قومی زبان

آج مجھے کچھ لوگ ملے ہیں پاگل سے

آج مجھے کچھ لوگ ملے ہیں پاگل سے شہر میں وحشی در آئے کیا جنگل سے سارے مسائل لا ینحل سے لگتے ہیں نکلوں کیسے سوچ کی گہری دلدل سے برف نما سی تاروں کی چنچل کرنیں چھن کر نکلیں رات کے کالے آنچل سے ذہن سے یوں ہے فکر و نظر کا اب رشتہ پنگھٹ کو اک ربط ہو جیسے چھاگل سے یاد کی خوشبو دل کے نگر ...

مزید پڑھیے

جب زمیں کے مقدر سنور جائیں گے

جب زمیں کے مقدر سنور جائیں گے آسماں سے فرشتے اتر آئیں گے کیسے پھیلیں گے وہ لوگ افق تا افق اپنے اندر سمٹ کر جو رہ جائیں گے چاندنی موج در موج لہرائے گی عکس تاروں کے پانی سے تھرائیں گے بارش سنگ کرتے چلے جائیں وہ ہم لہو رو کے بھی پھول برسائیں گے کانچ کا جسم لے کر کسی شہر میں وہ اگر ...

مزید پڑھیے

ہر دم دعائے آب و ہوا مانگتے رہے

ہر دم دعائے آب و ہوا مانگتے رہے ننگے درخت سبز قبا مانگتے رہے یاروں کا اعتقاد بھی اندھا تھا اس قدر گونگی روایتوں سے صدا مانگتے رہے کتنی عجیب بات تھی جب سرد رات سے ہم دوپہر کی گرم ہوا مانگتے رہے کرتے رہے جو دن کے اجالوں سے احتراز وہ بھی اندھیری شب میں ضیا مانگتے رہے کچھ لوگ ...

مزید پڑھیے

ہر منظر خوش رنگ سلگ جائے تو کیا ہو

ہر منظر خوش رنگ سلگ جائے تو کیا ہو شبنم بھی اگر آگ ہی برسائے تو کیا ہو احساس کی قندیل سے اذہان ہیں روشن لیکن یہ اجالا بھی جو کجلائے تو کیا ہو سورج کی تمازت سے جھلس جاتی ہے دنیا سورج مرے قدموں پہ اتر آئے تو کیا ہو زر تابیٔ افکار تو پہلے ہی سے ہے ماند الفاظ کا آئینہ بھی دھندلائے ...

مزید پڑھیے

انداز گفتگو کو بھی تکرار مت بتا

انداز گفتگو کو بھی تکرار مت بتا ہرگز زباں کو تیر و تلوار مت بتا اس زندگی کو ڈر کے مصائب کی دھوپ سے راحت کی چھاؤں کے لئے غم خوار مت بتا زر زن زمین اصل میں تینوں ہیں فتنہ گر حرص و ہوس کا دل کو طلب گار مت بتا نادان دل کو ظرف سے خالی دماغ کو اپنا رفیق اپنا مددگار مت بتا انورؔ نشاط و ...

مزید پڑھیے

ہے ذکر یہی ہر سو اب عمر درازوں میں

ہے ذکر یہی ہر سو اب عمر درازوں میں کھوئی ہوئی دنیا ہے یہ شعبدہ بازوں میں اس لے سے ترنم سے میں کیسے بہل جاؤں آواز نہیں باقی جب دل کے ہی سازوں میں سجدے ہوں نمائش کے پھر کیسے اثر ہوگا مالک پہ دعاؤں کا بندے کی نمازوں میں میت میں امیروں کی اک جشن سا رہتا ہے لوگوں کی کمی کیوں ہے غربا ...

مزید پڑھیے

بھلا ہی دعاؤں سے ہوتا ہے سب کا

بھلا ہی دعاؤں سے ہوتا ہے سب کا دعا کھٹکھٹاتی ہے دروازہ رب کا بلاؤں سے رہتا ہے محفوظ ہر دم سکوں دے جو ماں باپ کو روز و شب کا مخالف ہوئے لوگ اردو کے پھر بھی جہاں بھر میں رتبہ ہے اردو ادب کا کریں قتل و غارت گری ظلم جو بھی انہیں پاس کب ہے حسب کا نسب کا کرے گا جو مظلوم پر ظلم ...

مزید پڑھیے

اپنے کردار سے گرتے ہوئے بندے دیکھے

اپنے کردار سے گرتے ہوئے بندے دیکھے میں نے انسان کی صورت میں درندے دیکھے پہلے مجرم کو ہی ملتی تھی گناہوں کی سزا اب تو معصوم کی گردن میں ہی پھندے دیکھے جن کے دم سے ہے فلک بوس مکانوں کا وجود ان کے ہیں کون سے بازار میں دھندے دیکھے آج اجڑے ہوئے لوگوں کی پنہ گاہوں میں میں نے مردوں کی ...

مزید پڑھیے

جرم ٹھہرا حال سے آگے کا نقشہ دیکھنا

جرم ٹھہرا حال سے آگے کا نقشہ دیکھنا تازگی کی آس رکھنا اور سبزہ دیکھنا آرزو کرنا چمن زاروں کی سبزہ زار کی اور تاحد نظر صحرا ہی صحرا دیکھنا عزم یہ رکھنا کہ گہرائی کا سینہ چیر دیں اور اپنے آپ کو ساحل پہ تنہا دیکھنا دھوپ کی بارش میں رہنا پیاس کی لہروں کے ساتھ ہر سراب دشت کو تصویر ...

مزید پڑھیے

شکستہ پا ہی سہی دور کی صدا ہی سہی

شکستہ پا ہی سہی دور کی صدا ہی سہی بکھر گیا جو ہوا سے وہ نقش پا ہی سہی یہ حکم ہے کہ گئے موسموں کو یاد کروں نئی رتوں کا تجسس مجھے ملا ہی سہی زمیں کے بعد ابھی آسماں کے دکھ بھی سہوں مرے لیے یہ سزا ہے بڑی عطا ہی سہی چراغ کہہ کے مرا نور مجھ سے چھین لیا چراغ پھر بھی رہوں گا بجھا ہوا ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5114 سے 6203