اس نے دیکھا ہے سر بزم ستم گر کی طرح
اس نے دیکھا ہے سر بزم ستم گر کی طرح پھول پھینکا بھی مری سمت تو پتھر کی طرح اس کے لب کو مرے لب رہ گئے چھوتے چھوتے میں بھی ناکام چلا آیا سکندر کی طرح رنگ سورج کا سر شام ہوا جاتا ہے زرد اس کا بھی گھر نہ ہو ویران مرے گھر کی طرح درد اس عہد کی میراث ہے ڈرنا کیسا درد کو اوڑھ لیا کرتے ہیں ...