قومی زبان

کس نے دی مجھ کو صدا کون و مکاں کے اس طرف

کس نے دی مجھ کو صدا کون و مکاں کے اس طرف منتظر ہے کون میرا آسماں کے اس طرف جانے کب دونوں ملیں آپس میں سایوں کی طرح دو مسافر چل رہے ہیں کہکشاں کے اس طرف طے کیا میں نے سفر جلدی کہ میں جلدی میں تھا رہ گیا سایہ مرا دونوں جہاں کے اس طرف اک نہ اک سر پر رہے گا جتنا میں اونچا گیا آسماں کچھ ...

مزید پڑھیے

مری آواز سن کر زندگی بیدار ہو جیسے

مری آواز سن کر زندگی بیدار ہو جیسے تری آواز کا سایہ افق کے پار ہو جیسے طلوع صبح کا منظر مرے اندر ہے خوابیدہ مرے اندر زمانوں کی حسیں تکرار ہو جیسے میں ہر دیوار کے دونوں طرف یوں دیکھ لیتا ہوں مرا ہی دوسرا حصہ پس دیوار ہو جیسے شجر کی ٹہنی ٹہنی میں ہیں کتنے راز پوشیدہ ہر اک جنگل کا ...

مزید پڑھیے

بے حفاظت ہی مرا گنج معانی رہ گیا

بے حفاظت ہی مرا گنج معانی رہ گیا ریت پر لکھ کر میں خود اپنی کہانی رہ گیا چل دیے سب دوست مجھ کو ڈوبتا ہی چھوڑ کر غم بٹانے کے لیے دریا کا پانی رہ گیا جب کبھی کھولی ہے میں نے بیتے لمحوں کی کتاب دیر تک پڑھتا میں تحریریں پرانی رہ گیا جھڑ گئے پتے مرے جتنے مری شاخوں پہ تھے بن کے اپنی ...

مزید پڑھیے

زندگی اپنی قرینے سے بسر ہوتی نہیں

زندگی اپنی قرینے سے بسر ہوتی نہیں مختصر کرتا ہوں لیکن مختصر ہوتی نہیں دے گیا تاریکیاں اتنی وہ اہل شہر کو سر پہ سورج آ گیا پھر بھی سحر ہوتی نہیں پہلے اپنے ساتھ چلتے تھے ستارے شوق سے اب تو اپنی روشنی بھی ہم سفر ہوتی نہیں اس طرح چپ چاپ میرے پاس آ جاتے ہیں لوگ گھر کے دروازے کی ...

مزید پڑھیے

ابھی تو اتنا اندھیرا نظر نہیں آتا

ابھی تو اتنا اندھیرا نظر نہیں آتا تو ساتھ کیوں میرا سایا نظر نہیں آتا ان آنکھوں سے یہ زمانہ تو دیکھ سکتا ہوں بس ایک اپنا ہی چہرہ نظر نہیں آتا جب ایک اندھا اندھیرے میں دیکھ لیتا ہے مجھے اجالوں میں کیا کیا نظر نہیں آتا بندھی یقین کی پٹی ہماری آنکھوں پر سو چھل فریب یا دھوکہ نظر ...

مزید پڑھیے

زمانہ کے بارے میں اس کو خبر ہے

زمانہ کے بارے میں اس کو خبر ہے اگر ہے تو اپنے سے وہ بے خبر ہے سنانے میں تم کو زمانا لگے گا مرا قصۂ غم بہت مختصر ہے مرے پاؤں تھکتے نہیں ہے سفر سے کوئی تو بتائے یہ کیسا سفر ہے یہی سوچ کر آ کے بیٹھی یہاں پر سنا ہے کہ تیری یہی رہ گزر ہے گرایا جسے میں نے نظروں سے اپنی وہ انسان تو آج تک ...

مزید پڑھیے

پہنچنا منزل مقصود پر ہے بے معنی

پہنچنا منزل مقصود پر ہے بے معنی جو تیرا ساتھ نہیں تو سفر ہے بے معنی اگر ضمیر غلامی پہ مطمئن ہو جائے تو پھر یہ طاقت علم و ہنر ہے بے معنی اگر مکینوں میں باہم محبتیں نہ رہیں تو پھر یہ صحن یہ دیوار و در ہے بے معنی اسی سماج میں لڑ بھڑ کے زندگی کرنا ادھر ہے زیست کا مقصد ادھر ہے بے ...

مزید پڑھیے

پرانے خواب

سنی سنی سی لگی ہے مجھ کو وہ سردیوں میں لحاف اوڑھے ہوئے کہانی کہیں الاؤ کے گرد چلتے ہوئے وہ قصے سروں پہ اپنے انگوچھے باندھے ہوئے وہ قصے الاؤ کے گرد جلتے بجھتے ہوئے وہ قصے کہیں پہ شہزادیوں کے قصے کہیں پرندوں کی کھچڑیوں کی وہی کہانی وہ ایک چڑا جو کھا گیا تھا تمام کھچڑی کہیں نمک سی ...

مزید پڑھیے

پرچھائیوں کے شہر زمیں پر بسا دیئے

پرچھائیوں کے شہر زمیں پر بسا دیئے بدلی ہٹا کے چاند نے جنگل سجا دیئے کتنے ہی دائروں میں بٹا مرکز خیال اک بت کے ہم نے سیکڑوں پیکر بنا دیئے ٹوٹے کسی طرح تو فضاؤں کا یہ جمود آندھی رکی تو ہم نے نشیمن جلا دیئے اب راستوں کی گرد سے اٹتے نہیں بدن نقش قدم اسیر گل تر بنا دیئے اک چاند کی ...

مزید پڑھیے

انجانے خواب کی خاطر کیوں چین گنوایا

انجانے خواب کی خاطر کیوں چین گنوایا کب وقت کا پنچھی ٹھیرا کب سایہ ہاتھ میں آیا اک نور کی چادر سمٹی بے جان فضا دھندلائی گھر آئے گھنیرے بادل یا چاند گہن میں آیا آنکھوں سے نشیلی شب کی دھوتی رہی شبنم کاجل ہر سمت سیاہی پھیلی ہر سمت اندھیرا چھایا جو بات لبوں پر آئی وہ بات بنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5136 سے 6203