قومی زبان

میری سوچ لرز اٹھی ہے دیکھ کے پیار کا یہ عالم

میری سوچ لرز اٹھی ہے دیکھ کے پیار کا یہ عالم تیری آنکھوں سے ٹپکا ہے آنسو بن کر میرا غم دل کو ناز ہے سلجھاؤ پر لیکن میں نے دیکھا ہے سلجھانے سے اور الجھا ہے تیری زلف کا اک اک خم دن کے بولتے ہنگامے میں اکثر سویا رہتا ہے کروٹ لے کر جاگ اٹھتا ہے رات کی چپ میں تیرا غم ہجر کے سنولائے ...

مزید پڑھیے

زمیں سے تا بہ فلک کوئی فاصلہ بھی نہیں

زمیں سے تا بہ فلک کوئی فاصلہ بھی نہیں مگر افق کی طرف کوئی دیکھتا بھی نہیں سنا ہے سبز روا اوڑھ لی چمن نے مگر ہوا کے زور سے برگ خزاں گرا بھی نہیں بہت بسیط ہے دشت جفا کی تنہائی قریب و دور کوئی آہوئے وفا بھی نہیں مجھے تو عہد کا آشوب کر گیا پتھر میں درد مند کہاں درد آشنا بھی ...

مزید پڑھیے

ہر چند مرا غم غم نادیدہ رہا ہے

ہر چند مرا غم غم نادیدہ رہا ہے سایہ سا مگر روح پہ لرزیدہ رہا ہے چبھتے ہی رہے خار الم دست طلب میں راحت وہ گل جاں ہے کہ ناچیدہ رہا ہے ڈوبے ہیں یہاں کتنی امنگوں کے سفینے طوفان کا مسکن دل شوریدہ رہا ہے بازیچۂ فردوس سے کیا بہلے گا وہ دل معراج‌‌ طرب پر بھی جو رنجیدہ رہا ہے اے منزل ...

مزید پڑھیے

ترے بازوؤں کا سہارا تو لے لوں مگر ان میں بھی رچ گئی ہے تھکن

ترے بازوؤں کا سہارا تو لے لوں مگر ان میں بھی رچ گئی ہے تھکن میں صحرا سے بچ کر چمن میں تو آؤں پہ صحرا سے کچھ کم نہیں یہ چمن مری زیست کی راہ تاریک تھی چاند بن کر تم آئے تو روشن ہوئی یہ راہ آج پھر تیرہ و تار ہے غالباً چاند کو لگ گیا ہے گہن ہر اک سمت ناگن کی صورت لپکتی ہوئی تیرگی سے ...

مزید پڑھیے

ترے بازوؤں کا سہارا تو لے لوں مگر ان میں بھی رچ گئی ہے تھکن

ترے بازوؤں کا سہارا تو لے لوں مگر ان میں بھی رچ گئی ہے تھکن میں صحرا سے بچ کر چمن میں تو آؤں پہ صحرا سے کچھ کم نہیں یہ چمن مری زیست کی راہ تاریک تھی چاند بن کر تم آئے تو روشن ہوئی یہ رہ آج پھر تیرہ و تار ہے غالباً چاند کو لگ گیا ہے گہن ہر اک سمت ناگن کی صورت لپکتی ہوئی تیرگی سے ...

مزید پڑھیے

بجا کہ کشتی ہے پارہ پارہ تھپیڑے طوفاں کے کھا رہا ہوں

بجا کہ کشتی ہے پارہ پارہ تھپیڑے طوفاں کے کھا رہا ہوں مگر یہ اعزاز کم نہیں ہے کہ آپ ہی اپنا ناخدا ہوں کبھی تو میں نے دھنک دیے ہیں پہاڑ بھی اپنے راستے کے کبھی میں خود اپنے راستے کی مہیب دیواریں ہو گیا ہوں مجھے ہے شب خوں کی فکر لیکن انہیں ہلاکت کا ڈر نہیں ہے مرے قبیلے کے لوگ سوتے ...

مزید پڑھیے

تتلیاں رنگوں کا محشر ہیں کبھی سوچا نہ تھا

تتلیاں رنگوں کا محشر ہیں کبھی سوچا نہ تھا ان کو چھونے پر کھلا وہ راز جو کھلتا نہ تھا! تو وہ آئینہ ہے جس کو دیکھ کر روشن ہوا میں نے اپنے آپ کو سمجھا کہاں دیکھا نہ تھا! چاند بن کر تو مرے آنگن میں اترا ہے ضرور نور اتنا بام و در پر آج تک بکھرا نہ تھا! کون سے عالم میں میں نے آج دیکھا ہے ...

مزید پڑھیے

وہ کاروان بہاراں کہ بے درا ہوگا

وہ کاروان بہاراں کہ بے درا ہوگا سکوت غنچہ کی منزل پہ رک گیا ہوگا بجا کہ دل نہیں زندان بے خودی کا اسیر مگر یہ قید انا سے کہاں رہا ہوگا شعاع مہر کی نظارگی کے شوق میں چاند فلک کے دیدۂ بے خواب میں ڈھلا ہوگا کچھ ایسی سہل نہیں فن کی منفرد تخلیق خدا بھی میری طرح پہروں سوچتا ہوگا میں ...

مزید پڑھیے

مجھے کیا پڑی ہے

ہے ساون کی پہلی جھڑی اور زمیں ان گنت آنسوؤں سے دھلی ہے مگر ایک منظر بھی نکھرا نہیں ہے پرندوں کی چہکار میں بھی اداسی گھلی ہے مجھے کیا ضرورت ہے کلیوں کے چہرے پہ مسکان کی چاندنی میں کھلاؤں ہتھیلی پہ آکاش کی آرزو کے ستارے سجاؤں مجھے کیا پڑی ہے بلاؤں بہاروں کے مطرب سکھاؤں انہیں ایک ...

مزید پڑھیے

تمہارے لفظ

اب بھی آیتوں کی طرح اترتے ہیں اور دل ان کی ترتیل کرتا رہتا ہے کتاب مکمل ہی نہیں ہوتی

مزید پڑھیے
صفحہ 5062 سے 6203