قومی زبان

فکر سوئی ہے سر شام جگا دی جائے

فکر سوئی ہے سر شام جگا دی جائے ایک بجھتی سی انگیٹھی کو ہوا دی جائے کسی جنگل میں اگر ہو تو بجھا دی جائے کیسے تن من میں لگی آگ دبا دی جائے تلخی زیست کی شدت کا تقاضہ ہے یہی ذہن و دل میں جو مسافت ہے گھٹا دی جائے تیرگی شب کی بسی جائے ہے ہستی میں مری صبح کو جا کے یہ روداد سنا دی ...

مزید پڑھیے

ہم زیست کی موجوں سے کنارا نہیں کرتے

ہم زیست کی موجوں سے کنارا نہیں کرتے ساحل سے سمندر کا نظارہ نہیں کرتے ہر شعبۂ ہستی ہے طلب گار توازن ریشم سے کبھی ٹاٹ سنوارا نہیں کرتے دریا کو سمجھنے کی تمنا ہے تو پھر کیوں دریا کے کنارے سے کنارا نہیں کرتے دستک سے علاقہ رہا کب شیش محل کو خوابیدہ سماعت کو پکارا نہیں کرتے ہم فرط ...

مزید پڑھیے

ہر ایک لمحۂ غم بحر بیکراں کی طرح

ہر ایک لمحۂ غم بحر بیکراں کی طرح کسی کا دھیان ہے ایسے میں بادباں کی طرح نسیم صبح یہ کہتی ہے کتنی حسرت سے کوئی تو باغ میں مل جائے باغباں کی طرح ہے وہ تپش ترے پلکوں کے شامیانے میں کہ اب تو دھوپ بھی لگتی ہے سائباں کی طرح ہر ایک موڑ پہ ملتے ہیں ہم خیال مگر کہیں تو کوئی ملے مجھ کو ہم ...

مزید پڑھیے

کبھی انگڑائی لے کر جب سمندر جاگ اٹھتا ہے

کبھی انگڑائی لے کر جب سمندر جاگ اٹھتا ہے مرے اندر پرانا اک شناور جاگ اٹھتا ہے نشیمن گیر ہیں طائر بھلا سمجھیں تو کیا سمجھیں وہ کیفیت کہ جب شاہیں کا شہپر جاگ اٹھتا ہے میں جب بھی کھینچتا ہوں ایک نقشہ روز روشن کا نہ جانے کیسے اس میں شب کا منظر جاگ اٹھتا ہے زمانہ گامزن ہے پھر انہی ...

مزید پڑھیے

کیا ہے میں نے ایسا کیا کہ ایسا ہو گیا ہے

کیا ہے میں نے ایسا کیا کہ ایسا ہو گیا ہے مرا دل میرے پہلو میں پرایا ہو گیا ہے وہ آئے تو لگا غم کا مداوا ہو گیا ہے مگر یہ کیا کہ غم کچھ اور گہرا ہو گیا ہے سواد شب ترے صدقے کچھ ایسا ہو گیا ہے بھنور بھی دیکھنے میں اب کنارا ہو گیا ہے میں ان کی گفتگو سے عالم سکتہ میں گم تھا وہ سمجھے ان ...

مزید پڑھیے

ماسوا

اسے محسوس کرتا ہوں نسیم صبح کے جھونکوں میں سر سر کے تھپیڑوں میں اماوس کے اندھیروں میں مہ کامل کے شب افروز اجالوں میں اسے محسوس کرتا ہوں پپیہے کی پکاروں میں تھرکتے مور کی دل کش اداؤں میں کسی بے چین بلبل کے ترنم میں کبھی نوخیز کلیوں کے تبسم میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے اسے محسوس ...

مزید پڑھیے

ایک سمندر آنسوؤں کا بھر چکا کمرے میں وہ

ایک سمندر آنسوؤں کا بھر چکا کمرے میں وہ اپنی بربادی کا ماتم کر چکا کمرے میں وہ اف یہ سناٹا یہ تاریکی یہ تنہائی کا خوف تیرے بن جیتے ہی جی ہے مر چکا کمرے میں وہ مجھ کو کچھ ایسا لگا کہ مر کے زندہ ہو گیا اپنے ہی سائے سے جیسے ڈر چکا کمرے میں وہ اب نہ بولو آپ کچھ اور نا ہی اب بولے ...

مزید پڑھیے

جسم کے اس کھنڈر کی تنہائی

جسم کے اس کھنڈر کی تنہائی اور یہ رات بھر کی تنہائی ایک تصویر بھی نہیں گھر میں اف یہ دیوار و در کی تنہائی کوئی آہٹ نہ کوئی سایہ ہے ہر قدم ہے سفر کی تنہائی ایک عالم کو ہے سمیٹے ہوئے میری فکر نظر کی تنہائی میری سانسوں میں بس گئی جیسے جان و دل کی جگر کی تنہائی کتنی بیزار ہے یہ ...

مزید پڑھیے

مرے دکھ کا تو اندازہ لگا دے

مرے دکھ کا تو اندازہ لگا دے خوشی کو اپنی خود ہی تو مٹا دے ہوا اترائے پھرتی ہیں جو خود پر اگر ہمت ہو سورج کو بجھا دے ستارے سسکیاں بھرتے ہے شب بھر کبھی تو آنکھ بھی غم کا پتہ دے دل بیمار کو رشک مسیحا جو ہو محبوب اب ایسی دعا دے مقابل سے چلا یہ کون اٹھ کر کے جیسے شمع دل کوئی بجھا دے

مزید پڑھیے

آئنہ روٹھ گیا ہے ترے جانے کے بعد

آئنہ روٹھ گیا ہے ترے جانے کے بعد اک اندھیرا سا بچھا ہے ترے جانے کے بعد کس قدر ٹوٹ کے برسے ہیں یہ بادل غم کے آسماں چیخ اٹھا ہے ترے جانے کے بعد دل کے ٹکڑے ہوئے برسات ہوئی اشکوں کی کیا کہوں کیا کیا ہوا ہے ترے جانے کے بعد ذہن بھی چپ ہے زباں چپ ہے نظر بھی چپ ہے ہم نے بھی کچھ نہ کہا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5049 سے 6203