیگانہ وار کر کے نگاہ کیا کیا چشم آشنا تو نے دل و دیں کھو کے آئے تھے سوئے ...

مزید پڑھیے

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں ہیں دور جام اول شب میں خودی سے دور ہوتی ہے آج دیکھیے ہم کو سحر کہاں یا رب اس اختلاط کا انجام ہو بخیر تھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں اک عمر چاہیئے کہ گوارا ہو نیش عشق رکھی ہے آج لذت زخم جگر کہاں بس ہو چکا ...

مزید پڑھیے

بری اور بھلی سب گزر جائے گی

بری اور بھلی سب گزر جائے گی یہ کشتی یوں ہی پار اتر جائے گی ملے گا نہ گلچیں کو گل کا پتا ہر اک پنکھڑی یوں بکھر جائے گی رہیں گے نہ ملاح یہ دن سدا کوئی دن میں گنگا اتر جائے گی ادھر ایک ہم اور زمانہ ادھر یہ بازی تو سو بسوے ہر جائے گی بناوٹ کی شیخی نہیں رہتی شیخ یہ عزت تو جائے گی پر ...

مزید پڑھیے

ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر

ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر وہی اصرار ہے خطاؤں پر رہیں نا آشنا زمانہ سے حق ہے تیرا یہ آشناؤں پر رہروو با خبر رہو کہ گماں رہزنی کا ہے رہنماؤں پر ہے وہ دیر آشنا تو عیب ہے کیا مرتے ہیں ہم انہیں اداؤں پر اس کے کوچہ میں ہیں وہ بے پر و بال اڑتے پھرتے ہیں جو ہواؤں پر شہسواروں پہ بند ہے جو ...

مزید پڑھیے

بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج

بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج بول کر ہم نے منہ کی کھائی آج چپ پر اپنی بھرم تھے کیا کیا کچھ بات بگڑی بنی بنائی آج شکوہ کرنے کی خو نہ تھی اپنی پر طبیعت ہی کچھ بھر آئی آج بزم ساقی نے دی الٹ ساری خوب بھر بھر کے خم لنڈھائی آج معصیت پر ہے دیر سے یا رب نفس اور شرع میں لڑائی آج غالب آتا ہے ...

مزید پڑھیے

وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے

وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے نہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہے قطع امید نے دل کر دیے یکسو صد شکر شکل مدت میں یہ اللہ نے دکھلائی ہے قوت دست خدائی ہے شکیبائی میں وقت جب آ کے پڑا ہے یہی کام آئی ہے ڈر نہیں غیر کا جو کچھ ہے سو اپنا ڈر ہے ہم نے جب کھائی ہے اپنے ہی سے زک کھائی ہے نشہ میں ...

مزید پڑھیے

لو مرے دل نے ذرا اس سے لگائی ہی نہیں

لو مرے دل نے ذرا اس سے لگائی ہی نہیں میں نے چاہت کی کبھی جوت جگائی ہی نہیں روشنی روح تک آئی ہے تو آئی کیسے جب کہ اس تک تو مری کوئی رسائی ہی نہیں اپنی رو میں ہوں بہے جاتی ہوں ندی کی طرح پتھروں کو میں کبھی دھیان میں لائی ہی نہیں کیسے بن جاتے ہیں سب کام یہ بگڑے میرے ایک نیکی تو ابھی ...

مزید پڑھیے

قریب آ کے بھی کوئی کہے نہیں ملنا

قریب آ کے بھی کوئی کہے نہیں ملنا سبھی سے ہاتھ ملانا گلے نہیں ملنا تمہارے چھوڑ کے جانے سے میں نے سیکھا ہے جو ڈھیر شوق سے آئے اسے نہیں ملنا تیرے بغیر گزرتے ہوئے دنوں کی قسم یہ دن گزر بھی گئے تو تجھے نہیں ملنا ذرا سی دیر میں انسان سیکھ جاتا ہے کہ کس سے دوری بھلی ہے کسے نہیں ...

مزید پڑھیے

سمجھ سکے جو مری بات وہ کلام کرے

سمجھ سکے جو مری بات وہ کلام کرے نہیں سمجھتا تو بس دور سے سلام کرے جسے بھی چاہیے خیرات میں مری آواز وہ پہلے میری خموشی کا احترام کرے کواڑ کھلتے ہی ورنہ بدن سے لپٹے گی اسے کہو کہ اداسی کا انتظام کرے معاملات جہاں اس کے واسطے چھوڑے اور ایک وہ ہے جو فرصت سے اپنے کام کرے مجھے سکوں ...

مزید پڑھیے

کوئی سپاہی نہیں بچ سکا نشانوں سے

کوئی سپاہی نہیں بچ سکا نشانوں سے گلی میں تیر برستے رہے مکانوں سے یہ بردباری اچانک سے تھوڑی آئی ہے کلام کرنا پڑا مجھ کو بد زبانوں سے تمہارے ہاتھ سلامت رہیں تو شہزادے یہ شال یوں ہی سرکتی رہے گی شانوں سے ہماری راہ میں دیوار بن گئے وہ لوگ جنہیں سنائی نہیں دے رہا تھا کانوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5267 سے 6203