قومی زبان

جہاں تک گیا کاروان خیال

جہاں تک گیا کاروان خیال نہ تھا کچھ بجز حسرت پائمال مجھے تیرا تجھ کو ہے میرا خیال مگر زندگی پھر بھی ہے خستہ حال جہاں تک ہے دیر و حرم کا سوال رہیں چپ تو مشکل کہیں تو محال تری کائنات ایک حیرت کدہ شناسا مگر اجنبی خد و خال مری کائنات ایک زخم کہن مقدر میں جس کے نہیں اندمال نئی ...

مزید پڑھیے

یہاں تو پھر وہی دیوار و در نکل آئے

یہاں تو پھر وہی دیوار و در نکل آئے کدھر کو یار چلے تھے کدھر نکل آئے کہاں کا پائے وفا اور کہاں کا دشت طلب کہ اب تو رستے کئی مختصر نکل آئے ہوا رفیق نہ بیگار شوق میں کوئی مقام زر پہ کئی معتبر نکل آئے گریز کرتے ہیں سائے سے بھی مرے احباب کہیں ادھر بھی نہ یہ آشفتہ سر نکل آئے ہوا نہ کوئی ...

مزید پڑھیے

گزر رہے ہیں گزرنے والے

لرزنے والے لرز رہے ہیں لرزتے جھونکے گزرتے بل کھاتے رینگتے سرسراتے جھونکے نسائی ملبوس کی طرح سرسرانے والے کڑکنے والی کی چابکوں سے اگرچہ دور رواں کے آنسو ٹپک رہے ہیں مگر نظر جس طرف بھی اٹھتی ہے دیکھتی ہے گزر رہے ہیں گزرنے والے یہ کون دبکا ہوا اس آوارہ راستے میں کھڑا ہوا ہے کہ جیسے ...

مزید پڑھیے

روئے گل چہرۂ مہتاب نہیں دیکھتے ہیں

روئے گل چہرۂ مہتاب نہیں دیکھتے ہیں ہم تری طرح کوئی خواب نہیں دیکھتے ہیں سینۂ موج پہ کشتی کو رواں رکھتے ہیں گرد اپنے کوئی گرداب نہیں دیکھتے ہیں تشنگی میں بھی وہ پابند قناعت ہیں کہ ہم بھول کر بھی طرف آب نہیں دیکھتے ہیں سر بھی موجود ہیں شمشیر ستم بھی موجود شہر میں خون کا سیلاب ...

مزید پڑھیے

ہمیشہ کسی امتحاں میں رہا

ہمیشہ کسی امتحاں میں رہا رہا بھی تو کیا اس جہاں میں رہا نہ میں دور تک ساتھ اس کے گیا نہ وہ دیر تک ہمرہاں میں رہا وہ دریا پہ مجھ کو بلاتا رہا مگر میں صف تشنگاں میں رہا میں بجھنے لگا تو بہت دیر تک اجالا چراغ زیاں میں رہا قفس یاد آیا پرندے کو پھر بہت روز تک آشیاں میں رہا رہی دیر ...

مزید پڑھیے

معرکہ جب چھڑ گیا تو کیا ہوا ہم سے سنو

معرکہ جب چھڑ گیا تو کیا ہوا ہم سے سنو کشتگان شہر خوں کا ماجرا ہم سے سنو کیوں شجر سوکھے ہوئے ہیں کیوں نہیں برگ و ثمر موسموں نے اس چمن میں کیا کیا ہم سے سنو پردۂ صد رنگ حیرت خانۂ نیرنگ میں کون ہے آئینہ اندر آئنہ ہم سے سنو طاق و در میں کیوں چراغوں کی لویں خاموش ہیں کیا ہوا وہ روشنی ...

مزید پڑھیے

کب عشق میں یاروں کی پذیرائی ہوئی ہے

کب عشق میں یاروں کی پذیرائی ہوئی ہے ہر کوہ کن و قیس کی رسوائی ہوئی ہے اس کوہ کو میں نے ہی تراشا ہے مری جان تجھ تک یہ جوئے شیر مری لائی ہوئی ہے اس شہر میں کیا چاند چمکتا ہوا دیکھیں اس شہر میں ہر شکل تو گہنائی ہوئی ہے وہ عشق کی زنجیر جو کاٹے نہیں کٹتی پیروں میں وہ تیری ہی تو پہنائی ...

مزید پڑھیے

اسی زمیں پہ اسی آسماں میں رہنا ہے

اسی زمیں پہ اسی آسماں میں رہنا ہے ترا اسیر ہوں تیرے جہاں میں رہنا ہے میں ایک پل تری دنیا میں کیا قیام کروں کہ عمر بھر تو مجھے رفتگاں میں رہنا ہے میں جانتا ہوں بہت سخت دھوپ ہے لیکن سفر میں ہوں تو صف رہ رواں میں رہنا ہے اتر گئی ہے تو سینے سے مت نکال اسے کہ میرے خون کو تیری سناں میں ...

مزید پڑھیے

میں اپنی ذات سے باہر نکلنا چاہتا ہوں

میں اپنی ذات سے باہر نکلنا چاہتا ہوں میں دریا کی طرح رستہ بدلنا چاہتا ہوں گھنی بے نور خاموشی کے جنگل سے نکل کر چمکنے والی آوازوں میں ڈھلنا چاہتا ہوں میں جس پتھر کے اندر قید ہوں چشمے کی صورت اسی پتھر کے سینے سے ابلنا چاہتا ہوں نہ جانے کتنے گرد آلود انسانوں کی خاطر زمیں پر آسماں ...

مزید پڑھیے

ہر اک لمحہ مجھے ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے

ہر اک لمحہ مجھے ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے سارا جہاں اک رتجگا محسوس ہوتا ہے سنائی کچھ نہیں دیتا دکھائی کچھ نہیں دیتا مگر چاروں طرف اک جمگھٹا محسوس ہوتا ہے ترا ہی نام لیتا ہوں تو پھر مجھ کو وجود اپنا ہواؤں پر لکھا حرف دعا محسوس ہوتا ہے مری پلکوں پہ شبنم گر رہی ہے نیند کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5135 سے 6203