قومی زبان

نو منزلہ بلڈنگ

زمیں کا رقص پیہم سرد لوہے کی نکیلی کیل، زنجیر کشش، شانے اور اک نو منزلہ بلڈنگ اور اس نو منزلہ بلڈنگ کو اپنے ناتواں شانوں کی باقی ماندہ قوت سے سنبھالے اس فسردہ شہر کی سب سے بڑی فٹ پاتھ پر ٹانگیں پسارے ہر گزرتے واہمے کو تکنے والا میں یہ برفیلی ہوا تھی یا کوئی لمحہ صبا رفتار لمحہ ...

مزید پڑھیے

تو مرے عشق کی روداد نہیں سمجھے گا

تو مرے عشق کی روداد نہیں سمجھے گا کیوں محبت میں ہوں برباد نہیں سمجھے گا عمر بھر قید میں رہنے کی اذیت کو کبھی جو پرندہ رہا آزاد نہیں سمجھے گا عہد نو سے کوئی امید لگانا ہے فضول اب کوئی مقصد فریاد نہیں سمجھے گا دوستی کیا ہے فقط دوست سمجھ سکتا ہے جس نے مطلب سے کیا یاد نہیں سمجھے ...

مزید پڑھیے

چمن میں اب کوئی اے دوست زندگی نہ رہی

چمن میں اب کوئی اے دوست زندگی نہ رہی گلوں میں رنگ بہاروں میں دل کشی نہ رہی کہاں بنائیں نشیمن قفس سے چھٹنے پر کہ اب چمن میں کوئی ایسی شاخ ہی نہ رہی غم حیات نے سارا لہو نچوڑ لیا چراغ خانۂ مفلس میں روشنی نہ رہی تمہارے سامنے ہر حال میں جئے لیکن تمہارے بعد تمنائے زندگی نہ رہی شراب ...

مزید پڑھیے

مرا دل بھی مرا اب دل کہاں ہے

مرا دل بھی مرا اب دل کہاں ہے خدا جانے مری منزل کہاں ہے تلاطم ہی تلاطم ہیں نظر میں مری کشتی مرا ساحل کہاں ہے بظاہر ٹوٹ کر ملتا ہے لیکن وہ پہلا سا خلوص دل کہاں ہے تمازت خیز ہے راہ مسائل بتاؤ رہبرو منزل کہاں ہے نئے موسم نئی رنگینیاں ہیں مگر وہ رونق محفل کہاں ہے زمانہ کہہ رہا ہے ...

مزید پڑھیے

تمہاری بزم میں جانے یہ کیسا عالم ہے

تمہاری بزم میں جانے یہ کیسا عالم ہے چراغ جتنے زیادہ ہیں روشنی کم ہے روش روش پہ ہیں خوں ریزیوں کے ہنگامے قدم قدم پہ یہاں زندگی کا ماتم ہے چمن میں پھول کھلے ہیں مگر اداس اداس بہار آئی ہے لیکن خزاں کا عالم ہے وہ آنکھ آنکھ نہیں جس میں سیل اشک نہ ہو وہ پھول خار ہے جو بے نیاز شبنم ...

مزید پڑھیے

زہے زندہ دلی غم کی گل افشانی نہیں جاتی

زہے زندہ دلی غم کی گل افشانی نہیں جاتی کچھ ایسے اشک بھی ہیں جن کی تابانی نہیں جاتی تلاطم خیز موجوں کا تلاطم تھم گیا لیکن جو برپا ہے کناروں پر وہ طغیانی نہیں جاتی مرے رہبر مجھے یہ کونسی منزل پہ لے آئے کہ مجھ سے صورت منزل بھی پہچانی نہیں جاتی ہزاروں آشیانے پھونک ڈالے صحن گلشن ...

مزید پڑھیے

ایک ہی دشت تھا وہ بھی نہ کھنگالا میں نے

ایک ہی دشت تھا وہ بھی نہ کھنگالا میں نے دل پہ لینا نہیں تھا پاؤں کا چھالا میں نے گھر کے ڈھ جانے میں غفلت مری شامل تھی مگر سارا ملبہ در و دیوار پہ ڈالا میں نے کاش میں اپنے عزا داروں کو بتلا سکتا کیسا دکھ تھا وہ جسے موت سے ٹالا میں نے آخر کار غلامی سے بغاوت کر دی اور زنجیر کو ...

مزید پڑھیے

اسی کو دوست رکھا دوسرا بنایا نہیں

اسی کو دوست رکھا دوسرا بنایا نہیں کئی بناتے ہیں میں نے خدا بنایا نہیں یہ بستی رات کا کس طرح سامنا کرے گی یہاں کسی نے بھی دن میں دیا بنایا نہیں پتا کرو کہ یہ نقاش کس قبیل کا ہے پرندہ جب بھی بنایا رہا بنایا نہیں یہ لوگ ظلم کما کر شب ایسے سوتے ہیں خدا نے جیسے کہ روز جزا بنایا ...

مزید پڑھیے

خمیدہ راہ کو سیدھا غلط بتایا ہے

خمیدہ راہ کو سیدھا غلط بتایا ہے کسی نے اندھوں کو رستہ غلط بتایا ہے ضرور چور تھا اس مرنے والے کے دل میں تبھی خزانے کا نقشہ غلط بتایا ہے میں ایک بات بتاتا مگر بزرگوں نے ہر ایک بات بتانا غلط بتایا ہے یہاں پہ رہتا نہیں کوئی قیس نام کا شخص کسی نے آپ کو صحرا غلط بتایا ہے یہ زیست ...

مزید پڑھیے

کوئی تو راہ سجھا دور تک اندھیرا ہے

کوئی تو راہ سجھا دور تک اندھیرا ہے کہاں ہے میرے خدا دور تک اندھیرا ہے مرا خیال تھا کچھ آگے روشنی ہو گی میں جانتا نہیں تھا دور تک اندھیرا ہے کسی کی کھوج میں نکلا ہوں مہر و ماہ لیے ہے التماس دعا دور تک اندھیرا ہے نہ ہوگا طے یہ سفر صرف روشن آنکھوں سے چراغ دل بھی جلا دور تک اندھیرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5056 سے 6203