قومی زبان

بنائے سب نے اسی خاک سے دیے اپنے

بنائے سب نے اسی خاک سے دیے اپنے فلک سے ٹوٹ کے شمس و قمر نہیں آئے گلی گلی ہو جہاں جنتوں کا گہوارہ ہماری راہ میں ایسے نگر نہیں آئے ہر ایک موڑ سے پوچھا ہے منزلوں کا پتہ سفر تمام ہوا رہبر نہیں آئے غموں کے بوجھ سے ٹوٹی ہے زندگی کی کمر بدن پہ زخم کہیں چارہ گر نہیں آئے گلوں کی آنچ نے ...

مزید پڑھیے

باغ میں رہ کے بہاروں کو نبھانا ہوگا

باغ میں رہ کے بہاروں کو نبھانا ہوگا اپنی روٹھی ہوئی خوشیوں کو منانا ہوگا توڑنا ہوگا چھلکتے ہوئے ساغر کا غرور بن پئے بزم کو اب رنگ پہ آنا ہوگا ڈھالنی ہوگی اسی رات کے دامن سے سحر ٹوٹے تاروں کو ضیا بار بنانا ہوگا تھامنی ہوں جو تجھے وقت کی نبضیں ہمدم اڑتے لمحوں پہ کوئی نقش جمانا ...

مزید پڑھیے

وہ شخص یوں نگاہ میں نگاہ ڈال کر گیا

وہ شخص یوں نگاہ میں نگاہ ڈال کر گیا بجھی بجھی سی زندگی مری بحال کر گیا وہ سادہ لوح تھا مگر غضب کی چال کر گیا نہیں جواب جس کا مجھ سے وہ سوال کر گیا مجھے تو اپنی جستجو اس آستاں پہ لے گئی وہ دشمن وفا نہ جانے کیا خیال کر گیا آ گیا تو ظلمت غم فراق چھٹ گئی جو مہر و مہ نہ کر سکے ترا جمال ...

مزید پڑھیے

ہے واقعہ کچھ اور روایت کچھ اور ہے

ہے واقعہ کچھ اور روایت کچھ اور ہے یاروں کو یعنی ہم سے شکایت کچھ اور ہے سمجھی گئی جو بات ہماری غلط تو کیا یاں ترجمہ کچھ اور ہے آیت کچھ اور ہے کچھ کم نہیں بلا سے خلافت زمیں کی بھی یا رب مری سزا میں رعایت کچھ اور ہے؟ اے گردش زمانہ ترا دور ہو چکا؟ یا حال پر ہمارے عنایت کچھ اور ہے کرتے ہو ...

مزید پڑھیے

ہر چند انہیں عہد فراموش نہ ہوگا

ہر چند انہیں عہد فراموش نہ ہوگا لیکن ہمیں اس وقت کوئی ہوش نہ ہوگا دیکھوگے تو آئے گی تمہیں اپنی جفا یاد خاموش جسے پاؤگے خاموش نہ ہوگا گزرے ہیں وہ لمحے کہ سدا یاد رہیں گے دیکھا ہے وہ عالم کہ فراموش نہ ہوگا ہم اپنی شکستوں سے ہیں جس طرح بغل گیر یوں قبر سے بھی کوئی ہم آغوش نہ ...

مزید پڑھیے

موسم کا آہ و نالہ سے اندازہ کیجئے

موسم کا آہ و نالہ سے اندازہ کیجئے تازہ ہوا پہ بند نہ دروازہ کیجئے یا چھیڑئیے نہ منظر نادیدنی کا ذکر یا مثل آفتاب بہم غازہ کیجئے یا لب پہ لائیے نہ پریشانیوں کی بات یا جمع بیٹھ کر کبھی شیرازہ کیجئے بہلائیں دل کو خواب خوش آیند سے نہ کیوں کیا فائدہ کہ زخم کہن تازہ کیجئے اس دور ...

مزید پڑھیے

ہم سے بات میں پیچ نہ ڈال

ہم سے بات میں پیچ نہ ڈال یوں مت دل کے چور نکال مرنا ہے تو ڈرنا کیا چلتا ہے کیوں چور کی چال جوگی کو لوگوں سے کام بین بجا اور سانپ نکال آج کا جھگڑا آج چکا کل کی باتیں کل پر ٹال اپنا جھنجھٹ آپ نبیڑ اپنی گٹھری آپ سنبھال بڑھی ہے اتنی آبادی پڑا انسانوں کا کال انجمؔ عشق کا دعویٰ تھا کیسا ...

مزید پڑھیے

کچھ اجنبی سے لوگ تھے کچھ اجنبی سے ہم

کچھ اجنبی سے لوگ تھے کچھ اجنبی سے ہم دنیا میں ہو نہ پائے شناسا کسی سے ہم دیتے نہیں سجھائی جو دنیا کے خط و خال آئے ہیں تیرگی میں مگر روشنی سے ہم یاں تو ہر اک قدم پہ خلل ہے حواس کا اے خضر باز آئے تری ہم رہی سے ہم دیتے ہیں لوگ آج اسے شاعری کا نام پڑھتے تھے لوح دل پہ کچھ آشفتگی سے ...

مزید پڑھیے

ہم سے بھی گاہے گاہے ملاقات چاہیئے

ہم سے بھی گاہے گاہے ملاقات چاہیئے انسان ہیں سبھی تو مساوات چاہیئے اچھا چلو خدا نہ سہی ان کو کیا ہوا آخر کوئی تو قاضی حاجات چاہیئے ہے عاقبت خراب تو دنیا ہی ٹھیک ہو کوئی تو صورت گزر اوقات چاہیئے جانے پلک جھپکنے میں کیا گل کھلائے وقت ہر دم نظر بہ صورت حالات چاہیئے آئے گی ہم کو ...

مزید پڑھیے

بیاں میں تیرے ہر طرز بیاں گم

بیاں میں تیرے ہر طرز بیاں گم فسانے میں مرے ہر داستاں گم نہ ہم گم ہیں نہ تیرا آستاں گم مگر کچھ سلسلہ ہے درمیاں گم عجب انداز ازخود رفتگی ہے بھری محفل میں سب کے درمیاں گم رہی صحرا بہ صحرا تیری منزل ہوئے منزل بمنزل کارواں گم روانہ کارواں سالار ناپید سفینہ باد پیما بادباں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5137 سے 6203