قومی زبان

جو گم گشتہ ہے اس کی ذات کیا ہے

جو گم گشتہ ہے اس کی ذات کیا ہے غریب شہر کی اوقات کیا ہے سروں پر سایۂ آفات کیا ہے جو کٹتی ہی نہیں وہ رات کیا ہے نہ ہونے اور ہونے کی حقیقت سوال نفی و اثبات کیا ہے جمی ہے گرد کی تہہ بستیوں پر ہوا کے ہاتھ میں سوغات کیا ہے حقارت میں بجھے کچھ تیر و نشتر مرے کشکول میں خیرات کیا ہے بجھا ...

مزید پڑھیے

نہ حرف شوق نہ طرز بیاں سے آتی ہے

نہ حرف شوق نہ طرز بیاں سے آتی ہے سپردگی کی صدا جسم و جاں سے آتی ہے کوئی ستارہ رگ و پے میں ہے سمایا ہوا مجھے خود اپنی خبر آسماں سے آتی ہے کسی دکان سے ملتی نہیں ہے گرمیٔ شوق یہ آنچ وہ ہے جو سوز نہاں سے آتی ہے کھلا نہیں ہے وہ مجھ پر کسی بھی پہلو سے نہیں کی گونج ابھی اس کی ہاں سے آتی ...

مزید پڑھیے

نارسائی کی ہنسی خود ہی اڑاتے کیوں ہو

نارسائی کی ہنسی خود ہی اڑاتے کیوں ہو ہاتھ خالی ہے تو بازار میں آتے کیوں ہو اب بھی چاہو تو جمی برف پگھل سکتی ہے اختلافات کو بنیاد بناتے کیوں ہو وہ سمجھنے پہ ہی آمادہ نہیں ہے تو اسے اپنے احساس کا آئینہ دکھاتے کیوں ہو کل ترس جاؤ گے آنکھوں کی شناسائی کو خود کو لفظوں کے لبادے میں ...

مزید پڑھیے

ہابیل چپ ہے

کب تلک گیہوں ککڑی پیاز اور مسور ہی کھاتے رہیں اپنے اجداد کے سب گناہوں کا بوجھ اب اٹھاتے رہیں ہم جو قابیل قاتل کی اولاد ہیں جس طرح کے بھی ہیں کس کی ایجاد ہیں ہم نے چکھا نہیں کوئی جنت کا پھل ہم نے دیکھا نہیں اپنے اجداد کا کوئی آج اور نہ کل کیوں اتار گئی ہم پہ ایسی ہی بھوک اور ...

مزید پڑھیے

تلاش

دسمبر کے دالان میں اس چمکتی ہوئی آفتابی تمازت کو روح میں اتارے کرن در کرن تم کسے دیکھتی ہو خنک سی ہواؤں کی ان سرسراتی ہوئی انگلیوں میں جو اک لمس محسوس کرنے لگی ہو وہ کیا ہے کوئی واہمہ ہے؟ حقیقت ہے کوئی؟ کہ اک خواب ہے جو سر راہ آ کر ملا ہے شب و روز مصروفیت میں گھری ہو کوئی کام بھی ...

مزید پڑھیے

میں جس کو راہ دکھاؤں وہی ہٹائے مجھے

میں جس کو راہ دکھاؤں وہی ہٹائے مجھے میں نقش پا ہوں کوئی خاک سے اٹھائے مجھے مہک اٹھے گی فضا میرے تن کی خوشبو سے میں عود ہوں کبھی آ کر کوئی جلائے مجھے چراغ ہوں تو فقط طاق کیوں مقدر ہو کوئی زمانے کے دریا میں بھی بہائے مجھے میں مشت خاک ہوں صحرا مری تمنا ہے ہوائے تیز کسی طور سے اڑائے ...

مزید پڑھیے

کتنی حسرت سے تری آنکھ کا بادل برسا

کتنی حسرت سے تری آنکھ کا بادل برسا یہ الگ بات مرا شعلۂ غم بجھ نہ سکا تیرا پیکر ہے وہ آئینہ کہ جس کے دم سے میں نے سو روپ میں خود اپنا سراپا دیکھا ایک لمحے کے لیے چاند کی خواہش کی تھی عمر بھر سر پہ مرے قہر کا سورج چمکا جب بھی احساس اماں باعث تسکیں ٹھہرا ان گنت خطروں کی آہٹ سے دل ...

مزید پڑھیے

جو ابھرے وقت کے سانچے میں ڈھل کے

جو ابھرے وقت کے سانچے میں ڈھل کے وہ ڈوبے ایک عالم کو بدل کے غم منزل تجھے شاید خبر ہو یہاں پہنچے ہیں کتنے کوس چل کے اب ان کے پاس آنسو ہیں نہ آہیں جو غم کی آگ سے نکلے ہیں جل کے زمیں کی ایک ہی جنبش بہت ہے زمیں سے آ ملیں گے یہ محل کے ہمیں نے راستوں کی خاک چھانی ہمیں آئے ہیں تیرے پاس ...

مزید پڑھیے

ہم بھی ناداں ہیں سمجھتے ہیں کہ چھٹ جائے گی

ہم بھی ناداں ہیں سمجھتے ہیں کہ چھٹ جائے گی تیرگی نور کے پیکر میں سمٹ جائے گی لوگ کہتے ہیں محبت سے تمنا جس کو میری شہ رگ اسی تلوار سے کٹ جائے گی تم جسے بانٹ رہے ہو وہ ستم دیدہ زمیں زلزلہ آئے گا کچھ ایسا کہ پھٹ جائے گی قید ہوں گنبد بے در میں مری اپنی صدا مجھ تک آئے گی مگر آ کے پلٹ ...

مزید پڑھیے

چھپائے دل میں ہم اکثر تری طلب بھی چلے

چھپائے دل میں ہم اکثر تری طلب بھی چلے کبھی کبھی ترے ہم راہ بے سبب بھی چلے نمود گل کے کرشمے سدا جلو میں رہے نسیم بن کے چلے ہم چمن میں جب بھی چلے جلاؤ خون شہیداں سے ارتقا کے چراغ یہ رسم چلتی رہی ہے یہ رسم اب بھی چلے سنا ہے جادہ نوردان صبح کے ہم راہ بہ فیض وقت کئی رہروان شب بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5061 سے 6203