قومی زبان

بلبل رنگیں نوا خاموش ہے

بلبل رنگیں نوا خاموش ہے باغ کی ساری فضا خاموش ہے گل کھلائے اس نے کیا کیا باغ میں پھر بھی کس درجہ صبا خاموش ہے آرزو جن کی تھی مجھ کو مل گئے اب زبان التجا خاموش ہے بے کسی یہ کس نے لی تیری پناہ گور کا کس کی دیا خاموش ہے شورش دل شورش محشر نہیں زندگی اپنی بھی کیا خاموش ہے سوچتی ہے ...

مزید پڑھیے

ترانۂ غم پنہاں ہے ہر خوشی اپنی

ترانۂ غم پنہاں ہے ہر خوشی اپنی کہ ایک درد مسلسل ہے زندگی اپنی بہل نہ جائے کہیں یہ دل خزاں مانوس بہار آ کے دکھاتی ہے دل کشی اپنی کسی کے چہرۂ زیبا سے اس کو کیا نسبت یوں ہی بکھیرا کرے چاند چاندنی اپنی شعور چاک گریباں کدھر ہے دامن یار جنوں کی حد سے ملی جا کے عاشقی اپنی بتا کہ یہ ...

مزید پڑھیے

شکست جام

گر گیا یہ دودھ کا پیمانہ میرے ہاتھ سے ہو گئی اک لغزش مستانہ میرے ہاتھ سے یوں زمیں پر جا گرا ہاتھوں سے میرے چھوٹ کر گر پڑے گردوں سے جیسے کوئی تارا ٹوٹ کر غش اسے آیا کچھ ایسا کھا کے چکر گر پڑا ہاتھ سے مے خوار کے کیوں آج ساغر گر پڑا شاخ گل سے فرش پر بلبل تڑپ کر گر گئی یہ گرا نیچے کہ مجھ ...

مزید پڑھیے

کاروان حیات

یہ کون کہتا ہے انساں کا کاروان حیات پلٹ کے آنے کو ہے بے گناہی کی جانب وہی گناہ وہی معصیت وہی بدبو وہی ہے درد وہی کروٹیں وہی پہلو وہی فساد وہی شر ہی تمرد ہے دماغ و دل پہ مسلط وہی تشدد ہے یہ کون کہتا ہے انساں کا کاروان حیات پلٹ کے آنے کو ہے بے گناہی کی جانب میں دیکھتا ہوں کہ انساں ...

مزید پڑھیے

پیچ و تاب

پھر تصور کھا رہا ہے پیچ و تاب پھر وہی ہیجان و حرکت کرب و درد و اضطراب پھر وہی دھندلے نقوش ماہ و سال پھر وہی صبح بہاراں پھر وہی شام وصال پھر وہی بیتے ہوئے لمحوں کی یاد پھر وہی موجیں وہی کشتی وہی باد مراد پھر وہی رقص شرار زندگی پھر وہی حسن لطافت ریز کی تابندگی پھر وہی وعدوں پہ ...

مزید پڑھیے

ایک تھا ملا نصرالدین

ایک تھا ملا نصرالدین کرتا تھا باتیں نمکین کام تھا اس کا احمق بننا سیدھی بات کو الٹا کرنا کھانے پینے کا شوقین ایک تھا ملا نصرالدین اس سے ہیں منسوب لطیفے مزے مزے کے ڈھیروں قصے خوشیوں کی تھا ایک مشین ایک تھا ملا نصرالدین ایک گدھا تھا اس کے پاس ایک گدھی تھی جس کی ساس اور بچے تھے اس کے ...

مزید پڑھیے

آشوب آگہی

کوئی بتلائے مجھے میرے ان جاگتے خوابوں کا مقدر کیا ہے؟ میں کہ ہر شے کی بقا جانتا ہوں اڑتے لمحوں کا پتا جانتا ہوں سرد اور زرد ستاروں کی تگاپو کیا ہے رنگ کیا چیز ہے خوشبو کیا ہے صبح کا سحر ہے کیا، رات کا جادو کیا ہے اور کیا چیز ہے آواز صبا جانتا ہوں ریت اور نقش قدم موج کا رم آنکھ اور ...

مزید پڑھیے

ایک کمرۂ امتحان میں

بے نگاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پرچے کو بے خیال ہاتھوں سے ان بنے سے لفظوں پر انگلیاں گھماتے ہیں یا سوال نامے کو دیکھتے ہی جاتے ہیں سوچتے نہیں اتنا جتنا سر کھجاتے ہیں ہر طرف کنکھیوں سے بچ بچا کے تکتے ہیں دوسروں کے پرچوں کو رہنما سمجھتے ہیں شاید اس طرح کوئی راستہ ہی مل جائے بے نشاں ...

مزید پڑھیے

چمکو چمکو پیارے تارو

چمکو چمکو پیارے تارو رنگوں اور امیدوں والے آنکھوں میں پھر خواب اتارو چمکو چمکو پیارے تارو رات بہت ہے کالی کالی گلیاں ہیں سب خالی خالی ہوا چلے تو ڈر لگتا ہے سونا سونا گھر لگتا ہے روشن سارے منظر کر دو دنیا کو خوشیوں سے بھر دو چمکو چمکو پیارے تارو چپکے سے کھڑکی میں آؤ اچھے اچھے گیت ...

مزید پڑھیے

خود سپردگی

رات بھیگے تو پرانے قصے پئے ترتیب کوئی اور سہارا ڈھونڈیں چاندنی نیند کا پھیلا ہوا جادو لے کر دل کے بے خواب نگر میں اترے اور ہوا دھوپ سے بولائی ہوئی سڑکوں پر لوریاں گاتی نکلے اوس ہر پھول کے دامن میں ستارے بھر دے لیکن اس خواب خیالی کا نتیجہ کیا ہے رات کی گود مرے درد کی منزل تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5176 سے 6203