فکر سوئی ہے سر شام جگا دی جائے
فکر سوئی ہے سر شام جگا دی جائے ایک بجھتی سی انگیٹھی کو ہوا دی جائے کسی جنگل میں اگر ہو تو بجھا دی جائے کیسے تن من میں لگی آگ دبا دی جائے تلخی زیست کی شدت کا تقاضہ ہے یہی ذہن و دل میں جو مسافت ہے گھٹا دی جائے تیرگی شب کی بسی جائے ہے ہستی میں مری صبح کو جا کے یہ روداد سنا دی ...