بلبل رنگیں نوا خاموش ہے
بلبل رنگیں نوا خاموش ہے باغ کی ساری فضا خاموش ہے گل کھلائے اس نے کیا کیا باغ میں پھر بھی کس درجہ صبا خاموش ہے آرزو جن کی تھی مجھ کو مل گئے اب زبان التجا خاموش ہے بے کسی یہ کس نے لی تیری پناہ گور کا کس کی دیا خاموش ہے شورش دل شورش محشر نہیں زندگی اپنی بھی کیا خاموش ہے سوچتی ہے ...