سکون دل نہ میسر ہوا زمانے میں
سکون دل نہ میسر ہوا زمانے میں نہ یاد رکھنے میں تم کو نہ بھول جانے میں ہمیشہ وسعت افلاک میں رہا ہے غم کہاں قیام ہے شاہیں کا آشیانے میں عروج تیرگیٔ شب سے ہو سحر پیدا یہی نظام ہے دنیا کے کارخانے میں شفق کے خون کی سرخی بھی ہو گئی شامل سحر بہ دوش ستاروں کے جھلملانے میں ابھی بہار کا ...