قومی زبان

سارہ شگفتہ

کبھی خدا سے مل کر انسان سے ملنا خدا کا مکر ہے انسان! میرے تو سارے ثواب انگلیوں کی پوروں سے جھڑ گئے اور گناہ ہیں کہ سینے میں دھڑکتے چلے جاتے ہیں تھوڑا صبر چکھو! لذت پکی پکائی روٹی نہیں جسے چنگیر میں رکھ کر تمہیں پروس دوں! تم تو سرما کے لحاف میں بھی ٹھنڈے پڑ رہے ہو!! دانتوں کو پسینہ ...

مزید پڑھیے

آئندگاں کی اداسی میں

جب دنیا میرے دکھ بٹانے آئی میرے سارے دکھ چرا لیے گئے تھے بھری بہار میں میرے آنسوؤں کے بیج جلائے گئے ہیں آج دیر بعد نئی محبت کو منسوخ کر کے پہلی تنہائی سے لپٹ کر سونا اچھا لگا ہے آئندگاں کی اداسی لپیٹ کر ایک پرانی محبت کا پرسا وصول کرتے ہوئے بھی دل نہیں بھرا جذبوں کی کتر بیونت اور ...

مزید پڑھیے

میری بے لباسی تمہارا پہناوا نہیں

شش شور مت کرو زمین کی آنکھ کھل جائے گی میں کوئی راز نہیں جسے تم فاش کر دو گے خواہشوں کے گلے گھونٹ کر کتبوں پر میرے خواب لکھتے ہو تعبیر کے لالچ میں مجھے تو خواب مت بتاؤ میں جتنا ٹوٹ سکتا تھا، ٹوٹ چکا کیا تم میرے چورے سے اپنی آنکھوں کی کینچلی رنگنا چاہتے ہو میری بے لباسی تمہارا ...

مزید پڑھیے

جو آئینے سے تیری جلوہ سامانی نہیں جاتی

جو آئینے سے تیری جلوہ سامانی نہیں جاتی کسی بھی دیکھنے والے کی حیرانی نہیں جاتی کبھی اک بار ہولے سے پکارا تھا مجھے تم نے کسی کی مجھ سے اب آواز پہچانی نہیں جاتی بھری محفل میں مجھ سے پھیر لی تھیں بے سبب نظریں وہ دن اور آج تک ان کی پشیمانی نہیں جاتی پسے جاتے ہیں دل ہر گام پہ شور ...

مزید پڑھیے

نظر ملتے ہی ساقی سے گری اک برق سی دل پر

نظر ملتے ہی ساقی سے گری اک برق سی دل پر وہ اٹھا شور ٹوٹے جام کہ بن آئی محفل پر اسی انداز سے اس نے لکھی ہے داستاں دل پر گلے میں پیار سے باہیں حمائل اور چھری دل پر کوئی اک حادثہ ہو گر کریں ہم ذکر بھی اس کا گزرتے ہیں یہاں تو حادثے پر حادثے دل پر نہ منزل ہے نہ جادہ ہے نہ کوئی راہبر ...

مزید پڑھیے

شیشہ ہی چاہئے نہ مے ارغواں مجھے

شیشہ ہی چاہئے نہ مے ارغواں مجھے بے مانگے جو ملے وہی کافی ہے ہاں مجھے اے شوخئ نگاہ ذرا احتیاط رکھ اس بزم میں ہے پاس حدیث بتاں مجھے یا رب مرے گناہ کیا اور احتساب کیا کچھ دی نہیں ہے خضر سی عمر رواں مجھے چنتا تھا راہ زیست کے خاروں کو میں ہنوز ہے سب عبث اجل نے کہا ناگہاں مجھے لگتا ...

مزید پڑھیے

چلو یہ سچ ہی سہی ہوگا ناگہاں گزرے

چلو یہ سچ ہی سہی ہوگا ناگہاں گزرے ہمارے در سے مگر آپ مہرباں گزرے جدھر بھی آپ گئے بس گئے ہیں ویرانے اجڑ گئے ہیں چمن ہم جہاں جہاں گزرے ہمیں مٹانے کی گر کوششیں تمام ہوئیں تو یہ بھی کہئے کہ ہم کتنے سخت جاں گزرے وہ صبح و شام کی رنگینیاں تمام ہوئیں صعوبتوں کی کڑی دھوپ ہے جہاں ...

مزید پڑھیے

ترے گیسوؤں کے سائے میں جو ایک پل رہا ہوں

ترے گیسوؤں کے سائے میں جو ایک پل رہا ہوں ابھی تک ہے یاد مجھ کو ابھی تک بہل رہا ہوں میں وہ رند نو نہیں ہوں جو ذرا سی پی کے بہکوں ابھی اور اور ساقی کہ میں پھر سنبھل رہا ہوں نہیں غم نہ مل سکے گی مجھے شیخ تیری جنت مجھے آرزو نہیں ہے نہ میں ہاتھ مل رہا ہوں جو نہ میرے کام آئے جو نہ میری ...

مزید پڑھیے

اب غم کا کوئی غم نہ خوشی کی خوشی مجھے

اب غم کا کوئی غم نہ خوشی کی خوشی مجھے آخر کو راس آ ہی گئی زندگی مجھے وہ قتل کر کے مجھ کو پشیماں ہوئے تو کیا لوٹا سکیں گے پھر نہ مری زندگی مجھے سارے جہاں میں ہوتی ہے امن و اماں کی بات لیکن نظر نہ آئی کہیں آشتی مجھے نیزہ اٹھائے پھرتی ہے ہر راہ میں قضا ہر موڑ پر ہراس ملی زندگی ...

مزید پڑھیے

فراق یار میں کچھ کہئے سمجھایا نہیں جاتا

فراق یار میں کچھ کہئے سمجھایا نہیں جاتا دل وحشی کسی صورت سے بہلایا نہیں جاتا ہمیں نے چن لئے پھولوں کے بدلے خار دامن میں فقط گلچیں کے سر الزام ٹھہرایا نہیں جاتا سر بازار رسوا ہو گئے کیا ہم نہ کہتے تھے کسی سودائی کے منہ اس قدر آیا نہیں جاتا گریباں تھام لیں گے خار تو مشکل بہت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5166 سے 6203