قومی زبان

برائے نام سہی کوئی مہربان تو ہے

برائے نام سہی کوئی مہربان تو ہے ہمارے سر پہ بھی ہونے کو آسمان تو ہے تری فراخ دلی کو دعائیں دیتا ہوں مرے لبوں پہ ترے لمس کا نشان تو ہے یہ اور بات کہ وہ اب یہاں نہیں رہتا مگر یہ اس کا بسایا ہوا مکان تو ہے سروں پہ سایہ فگن ابر آرزو نہ سہی ہمارے پاس سرابوں کا سائبان تو ہے علاوہ اس ...

مزید پڑھیے

لباس گرد کا اور جسم نور کا نکلا

لباس گرد کا اور جسم نور کا نکلا تمام وہم ہی اپنے شعور کا نکلا جو اپنے آپ سے بڑھ کر ہمارا اپنا تھا اسے قریب سے دیکھا تو دور کا نکلا بدن کے پار اترتے ہی کھل گئیں آنکھیں سراغ تیرے سراپا سے طور کا نکلا سبھی نشانیاں اس شخص پر کھری اتریں جو بھول کر بھی کبھی ذکر حور کا نکلا اٹھے جو ...

مزید پڑھیے

مے کشو جان کے لالے نظر آتے ہیں مجھے

مے کشو جان کے لالے نظر آتے ہیں مجھے خالی خالی سے پیالے نظر آتے ہیں مجھے ذہن انساں نے تراشے ہیں جو یزداں کے خلاف سارے بے جان حوالے نظر آتے ہیں مجھے وقت رفتار چھلکتے ہوئے یہ روپ کلس چلتے پھرتے سے شوالے نظر آتے ہیں مجھے ہے حواسوں پہ شب ہجر کا اس درجہ اثر صبح کے رنگ بھی کالے نظر آتے ...

مزید پڑھیے

متاع و مال نہ دے دولت تباہی دے

متاع و مال نہ دے دولت تباہی دے مجھے بھی مملکت غم کی بادشاہی دے کھڑا ہوا ہوں میں دست طلب دراز کئے نہ میرے سر کو یوں الزام کج کلاہی دے میں اپنے آپ کو کس طرح سنگسار کروں مرے خلاف مرا دل اگر گواہی دے میں ٹھہرے پانی کی مانند قید ہوں خود میں کوئی نشیب کی جانب مجھے بہا ہی دے مرے دنوں ...

مزید پڑھیے

ساتویں نمبر کی صورت وہ بھی پر اسرار تھا

ساتویں نمبر کی صورت وہ بھی پر اسرار تھا میں صفر کی طرح سب کچھ تھا مگر بیکار تھا ہر نفس اب تک مرے دل کی عجب حالت رہی موت سے ڈرتا بھی تھا جینے سے بھی بیزار تھا اک شناسا نا شناسائی تھی میرے ہر طرف میرا گھر میرے لیے تو گھر نہ تھا بازار تھا میری بربادی کا ضامن دوسرا کوئی نہیں میں کہ ...

مزید پڑھیے

اثر مری زبان میں نہیں رہا

اثر مری زبان میں نہیں رہا وہ تیر اب کمان میں نہیں رہا ہے پتھروں کا قرض اس کے دوش پر جو کانچ کے مکان میں نہیں رہا الاؤ سرد ہو گئے حیات کے رچاؤ داستان میں نہیں رہا تھا جس پہ میری زندگی کا انحصار اسی کا نام دھیان میں نہیں رہا گمان ہی اثاثہ تھا یقین کا یقین ہی گمان میں نہیں ...

مزید پڑھیے

یوں دیکھنے میں تو اوپر سے سخت ہوں شاید

یوں دیکھنے میں تو اوپر سے سخت ہوں شاید مگر درون بدن لخت لخت ہوں شاید مرے نصیب میں لکھی ہے شب کی تاریکی میں ڈوبتے ہوئے سورج کا بخت ہوں شاید قریب و دور نہیں ہے کوئی بھی اپنا سا اجاڑ باغ کا تنہا درخت ہوں شاید مجھے کسی نے سنا ہی نہیں توجہ سے میں بد زبان صدائے کرخت ہوں شاید نحیف ...

مزید پڑھیے

شاید کوئی کمی میرے اندر کہیں پہ ہے

شاید کوئی کمی میرے اندر کہیں پہ ہے میں آسماں پہ ہوں مرا سایہ زمیں پہ ہے افسانۂ حیات کا ہر ایک سانحہ تحریر حرف حرف ہماری جبیں پہ ہے دریا میں جس طرح سے ہو ماہی اسی طرح میں ہوں جہاں پہ میرا خدا بھی وہیں پہ ہے جنت خدا ہی جانے کہاں ہے کہاں نہیں مجھ کو یقین ہے کہ جہنم یہیں پہ ہے یوں ...

مزید پڑھیے

کھلی آنکھوں کا سپنا

ہوا مٹی کے سوندھی بو سے بوجھل مرے چہرے کو چھوتی پہلی بارش وسیع میدان میں سبزے کا ساگر سڑک کا روپ برکھا میں اجلتا مکاں سب شہر کے مل کر نہاتے فلک بادل زمیں بیتا زمانہ مکاں گلیاں شہر یادوں کی خوشبو کھلی آنکھوں سے سپنا دیکھتا ہوں خلا میں دور مری دسترس سے فلک کی وسعتوں میں چاند ...

مزید پڑھیے

اب لوٹ کے واپس مجھے جانا بھی نہیں ہے

اب لوٹ کے واپس مجھے جانا بھی نہیں ہے وہ روٹھ گیا ہے تو منانا بھی نہیں ہے سچ ہے کہ نگاہوں سے گرانا بھی نہیں ہے پلکوں پہ مگر اس کو بٹھانا بھی نہیں ہے دامن پہ کوئی داغ لگانا بھی نہیں ہے دامن کو گناہوں سے بچانا بھی نہیں ہے غیرت کی کوئی کس طرح امید رکھے اب سب جانتے ہیں اب وہ زمانہ بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5067 سے 6203