کس نے دی مجھ کو صدا کون و مکاں کے اس طرف
کس نے دی مجھ کو صدا کون و مکاں کے اس طرف منتظر ہے کون میرا آسماں کے اس طرف جانے کب دونوں ملیں آپس میں سایوں کی طرح دو مسافر چل رہے ہیں کہکشاں کے اس طرف طے کیا میں نے سفر جلدی کہ میں جلدی میں تھا رہ گیا سایہ مرا دونوں جہاں کے اس طرف اک نہ اک سر پر رہے گا جتنا میں اونچا گیا آسماں کچھ ...