بنائے سب نے اسی خاک سے دیے اپنے
بنائے سب نے اسی خاک سے دیے اپنے فلک سے ٹوٹ کے شمس و قمر نہیں آئے گلی گلی ہو جہاں جنتوں کا گہوارہ ہماری راہ میں ایسے نگر نہیں آئے ہر ایک موڑ سے پوچھا ہے منزلوں کا پتہ سفر تمام ہوا رہبر نہیں آئے غموں کے بوجھ سے ٹوٹی ہے زندگی کی کمر بدن پہ زخم کہیں چارہ گر نہیں آئے گلوں کی آنچ نے ...