لازم ہے لائیں ڈھونڈ کر خود کو کہیں سے ہم
لازم ہے لائیں ڈھونڈ کر خود کو کہیں سے ہم کیا بے نیاز ہو گئے دنیا و دیں سے ہم محسوس ہو رہا ہے ہمیں تم سے مل کے آج جیسے پہنچ گئے ہوں فلک پہ زمیں سے ہم دنیائے پرف فریب کے انداز دیکھ کر دل یوں بجھا کہ ہو گئے خلوت نشیں سے ہم اس جان آرزو سے ملاقات یوں ہوئی مدت کے بعد جیسے ملے ہوں ہمیں سے ...