قومی زبان

ہر اک رشتہ بکھرا بکھرا کیوں لگتا ہے

ہر اک رشتہ بکھرا بکھرا کیوں لگتا ہے اس دنیا میں سب کچھ جھوٹا کیوں لگتا ہے میرا دل کیوں سمجھ نہ پایہ ان باتوں کو جو ویسا ہوتا ہے ایسا کیوں لگتا ہے جو یادیں اکثر تڑپاتی ہے اس دل کو ان یادوں کا دل میں میلا کیوں لگتا ہے اس کو فکر وہ سب سے بڑا کیسے ہو جائے میں سوچوں وہ اتنا چھوٹا کیوں ...

مزید پڑھیے

جہاں میں ہر بشر مجبور ہو ایسا نہیں ہوتا

جہاں میں ہر بشر مجبور ہو ایسا نہیں ہوتا ہر اک راہی سے منزل دور ہو ایسا نہیں ہوتا تعلق ٹوٹنے کا غم کبھی ہم سے بھی پوچھو تم تمہارا زخم ہی ناسور ہو ایسا نہیں ہوتا گواہوں کو تو بک جانے کی مجبوری رہی ہوگی ہمیں بھی فیصلہ منظور ہو ایسا نہیں ہوتا محبت جرم ہے تو پھر سزا بھی ایک جیسی ...

مزید پڑھیے

زمانے بھر سے جدا اور با کمال کوئی

زمانے بھر سے جدا اور با کمال کوئی مرے خیالوں میں رہتا ہے بے مثال کوئی نہ جانے کتنی ہی راتوں کا جاگنا ٹھہرا مرے وجود سے الجھا ہے جب خیال کوئی تمہیں بتاؤ کہ پھر گفتگو سے کیا حاصل جواب ہونے کی ضد کر لے جب سوال کوئی کرم کے بخش دیا تو نے مشکلوں کا پہاڑ اب اس پہاڑ سے رستہ مگر نکال ...

مزید پڑھیے

مشکل کو سمجھنے کا وسیلہ نکل آتا

مشکل کو سمجھنے کا وسیلہ نکل آتا تم بات تو کرتے کوئی رستہ نکل آتا گھر سے جو مرے سونا یا پیسہ نکل آتا کس کس سے مرا خون کا رشتہ نکل آتا میرے لئے اے دوست بس اتنا ہی بہت تھا جیسا تجھے سوچا تھا تو ویسا نکل آتا میں جوڑ تو دیتا تری تصویر کے ٹکڑے مشکل تھا کہ وو پہلا سا چہرہ نکل آتا بس اور ...

مزید پڑھیے

رات صبح بہار ہوگی

مہیب سایوں میں پل رہا ہوں کہ لاکھ رنج و الم میں محصور ایک جنس گراں ہے اقرار جس کا آفات کا سبب ہے میں کیسے بھولوں میں بھول جاؤں کشمکش میں دھول آنکھوں میں جھونک ڈالوں تو رات صبح بہار ہوگی مرا تسلسل میرے مقدر کے ساتھ پیہم رواں دواں ہے زمین سائے کو جھیل لے گی میں چل پڑوں گا جو بھید ...

مزید پڑھیے

نہ رہنے کا دکھ

اک ایسا لمحہ آئے گا جب کانپے گی شاخوں پر رنگوں کی لو اور خوشبو مر جائے گی جن آنکھوں نے سب سمتوں پر پھیلی ہوئی نیلی چادر کو اور سورج کو دیکھا ہوگا اور ستارے دیکھے ہوں گے اور یہ دنیا انسانوں سے لدی ہوئی معصوم سی دنیا دیکھی ہوگی وہ نہ رہیں گی دلوں کے اندر بسنے والے جذبے تھک کر سوچیں ...

مزید پڑھیے

نائی کی حجامت

کوئی حجام کی دوکاں پہ آیا اور اک بچے کو اپنے ساتھ لایا کہا جلدی سے میرا شیو کر دو پھر اس بچے کے سر سے بال کاٹو یقیں ہے دس منٹ سے پہلے لوٹوں میں کیفے ٹیریا میں چائے پی لوں وہاں اک دوست میرا منتظر ہے بلایا چائے پر آج اس نے پھر ہے وہ فوراً چل دیا داڑھی منڈا کر اسی کرسی پہ لڑکے کو بٹھا ...

مزید پڑھیے

اب وہ اگلا سا التفات نہیں

اب وہ اگلا سا التفات نہیں جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں مجھ کو تم سے اعتماد وفا تم کو مجھ سے پر التفات نہیں رنج کیا کیا ہیں ایک جان کے ساتھ زندگی موت ہے حیات نہیں یوں ہی گزرے تو سہل ہے لیکن فرصت غم کو بھی ثبات نہیں کوئی دل سوز ہو تو کیجے بیاں سرسری دل کی واردات نہیں ذرہ ذرہ ہے ...

مزید پڑھیے

غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں

غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں شادی وصل بھی عاشق کو سزاوار نہیں خوبروئی کے لیے زشتیٔ خو بھی ہے ضرور سچ تو یہ ہے کہ کوئی تجھ سا طرح دار نہیں قول دینے میں تامل نہ قسم سے انکار ہم کو سچا نظر آتا کوئی اقرار نہیں کل خرابات میں اک گوشہ سے آتی تھی صدا دل میں سب کچھ ہے مگر رخصت ...

مزید پڑھیے

واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیا

واں اگر جائیں تو لے کر جائیں کیا منہ اسے ہم جا کے یہ دکھلائیں کیا دل میں ہے باقی وہی حرص گناہ پھر کیے سے اپنے ہم پچھتائیں کیا آؤ لیں اس کو ہمیں جا کر منا اس کی بے پروائیوں پر جائیں کیا دل کو مسجد سے نہ مندر سے ہے انس ایسے وحشی کو کہیں بہلائیں کیا جانتا دنیا کو ہے اک کھیل تو کھیل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5266 سے 6203