تم جلوہ دکھاؤ تو ذرا پردۂ در سے
تم جلوہ دکھاؤ تو ذرا پردۂ در سے ہم تھک گئے نظارۂ خورشید و قمر سے مجبور نمائش نہیں کچھ حسن ہی ان کا ہم بھی تو ہیں مجبور تقاضائے نظر سے بچھڑا ہوا جیسے کوئی ملتے ہی لپٹ جائے یوں تیر ترا آ کے لپٹتا ہے جگر سے کٹتے نہیں کیوں شام جدائی کے یہ لمحے ملتی نہیں کیوں ظلمت شب جا کے سحر ...