قومی زبان

روح کے جلتے خرابے کا مداوا بھی نہیں

روح کے جلتے خرابے کا مداوا بھی نہیں درد وہ بادل ہے جو کھل کر برستا بھی نہیں شہر کے زنداں نے پہنا دیں وہ زنجیریں مجھے میری وحشت کو میسر دل کا صحرا بھی نہیں جس میں بہہ جائے سفینے کی طرح میرا وجود میری آنکھوں سے رواں غم کا وہ دریا بھی نہیں کرب کا سورج سوا نیزے پہ ہے ٹھہرا ہوا دل ...

مزید پڑھیے

ہیولے

سمندروں کے مہیب طوفاں میرے عزائم کے ساحلوں سے شکست کھا کر پلٹ چکے ہیں میں کوہساروں کی ہستبوں سے بھی آسماں کا وقار بن کر الجھ چکا ہوں میں جنگلوں کی ہواؤں کا زور توڑ دیتا رہا ہوں اپنے نفس کی شوریدہ سطوتوں سے مرے تفکر کی گرم رفتاریوں سے لرزاں رہے ہیں صحراؤں کے بگولے یہ ذکر ہے اس ...

مزید پڑھیے

گلدان

سالہا سال بیابان گماں کو سینچا خون ادراک سے آب جاں سے تب کہیں اس میں ہویدا ہوئے افکار کے پھول پھول جن کو مرے بیٹے تری فرحت کے لئے شیشۂ روح کے گل داں میں سجا لایا ہوں اور چپکے سے یہ گل داں میں نے رکھ دیا ہے تری پڑھنے کی نئی میز پہ یوں جیسے اس میز کی تکمیل تھی اس کی محتاج اور سمجھتا ...

مزید پڑھیے

بھول گیا خشکی میں روانی

بھول گیا خشکی میں روانی دریا میں تھا کتنا پانی گونج رہی ہے سناٹے میں ایک صدا جانی پہچانی سردی گرمی بارش پت جھڑ ساری رتیں ہیں آنی جانی یادیں ہاتھ چھڑا لیتی ہیں ہو جاتی ہے بات پرانی دونوں جلے بھی دونوں بجھے بھی ایک ہوئے جب آگ اور پانی پھر دکھ جی کو لگ جاتا ہے ساتھ نہیں دیتی ...

مزید پڑھیے

تہ افلاک ہی سب کچھ نہیں ہے

تہ افلاک ہی سب کچھ نہیں ہے زمیں کی خاک ہی سب کچھ نہیں ہے کئی سچائیاں ہیں ماورا بھی حد ادراک ہی سب کچھ نہیں ہے دل و جاں کی بھی نسبت ہے جنوں سے قبائے چاک ہی سب کچھ نہیں ہے یہ گل بوٹے بہت دل کش ہیں لیکن سر پوشاک ہی سب کچھ نہیں ہے ابھی ہے ابتدا مشق ستم کی لب سفاک ہی سب کچھ نہیں ہے

مزید پڑھیے

نگاہ تشنہ سے حیرت کا باب دیکھتے ہیں

نگاہ تشنہ سے حیرت کا باب دیکھتے ہیں بساط آب پہ رقص سراب دیکھتے ہیں اکھڑتے خیموں پہ کیا قہر شام ٹوٹا ہے لہو میں ڈوبا ہوا آفتاب دیکھتے ہیں نہیں ہے قطرے کی اوقات بھی جنہیں حاصل وہ کم نظر بھی سمندر کے خواب دیکھتے ہیں انہیں تو وقت کی گردش اسیر کر بھی چکی وہ اب گذشتہ زمانے کا خواب ...

مزید پڑھیے

پچھلی رفاقتوں کا نہ اتنا ملال کر

پچھلی رفاقتوں کا نہ اتنا ملال کر اپنی شکستگی کا بھی تھوڑا خیال کر ڈس لے کہیں تمہیں کو نہ موقع نکال کر رکھو نہ آستیں میں کوئی سانپ پال کر شرمندگی کا زخم نہ گہرا لگے کہیں کچھ اس قدر دراز نہ دست سوال کر میری طرح نہ تو بھی گھٹن کا شکار ہو خود اپنی خواہشوں کو نہ یوں پائمال کر جو آپ ...

مزید پڑھیے

گزرتے دن کے دکھوں کا پتہ تو دیتا تھا

گزرتے دن کے دکھوں کا پتہ تو دیتا تھا وہ شام ڈھلنے سے پہلے صدا تو دیتا تھا ہجوم کار میں پل بھر بھی اک بہانے سے وہ اپنے قرب کا جادو جگا تو دیتا تھا شریک راہ تھا وہ ہم سفر نہ تھا پھر بھی قدم قدم پہ مجھے حوصلہ تو دیتا تھا مجھی کو ملتی نہ تھی فرصت پذیرائی وہ اپنے سچ کا مجھے آئنہ تو ...

مزید پڑھیے

دماغ و دل پہ ہو کیا اثر اندھیرے کا

دماغ و دل پہ ہو کیا اثر اندھیرے کا کہ دیدہ ور بھی ہے اب ہم سفر اندھیرے کا دیار نور میں ہر سمت خاک اڑنے لگی وجود ہونے لگا معتبر اندھیرے کا یہ راستہ تو چراغوں سے جگمگاتا ہے ادھر سے ہونے لگا کیوں گزر اندھیرے کا اب اس کے پھولنے پھلنے میں دن ہی کتنے ہیں جڑیں جما تو چکا ہے شجر اندھیرے ...

مزید پڑھیے

بے نوائی نے مری حد سے گزر جانے دیا

بے نوائی نے مری حد سے گزر جانے دیا وہ جو مجھ سے چاہتا تھا میں نے کر جانے دیا پھر کریدا اور جی بھر کر نمک پاشی بھی کی پہلے اس نے میرے دل کے زخم بھر جانے دیا روک کر رستہ بتا دیتے کہ خود کو جان لے تم نے کیسے اس کو خود سے بے خبر جانے دیا اب خطا کاری سے کوئی روکنے والا نہیں روح کی زندہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5060 سے 6203