اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت
اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت نہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت کس سے پیمان وفا باندھ رہی ہے بلبل کل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت ہے غم روز جدائی نہ نشاط شب وصل ہو گئی اور ہی کچھ شام و سحر کی صورت اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی ...