قومی زبان

نظر اداس ہے دل موج اضطراب میں ہے

نظر اداس ہے دل موج اضطراب میں ہے ترے بغیر مری زندگی عذاب میں ہے جو اس کے دیدۂ بدمست میں ہے اے ساقی کہاں وہ نشہ و مستی تری شراب میں ہے تڑپ رہی ہے نظر جس کو دیکھنے کے لئے وہ اپنا چہرہ چھپائے ہوئے نقاب میں ہے بسا کے پیار کی خوشبو میں جس کو بھیجا تھا ابھی تک آپ کا وہ خط مری کتاب میں ...

مزید پڑھیے

کتنے سوال سب کی نگاہوں میں رکھ دیئے

کتنے سوال سب کی نگاہوں میں رکھ دیئے گھر کے سبھی چراغ ہواؤں میں رکھ دیئے یہ انقلاب گردش دوراں تو دیکھیے اجسام کیسے کیسی قباؤں میں رکھ دیئے محفل میں شعر ہی نہیں کچھ روشنی بہ دوش انوار ہم نے دل کی فضاؤں میں رکھ دیئے ہر شخص چاہتا ہے کہ ہوں اس پہ آشکار اسرار تو نے کیسے گناہوں میں ...

مزید پڑھیے

اس مریض غم غربت کو سنبھالا دے دو

اس مریض غم غربت کو سنبھالا دے دو ذہن تاریک کو یادوں کا اجالا دے دو ہم ہیں وہ لوگ کہ بے قوم وطن کہلائے ہم کو جینے کے لئے کوئی حوالہ دے دو میں بھی سچ کہتا ہوں اس جرم میں دنیا والو میرے ہاتھوں میں بھی اک زہر کا پیالہ دے دو اب بھی کچھ لوگ محبت پہ یقیں رکھتے ہیں ہو جو ممکن تو انہیں دیس ...

مزید پڑھیے

نئی غزلیں لکھوں کس کے لئے اور گیت سجاؤں کس کے لئے

نئی غزلیں لکھوں کس کے لئے اور گیت سجاؤں کس کے لئے مرا ہم دم مجھ سے روٹھ گیا اب نغمے گاؤں کس کے لئے وہ پاس جو تھا تو اس کے لئے اوروں سے بھی لڑنا پڑتا تھا اب کس کے لئے میں کس سے لڑوں اور خود کو جلاؤں کس کے لئے اک اس کے تبسم کی خاطر دکھ درد ہزاروں سہتا تھا اب کس کے لئے دکھ درد سہوں اور ...

مزید پڑھیے

میں ہوں اور میرا کمرہ ہے

میں ہوں اور میرا کمرہ ہے رات کا گہرا سناٹا ہے لب پر ہیں انصاف کی باتیں دل میں عداوت کا جذبہ ہے کچھ تو بتا کیا بات ہے آخر کیوں اتنا خاموش کھڑا ہے دل میں خلش رہتی ہے اکثر تیرا میرا کیا رشتہ ہے کس کو سنائیں کون سنے گا درد بھرا اپنا قصہ ہے آنکھ کھلی تو ہم نے جانا پیار محبت اک سپنا ...

مزید پڑھیے

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی نہ جانے کیوں تھا یقیں تیرے پیار پر پھر بھی ہزار بار مرے دل کو اس نے ٹھکرایا مجھے ہے اس سے امید وفا مگر پھر بھی تمہارے نقش قدم پر گیا میں سر بہ سجود کسی کے آگے جھکایا نہ تھا یہ سر پھر بھی میں اس کی چاہ میں دونوں جہان چھوڑ چلا وہ بے وفا نہ مرا ہو ...

مزید پڑھیے

کیسے سفر پر نکلا ہوں

کیسے سفر پر نکلا ہوں مڑ مڑ کر کیا تکتا ہوں جانے پھر کب لوٹوں‌ گا سب سے مل کر آیا ہوں روٹھ گئی منزل کیسی گلیوں گلیوں بھٹکا ہوں کوئی مجھ کو کیوں گائے درد بھرا اک نغمہ ہوں کیا ہوگی تعبیر مری اک مفلس کا سپنا ہوں زخم تمہاری یادوں کے اب اشکوں سے دھوتا ہوں کوئی نہیں میرا ساتھی اک ...

مزید پڑھیے

تو بے وفا ہی سہی تجھ سے پیار آج بھی ہے

تو بے وفا ہی سہی تجھ سے پیار آج بھی ہے ترے لیے یہ دل و جاں نثار آج بھی ہے میں جانتا ہوں نہ آئے گا تو پلٹ کے کبھی مگر مجھے تو ترا انتظار آج بھی ہے تو لاکھ غیر سہی آج کل تو تھا میرا دل و جگر پہ ترا اختیار آج بھی ہے ترے بغیر بھی دنیا بہت حسیں ہے مگر ترے فراق میں دل بے قرار آج بھی ...

مزید پڑھیے

کم نہیں یہ بھی زندگی کے لئے

کم نہیں یہ بھی زندگی کے لئے جان جائے تری خوشی کے لئے دوستی ہو وفا ہو نفرت ہو کچھ بہانہ ہو زندگی کے لئے آپ کی یاد کا بس ایک دیا ہے بہت دل کی روشنی کے لئے وہ جو مانگے تو جان بھی دے دوں جی رہا ہوں اسی خوشی کے لئے بارہا خون کر لیا دل کو اس کے ہونٹوں کی اک ہنسی کے لئے آج کے دور میں سنو ...

مزید پڑھیے

اپنے فن میں یکتا ہوں

اپنے فن میں یکتا ہوں میں بھی تیرے جیسا ہوں سارے جگ میں تنہا ہوں جب سے تجھ سے بچھڑا ہوں مجھ میں بس تو ہی تو ہے میں تیرا آئینہ ہوں مجھ سے یہ کیسی دوری میں تو تیرا سایہ ہوں جب سے تو نے ٹھکرایا گلیوں گلیوں بھٹکا ہوں دل کی بنجر دھرتی میں میٹھے سپنے بوتا ہوں زر والوں کی بستی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5065 سے 6203