قومی زبان

اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت

اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت نہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت کس سے پیمان وفا باندھ رہی ہے بلبل کل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت ہے غم روز جدائی نہ نشاط شب وصل ہو گئی اور ہی کچھ شام و سحر کی صورت اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی ...

مزید پڑھیے

کبک و قمری میں ہے جھگڑا کہ چمن کس کا ہے

کبک و قمری میں ہے جھگڑا کہ چمن کس کا ہے کل بتا دے گی خزاں یہ کہ وطن کس کا ہے فیصلہ گردش دوراں نے کیا ہے سو بار مرو کس کا ہے بدخشان و ختن کس کا ہے دم سے یوسف کے جب آباد تھا یعقوب کا گھر چرخ کہتا تھا کہ یہ بیت حزن کس کا ہے مطمئن اس سے مسلماں نہ مسیحی نہ یہود دوست کیا جانئے یہ چرخ کہن ...

مزید پڑھیے

میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں

میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں اک قیامت ہے ترے ہاتھ میں تلوار نہیں کچھ پتا منزل مقصود کا پایا ہم نے جب یہ جانا کہ ہمیں طاقت رفتار نہیں چشم بد دور بہت پھرتے ہیں اغیار کے ساتھ غیرت عشق سے اب تک وہ خبردار نہیں ہو چکا ناز اٹھانے میں ہے گو کام تمام للہ الحمد کہ باہم کوئی ...

مزید پڑھیے

دل کو درد آشنا کیا تو نے

دل کو درد آشنا کیا تو نے درد دل کو دوا کیا تو نے طبع انساں کو دی سرشت وفا خاک کو کیمیا کیا تو نے وصل جاناں محال ٹھہرایا قتل عاشق روا کیا تو نے تھا نہ جز غم بساط عاشق میں غم کو راحت فزا کیا تو نے جان تھی اک وبال فرقت میں شوق کو جاں گزا کیا تو نے تھی محبت میں ننگ منت غیر جذب دل کو ...

مزید پڑھیے

دھوم تھی اپنی پارسائی کی

دھوم تھی اپنی پارسائی کی کی بھی اور کس سے آشنائی کی کیوں بڑھاتے ہو اختلاط بہت ہم کو طاقت نہیں جدائی کی منہ کہاں تک چھپاؤ گے ہم سے تم کو عادت ہے خود نمائی کی لاگ میں ہیں لگاؤ کی باتیں صلح میں چھیڑ ہے لڑائی کی ملتے غیروں سے ہو ملو لیکن ہم سے باتیں کرو صفائی کی دل رہا پائے بند ...

مزید پڑھیے

رنج اور رنج بھی تنہائی کا

رنج اور رنج بھی تنہائی کا وقت پہنچا مری رسوائی کا عمر شاید نہ کرے آج وفا کاٹنا ہے شب تنہائی کا تم نے کیوں وصل میں پہلو بدلا کس کو دعویٰ ہے شکیبائی کا ایک دن راہ پہ جا پہنچے ہم شوق تھا بادیہ پیمائی کا اس سے نادان ہی بن کر ملیے کچھ اجارہ نہیں دانائی کا سات پردوں میں نہیں ٹھہرتی ...

مزید پڑھیے

حشر تک یاں دل شکیبا چاہئے

حشر تک یاں دل شکیبا چاہئے کب ملیں دلبر سے دیکھا چاہئے ہے تجلی بھی نقاب روئے یار اس کو کن آنکھوں سے دیکھا چاہئے غیر ممکن ہے نہ ہو تاثیر غم حال دل پھر اس کو لکھا چاہئے ہے دل افگاروں کی دل داری ضرور گر نہیں الفت مدارا چاہئے ہے کچھ اک باقی خلش امید کی یہ بھی مٹ جائے تو پھر کیا ...

مزید پڑھیے

کہنا بڑوں کا مانو

ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت کڑوی نصیحتوں میں ان کی بھرا ہے امرت چاہو اگر بڑائی تو کہنا بڑوں کا مانو ماں باپ کا عزیزو مانا نہ جس نے کہنا دشوار ہے جہاں میں عزت سے اس کا رہنا ڈر ہے پڑے نہ صدمہ ذلت کا اس کا سہنا چاہو اگر بڑائی تو کہنا بڑوں کا ...

مزید پڑھیے

ہواؤں میں دلوں کا کارواں ہے

ہواؤں میں دلوں کا کارواں ہے مقدس عشق جب سے مہرباں ہے مرے دل کو سکوں آیا یہیں پر بڑا مخصوص تیرا آستاں ہے وہ مجھ سے دور جائے گا بھی کیسے جو میری روح کے اندر نہاں ہے محبت کے سفر پر جاؤ لیکن وہاں ہر موڑ پر اک امتحاں ہے مرے دل پر اسی کی ہے حکومت لکیروں میں مری جس کا نشاں ہے چھپا ...

مزید پڑھیے

خوابوں کی بات آنکھوں سے ٹالی نہیں گئی

خوابوں کی بات آنکھوں سے ٹالی نہیں گئی اک شب بھی میری خام خیالی نہیں گئی اس کا ہی ساتھ مجھ کو میسر نہیں ہوا یوں تو مری دعا کبھی خالی نہیں گئی مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی اکیلا رہا مگر چھوٹی سی بات دل سے نکالی نہیں گئی ساتھ اپنے میری نیند بھی لے کر چلا گیا جب سے گیا وہ آنکھ کی لالی نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5265 سے 6203