برائے نام سہی کوئی مہربان تو ہے
برائے نام سہی کوئی مہربان تو ہے ہمارے سر پہ بھی ہونے کو آسمان تو ہے تری فراخ دلی کو دعائیں دیتا ہوں مرے لبوں پہ ترے لمس کا نشان تو ہے یہ اور بات کہ وہ اب یہاں نہیں رہتا مگر یہ اس کا بسایا ہوا مکان تو ہے سروں پہ سایہ فگن ابر آرزو نہ سہی ہمارے پاس سرابوں کا سائبان تو ہے علاوہ اس ...