قومی زبان

ہم پہ تعزیر یہ رہنے دیجے

ہم پہ تعزیر یہ رہنے دیجے آج حق بات بھی کہنے دیجے لوگ تو یونہی کہا کرتے ہیں لوگ کہتے ہیں تو کہنے دیجے سچا خورشید ابھر آئے گا جھوٹ کے چاند کو گہنے دیجے یہی منزل کا نشاں بھی دے گا خون رستوں پہ نہ بہنے دیجے کل نیا محل اٹھا لیجئے گا آج دیوار کو ڈھنے دیجے

مزید پڑھیے

جہاں خود غرضیاں ہوں وہ نگر اچھا نہیں لگتا

جہاں خود غرضیاں ہوں وہ نگر اچھا نہیں لگتا کہ جس میں بھائی لڑتے ہوں وہ گھر اچھا نہیں لگتا وہ دستار انا پہنے قبیلے کا ستارہ ہے امیر شہر کو لیکن وہ سر اچھا نہیں لگتا جو والد کا بڑھاپے میں سہارا بن نہیں سکتا جو سچ پوچھو تو ہو لخت جگر اچھا نہیں لگتا مجھے تو پیار ہے ان سے جو کام آتے ...

مزید پڑھیے

کھلا ہے پھول بہت روز میں مقدر کا

کھلا ہے پھول بہت روز میں مقدر کا بس اب نہ بند ہو دروازہ تیرے مندر کا تمام شہر ہے ہنگامۂ نشاط میں گم مگر یہ کرب یہ سناٹا میرے اندر کا کبھی نہ کھل کے ہنسا ہوں نہ رویا جی بھر کے رکھا ہے میں نے ہمیشہ قدم برابر کا صدا کسی کی ہو آتا ہے اپنے آپ سے خوف وہ اجنبی ہوں کہ گھر کا رہا نہ باہر ...

مزید پڑھیے

وہ بے وفا کوئی دم اور جو ٹھہر جاتا

وہ بے وفا کوئی دم اور جو ٹھہر جاتا رہ طلب میں یہ دل یوں نہ در بدر جاتا تری گلی میں فسانے بکھیرنے کے لئے یہ لازمی تھا کہ ہم سا ہی بے خطر جاتا تجھ اجنبی کا ہو کیا غم کہ اس اندھیرے میں میں اپنے آپ کو خود دیکھتا تو ڈر جاتا تمہاری بندش آداب سے نظر جاگی میں بے خبر تو یوں ہی راہ سے گزر ...

مزید پڑھیے

آخری پہچان

اگر سنگ دل ہے زمانہ تو کیا ہے اگر ایسی دس شادیاں بھی مرے جسم کو قید کر لیں تو کیا ہے مرا ذہن جب بھی تمہارے فسانوں میں کھویا رہے گا کہ دل کی روش پر بھلا کس کا پہرہ رہا ہے اب اس بار جب دو سلگتے بدن آخری بار مل کر جدا ہو رہے ہیں یہ وعدہ کرو ان کی روحیں یوں ہی روز ملتی رہیں گی تمہارے ...

مزید پڑھیے

انساں کو اپنی ذات کا ادراک ہی نہیں

انساں کو اپنی ذات کا ادراک ہی نہیں اب کوئی واردات المناک ہی نہیں مظلوم کے لہو کا نہ ہو جس پہ کوئی داغ ایسی سپاہ وقت کی پوشاک ہی نہیں اس دور میں حفاظت ایماں کے واسطے حیدر کی مثل تیغ غضب ناک ہی نہیں اعمال ہیں سیاہ ہمارے مگر ہمیں شکوہ ہے مہربانئی افلاک ہی نہیں رحمت خدا کی جوش میں ...

مزید پڑھیے

خیال میں بھی کبھی جب وہ خوش لباس آئے

خیال میں بھی کبھی جب وہ خوش لباس آئے مہکتے پھولوں کی خوشبو بھی آس پاس آئے وفا محبتوں ایثار کی کتابوں میں ہمارے پیار کے قصوں میں اقتباس آئے وفا خلوص ادا حسن زلف اور نغمہ خدا کرے یہی لہجہ غزل کو راس آئے عروج دار سبھی کو نہیں ہوا حاصل نہ جانے کتنے زمانے میں حق شناس آئے ہمارے عزم ...

مزید پڑھیے

ہمارے لہجے میں بہتر ہے انکساری ہو

ہمارے لہجے میں بہتر ہے انکساری ہو مگر زباں پہ جو بات آئے سب پہ بھاری ہو کسی کو ٹھیس نہ پہنچے یہ اپنی کوشش ہے مگر لگے جو کسی دل پہ ضرب کاری ہو رہ حیات میں شاید ہی وہ مقام آئے کہ نغمہ ہائے جنوں پر سکوت طاری ہو وفا کا ذکر اگر آئے اس کی محفل میں تو بات جو بھی ہو جیسی ہو بس ہماری ...

مزید پڑھیے

دل سے نکلی ہوئی ہر آہ کی تاثیر میں آ

دل سے نکلی ہوئی ہر آہ کی تاثیر میں آ مانگ لے رب سے مجھے اور مری تقدیر میں آ رابطہ مجھ سے دل و جاں کا اگر رکھنا ہے مجھ سے وابستہ کسی حلقۂ زنجیر میں آ میں بناتا ہوں تخیل کے قلم سے پیکر میری تحریر مرے درد کی تصویر میں آ یہ بھی ممکن ہے کثافت ہی دلوں کی دھل جائے میری آنکھوں سے جو بہتا ...

مزید پڑھیے

تخیل میں کبھی جب آپ کی تصویر ابھری ہے

تخیل میں کبھی جب آپ کی تصویر ابھری ہے تو کاغذ پر قلم کی نوک سے تحریر ہے مری قسمت کی کشتی بحر غم میں ڈوب سکتی تھی تری تقدیر سے شاید مری تقدیر ابھری ہے تری یادوں کا سورج مستقل گردش میں ہو جیسے کہیں پر دن نکل آیا کہیں تنویر ابھری ہے حنا کے پھول ہاتھوں پر سجا کے یہ کہا اس نے ہتھیلی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5115 سے 6203