قومی زبان

لازم ہے لائیں ڈھونڈ کر خود کو کہیں سے ہم

لازم ہے لائیں ڈھونڈ کر خود کو کہیں سے ہم کیا بے نیاز ہو گئے دنیا و دیں سے ہم محسوس ہو رہا ہے ہمیں تم سے مل کے آج جیسے پہنچ گئے ہوں فلک پہ زمیں سے ہم دنیائے پرف فریب کے انداز دیکھ کر دل یوں بجھا کہ ہو گئے خلوت نشیں سے ہم اس جان آرزو سے ملاقات یوں ہوئی مدت کے بعد جیسے ملے ہوں ہمیں سے ...

مزید پڑھیے

دولت دنیا کہاں درکار ہے

دولت دنیا کہاں درکار ہے مجھ کو تیرا آستاں درکار ہے آپ کو بھی اک سہارا چاہیے مجھ کو بھی اک ہم زباں درکار ہے زندگی کی اس کڑکتی دھوپ میں سایۂ سرد رواں درکار ہے برق و باراں کا اڑائے جو مذاق آج وہ عزم جواں درکار ہے زندگی سے ہے عبارت اک جہاد شیر کی تاب و تواں درکار ہے تیر و نشتر ...

مزید پڑھیے

بجھ جائے دل بشر کا تو اس کو شفا سے کیا

بجھ جائے دل بشر کا تو اس کو شفا سے کیا کس درجہ ہوگی کارگر اس کو دوا سے کیا جھلسا کے رکھ دیا جسے باد سموم نے غنچوں سے کیا غرض اسے باد صبا سے کیا دو وقت جس غریب کو روٹی نہ ہو نصیب مذہب کا کیا کرے اسے ذکر خدا سے کیا رہنے کو جھونپڑا بھی نہ جس شخص کو ملے اس کو سزا کی فکر کیا اس کو جزا سے ...

مزید پڑھیے

قانون قدرت

جب بھی اس ملک پہ آفت کی گھڑی آئی ہے آزمائش کوئی جس وقت کڑی آئی ہے جب ہمیں ان گنت آفات سے ڈر لگتا ہو اور بگڑے ہوئے حالات سے ڈر لگتا ہو غم و آلام کی پر ہول گھٹا چھا جائے سر پہ منڈلاتے ہوں خطرات کے گہرے سائے جب گھٹا ٹوپ اندھیرے میں قدم چل نہ سکیں اور جب جادۂ‌ پر خار پہ ہم چل نہ ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسے وصل کی راتیں گزاری ہے میں نے

کچھ ایسے وصل کی راتیں گزاری ہے میں نے تمام شب تیری صورت نہاری ہے میں نے ابھی سے سارا سمندر اچھال مارتا ہے ابھی تو دریا میں کشتی اتاری ہے میں نے یہ سارے رستے مجھے کھینچنے لگے ہے اب کچھ اتنا چیخ کے منزل پکاری ہے میں نے تمام عمر تری جستجو رہی مجھ کو تمام عمر سفر میں گزاری ہے میں ...

مزید پڑھیے

تمہارے لب پہ نام آیا ہمارا

تمہارے لب پہ نام آیا ہمارا اسی سے نام بھی چمکا ہمارا گھروں سے نکلے تھے پگڈنڈیوں پر سفر میں مل گیا رستہ ہمارا جو میرا غم مٹا سکتا تھا یاروں اسی نے غم نہیں سمجھا ہمارا

مزید پڑھیے

یہ سناٹا ہے میں ہوں چاندنی میں

یہ سناٹا ہے میں ہوں چاندنی میں مزا بھی خوب ہے آوارگی میں لبوں پر مسکراہٹ گال گیلے ترا غم گھل گیا میری خوشی میں ذرا سی دیر کو کھڑکی جو کھولے فرشتے گھومیں گے اس کی گلی میں گھڑی کے پیر تھکتے ہی نہیں کیا گھڑی ایجاد کی تھی کس گھڑی میں جو مٹی کے بنائے تھے خدا نے یہ ایسے لوگ ہے کوزہ ...

مزید پڑھیے

کہنے والے کہہ جاتے ہیں

کہنے والے کہہ جاتے ہیں سہنے والے ڈھ جاتے ہیں پیاسا پیاس بجھا لیتا ہے دریا پیاسے رہ جاتے ہیں اتنا مت رو آنسو کے ساتھ خواب بھی اکثر بہہ جاتے ہیں

مزید پڑھیے

پہلے تو روشنی ہوئی ایجاد

پہلے تو روشنی ہوئی ایجاد بعد میں تیرگی ہوئی ایجاد شام تک آسمان سونا تھا رات کو چاندنی ہوئی ایجاد پہلے سورج نے دھوپ بانٹی پھر پیڑ بھی چھاؤں بھی ہوئی ایجاد رب نے تجھ کو بنایا پھر سوچا ہائے کیا سادگی ہوئی ایجاد پہلے آئی کنویں پہ پنہارن پھر مری پیاس بھی ہوئی ایجاد

مزید پڑھیے

لاش کی طرح ہو چکا ہوں میں

لاش کی طرح ہو چکا ہوں میں جانے کس طرح جی رہا ہوں میں خود کے اندر ہی قید ہو بیٹھا اپنے پنجرے میں ہی پڑا ہوں میں صرف یادیں ملیں گی کمرے میں اب یہاں سے چلا گیا ہوں میں کون مجھ کو گھماتا رہتا ہے کس کی انگلی پہ ناچتا ہوں میں میں جو منزل پہ خود نہیں پہنچا اسی منزل کا راستہ ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5207 سے 6203