قومی زبان

اس نے دیکھا ہے سر بزم ستم گر کی طرح

اس نے دیکھا ہے سر بزم ستم گر کی طرح پھول پھینکا بھی مری سمت تو پتھر کی طرح اس کے لب کو مرے لب رہ گئے چھوتے چھوتے میں بھی ناکام چلا آیا سکندر کی طرح رنگ سورج کا سر شام ہوا جاتا ہے زرد اس کا بھی گھر نہ ہو ویران مرے گھر کی طرح درد اس عہد کی میراث ہے ڈرنا کیسا درد کو اوڑھ لیا کرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

یہ رات ڈھلتے ڈھلتے رکھ گئی جواب کے لیے

یہ رات ڈھلتے ڈھلتے رکھ گئی جواب کے لیے کہ تیری آنکھیں جاگتی ہیں کس کے خواب کے لیے کتاب دل پہ لکھنے کی اجازت اس نے دی نہ تھی ہے سادہ آج بھی ورق یہ انتساب کے لیے مری نظر میں آ گیا ہے جب سے اک صحیفہ رخ کشش رہی نہ دل میں اب کسی کتاب کے لیے ہماری محضر عمل ہے زیر فیصلہ ابھی کھڑے ہیں سر ...

مزید پڑھیے

جو نہ ہوں کچھ تشریح طلب کم ہوتے ہیں

جو نہ ہوں کچھ تشریح طلب کم ہوتے ہیں اس کے اشارے سارے مبہم ہوتے ہیں ہر چہرہ ہر رنگ میں آنے لگتا ہے پیش نظر یادوں کے البم ہوتے ہیں ایسے میں آ جاتی ہے اپنی ہی یاد آئینہ ہوتا ہے اور ہم ہوتے ہیں بھولنے لگتے ہیں جگنو بھی اپنی راہ پلکوں پر جب قطرۂ شبنم ہوتے ہیں موج بلا جب سر سے گزرنے ...

مزید پڑھیے

تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا

تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا جو عیب تھا اسے بھی ہنر کہہ دیا گیا سایہ ہے پیار کا نہ محبت کی دھوپ ہے دیوار کے حصار کو گھر کہہ دیا گیا ان کے ہر ایک گوشے میں صدیاں مقیم ہیں ٹوٹی عمارتوں کو کھنڈر کہہ دیا گیا خودداریٔ انا ہے نہ پندار زیست ہے شانوں کے سارے بوجھ کو سر کہہ دیا ...

مزید پڑھیے

فصیل جسم پہ شب خوں شرارتیں تیری

فصیل جسم پہ شب خوں شرارتیں تیری ذرا سی بھی نہیں بدلی ہیں عادتیں تیری یہ زخم زخم بدن اور لہو لہو یہ خواب کتاب جسم پہ اتری ہیں آیتیں تیری حصار آتش نمرود میں گھرا ہوں میں اب اتنی سست قدم کیوں ہیں رحمتیں تیری چراغ چاند شفق شام پھول جھیل صبا چرائیں سب نے ہی کچھ کچھ شباہتیں تیری یہ ...

مزید پڑھیے

لہجے کا رس ہنسی کی دھنک چھوڑ کر گیا

لہجے کا رس ہنسی کی دھنک چھوڑ کر گیا وہ جاتے جاتے دل میں کسک چھوڑ کر گیا موج ہوائے گل سا وہ گزرا تھا ایک بار پھر بھی مشام جاں میں مہک چھوڑ کر گیا آیا تھا پچھلی رات دبے پاؤں میرے گھر پازیب کی رگوں میں جھنک چھوڑ کر گیا لرزہ گرفت لمس کی لذت سے بار بار بانہوں میں شاخ گل کی لچک چھوڑ کر ...

مزید پڑھیے

رقص جنوں کی گرمئ تاثیر دیکھنا

رقص جنوں کی گرمئ تاثیر دیکھنا کھلتا ہے کیسے حلقۂ زنجیر دیکھنا گھس گھس کے پتھروں کو بنایا ہے آئنہ دیکھیں وہ خواب ہم کو ہے تعبیر دیکھنا حربے سب ان کے ان کو ہی لوٹا دئے گئے حیرت سے بن گئے ہیں وہ تصویر دیکھنا لکھ دی زبان زخم میں روداد زندگی جسموں پہ اس کی شوخیٔ تحریر دیکھنا اب تو ...

مزید پڑھیے

جب کوئی لیتا ہے میرے سامنے نام غزل

جب کوئی لیتا ہے میرے سامنے نام غزل یاد آتا ہے مجھے اک نازک اندام‌ غزل اس حریم ناز اس خلوت سرائے راز میں بارہا جذبات نے باندھا ہے احرام غزل ایک رشک ماہ کا میں کر رہا ہوں تذکرہ آسماں سے کیوں نہ ہو اونچا مرا بام غزل مے کدہ بھی گونج اٹھا شور نوشا نوش سے کس قدر ہے کیف آور یہ مرا جام ...

مزید پڑھیے

آشفتہ نوائی سے اپنی دنیا کو جگاتا جاتا ہوں

آشفتہ نوائی سے اپنی دنیا کو جگاتا جاتا ہوں دیوانہ ہوں دیوانوں کو میں ہوش میں لاتا جاتا ہوں امید کی شمعیں رہ رہ کر میں دل میں جلاتا جاتا ہوں جب جل چکتی ہیں یہ شمعیں پھر سب کو بجھاتا جاتا ہوں تم دیکھ رہے ہو میخانے میں جرأت رندانہ میری میں خود بھی پیتا جاتا ہوں تم کو بھی پلاتا جاتا ...

مزید پڑھیے

نہیں کچھ انتہا افسردگی کی

نہیں کچھ انتہا افسردگی کی یہی ہے رسم شاید عاشقی کی لب لعلیں پہ یہ لہریں ہنسی کی یہی ڈوبے نہ کشتی زندگی کی ڈھلے آنسو کہ یہ ٹوٹے ستارے سکوت شب میں یاد آئی کسی کی چمن میں بوٹا بوٹا دیکھتا ہے ادائیں ان کی مستانہ روی کی بڑھائے جا قدم ذوق طلب میں شکایت کر نہ عجز و خستگی کی اسی کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5174 سے 6203