یاد ان کی ستاتی رہی رات بھر
یاد ان کی ستاتی رہی رات بھر آنکھ آنسو بہاتی رہی رات بھر ایک معصوم من موہنی سی صدا دل پہ دستک لگاتی رہی رات بھر ایک تلوار سینے پہ چلتی رہی اک خلش گدگداتی رہی رات بھر رات ڈھلتی رہی ہم سسکتے رہے شمع آنسو بہاتی رہی رات بھر
یاد ان کی ستاتی رہی رات بھر آنکھ آنسو بہاتی رہی رات بھر ایک معصوم من موہنی سی صدا دل پہ دستک لگاتی رہی رات بھر ایک تلوار سینے پہ چلتی رہی اک خلش گدگداتی رہی رات بھر رات ڈھلتی رہی ہم سسکتے رہے شمع آنسو بہاتی رہی رات بھر
وہ تو میرا اپنا تھا جس نے مجھ کو لوٹا تھا موت پہ میری روتا تھا میرا قاتل بھولا تھا سب جگ سونا سونا تھا جب میں تجھ سے بچھڑا تھا دھند سی چھائی تھی ہر سو کل کا سورج کیسا تھا کوئی برہن گاتی تھی درد بھرا اک نغمہ تھا ڈرتا ڈرتا سا مجھ سے میرا اپنا سایہ تھا میں برفانی راتوں میں ہجر ...
وہ عادت ہے تو عادت سے کنارے ہو بھی سکتا ہے مگر اس ساری کوشش میں خسارہ ہو بھی سکتا ہے رہیں گے ساتھ پھر بھی ہم محبت مر گئی کیا غم کہ مصنوعی تنفس پر گزارا ہو بھی سکتا ہے اگر آنکھیں نہ بھر آئیں تو دل مٹھی میں آئے گا ہوا ہے حال جو میرا تمہارا ہو بھی سکتا ہے کھلی آنکھوں میں ٹھہرا خواب ...
طعن طنز آوازے سن رہے ہو اب بولو بولنے کے خمیازے سن رہے ہو اب بولو بات بس ذرا سی تھی بات ہی تو کی تم سے شہر بھر کے آوازے سن رہے ہو اب بولو سر پھری ہواؤں میں گھر سے کیوں نکل آئے بج رہے ہیں دروازے سن رہے ہو اب بولو جس کے جی میں جو آئے مشورے تو دے گا نا مشورے نئے تازے سن رہے ہو اب ...
تباہی کا بہانہ ڈھونڈتی ہے ہوا ایڑی کے بل پھر گھومتی ہے اندھیرے سرمئی بادل ہیں ایسے زمیں اب آسماں کو ڈھونڈھتی ہے خموشی مرتعش ہونے لگی ہے کہیں بربط کی لے کیوں گونجتی ہے
ہوس پرستی و غارت گری کی لت نہ گئی یزید مر گیا لیکن یزیدیت نہ گئی گھرا رہا میں عجب کشمکش کے عالم میں کہ جب تلک مرے سانسوں کی سوت کت نہ گئی خرد کی آگ میں صدیوں جلے بدن لیکن دل و دماغ سے بوئے منافرت نہ گئی حیات و موت کے ہر انقلاب سے گزرے ہمارے سر سے مگر آسماں کی چھت نہ گئی جتن ہزار ...
باعث عرض ہنر کرب نہانی نکلا لفظ ہی منبع دریائے معانی نکلا سب کے ہونٹوں کو چھوا ابر رواں نے لیکن میرے حصے کا نہ دریاؤں میں پانی نکلا کون ہوتا ہے شریک سفر تنہائی میرا سایہ ہی مرا دشمن جانی نکلا زندگی جس کے تصور میں بسر کی ہم نے ہائے وہ شخص حقیقت میں کہانی نکلا جس کے سینے میں بھی ...
نہ زندگی سے شکایت نہ تم سے شکوہ ہے مرا لباس ہی میرے لہو کا پیاسا ہے بدن کو چھوڑ کے جاؤں تو اب کہاں جاؤں جنم جنم سے مرا اس کے ساتھ رشتہ ہے مرا وجود مری اپنی ہی نگاہوں میں لباس جسم کے ہوتے ہوئے بھی ننگا ہے صلیب لاؤ اسے سرخ رو کیا جائے کوئی کتاب لیے آسماں سے اترا ہے تمہارے جسم میں ...
زندگی مجھ کو مری نظروں میں شرمندہ نہ کر مر چکا ہے جو بہت پہلے اسے زندہ نہ کر حال کا یہ دکھ ترے ماضی کی تجھ کو دین ہے آج تک جو کچھ کیا تو نے وہ آئندہ نہ کر تو بھی اس طوفان میں اک ریت کی دیوار ہے اپنی ہستی بھول کر ہر ایک کی نندہ نہ کر سو گنا ہوتے ہوئے بھی جس نے بازی ہار دی ایسی بزدل ...
ہوس کا رنگ چڑھا اس پہ اور اتر بھی گیا وہ خود ہی جمع ہوا اور خود بکھر بھی گیا تھی زندگی مری راہوں کے پیچ و خم کی اسیر مگر میں رات کے ہم راہ اپنے گھر بھی گیا میں دشمنوں میں بھی گھر کر نڈر رہا لیکن خود اپنے جذبۂ حیوانیت سے ڈر بھی گیا مرے لہو کی طلب نے مجھے تباہ کیا ہوس میں سنگ کی ...